سوال
میرے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے انکا ایک مکان تھا جسکی مالیت تقریبا 14 لاکھ روپے ہے ، ان کے ورثاء میں ایک بیوی، 3 بٹیاں اور 02 بیٹے ہیں ۔ہر ایک کے حصے میں کتنی رقم آئے گی شرعی رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ:شہناز:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ذکر کیا گیا تو کل مال وراثت کے 08 حصے کئے جائیں گے جس میں سے ایک حصہ بیوی کو اسی طرح ایک،ایک حصہ ہر بیٹی کو اور دو ،دو حصے ہر بیٹے کو ملیں گے ۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ
مسئلہ :8
مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
1/8 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
1 2 2 1 1 1
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو مبلغ یعنی 08 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11 ربیع الاول1441 ھ/09 نومبر 2019ء