ایک بیوی، والدہ ، چار بہنیں اور چار بھائی
    تاریخ: 14 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1032

    سوال

    میرے بھائی کا وصال ہوچکا ہے ورثاء میں ایک بیوی، والدہ ، چار بہنیں اور چار بھائی ہیں ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرکے بتادیں کہ کس کا کتنا حصہ ہوگا ؟ اور ایک لاکھ میں ایک مثال کے ساتھ سمجھا دیں۔

    سائل: ڈاکٹر محمد ایاز : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث (یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد مالِ وراثت کو 144حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے مرحوم کی بیوی کو 36 حصے، والدہ کو 24 حصے ، ہر بھائی کو الگ الگ 14 حصے اور ہر بہن کو الگ الگ 7 حصے ملیں گے۔مثلا اگر ترکہ ایک لاکھ روپے ہیں تو بیوی کا حصہ 25000، والدہ کا16667، ہر بھائی کا الگ الگ 9722،اور ہر بہن کا الگ الگ 4861بنے گا۔

    نوٹ: مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 جمادی الاولٰی 1443 ھ/09 دسمبر2021 ء