ایک بیوی، ایک بیٹی ، چار بہنیں اور ایک بھائی
    تاریخ: 13 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1029

    سوال

    ایک شخص کا انتقال ہوا ، ورثاء میں ایک بیوی، ایک بیٹی ، چار بہنیں اور ایک بھائی ہے۔بیٹا کوئی نہیں ہے والدین کا پہلے انتقال ہوچکا ہے، وراثت کی شرعی تقسیم فرمادیں۔

    سائل:وسیم : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا اور ان ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کو 16 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جس میں مرحوم کی بیوی کو 2 حصے، بیٹی کو 8 حصے اورہر بہن کو کو الگ،الگ 1 حصہ اوربھائی کو دو حصے ملیں گے۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ :16=2x8

    مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹی بہن بہن بہن بہن بھائی

    1/8 1/2 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

    1 4 3

    2 8 1 1 1 1 2

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء :12)

    اگر بیٹی صرف ایک ہو تو اس کے بارے میں ارشاد ہے: وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان :اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    نوٹ: رقم کی صورت میں تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کی مارکیٹ ویلیو لگواکر رقم کو مبلغ یعنی16پرتقسیم کردیں جو جواب آئےاسکو محفوظ کرلیں پھر اس محفوظ عدد کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 ذیقعدہ 1441 ھ/01 جولائی 2020 ء