ایک بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیاں
    تاریخ: 14 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1031

    سوال

    میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ، انکے ورثاء میں ایک بیوی(روبینہ)تین بیٹے(احمد، بلال،اویس)اور دو بیٹیاں (شیریں،عظمٰی)ہیں۔ والد صاحب کی جائیداد میں رقم اور ایک منزلہ گھر ہے۔ شرعی اعتبار سے کس کا کتنا حصہ بنتا ہے، رہنمائی فرمائیں ۔

    سائل: اویس صدیقی:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔

    مالِ وراثت کی تقسیم کی تفصیل:

    امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔

    نوٹ: مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 محرم الحرام 1443 ھ/24 اگست 2021 ء