ایک بیوی، پانچ بیٹے، چار بیٹی
    تاریخ: 14 مارچ، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 1030

    سوال

    1: میرا سوال یہ ہے کہ 2005-9-15کو میرے والد کا انتقال ہوا ،وراثت میں ایک دوکان ایک مکان چھوڑا۔ورثاء میں بیوی،پانچ بیٹے،اور چار بہنیں ہیں ۔سب بھائی ساتھ رہتے ہیں ۔ اب اس مکان کا حصہ کرنا ہے کس طرح کریں،ہماری رہنمائی فرمادیں۔

    2: 2009 میں ہم نے ایک اوردکان پگڑی کی لی،اور گھر کی عورتوں کا زیور لیا اور کہا کہ جتنے زیور لیا ہے اتنے ہی وزن کابعد میں بناکر دیں گے ۔وہ رقم وراثت سے دیں یا اپنی طرف سے۔

    سائل: سید عبد الخالق: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    :اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 16حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں مرحوم کی بیوی کو 2حصے، اسی طرح ہر بیٹے کو 2 حصے اورہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ : 16=2x8

    مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی

    1/8 عصبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

    1 7

    2 2 2 2 2 2 1 1 1 1


    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ : ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 16 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    2: جو زیور آپ لوگوں نے گھر کی عورتوں سے لیا وہ قرض ہے لہذا آپ پر اس کی ادائیگی لازم ہے جتنا لیا تھا بغیر کسی کمی بیشی کے واپس کرنا ہو گا ۔اور یہ ادائیگی مال وراثت میں سے نہیں کی جائے گی بلکہ جنہوں نے لیا ان پر ادائیگی لازم ہے۔تنویرالابصار مع الدر المختار پر ہے:الْقَرْضِ (ہُوَ) لُغَۃً: مَا تُعْطِیہِ لِتَتَقَاضَاہُ، وَشَرْعًا: مَا تُعْطِیہِ مِنْ مِثْلِیٍّ لِتَتَقَاضَاہُ :ترجمہ: لغت میں قرض کہتے ہیں وہ چیز جو اس لئے دی جائے تا کہ بعد میں اس کا تقاضا کیا جائے۔ اور شریعت میں قرض کہتے ہیں وہ مثلی (جیسے پیسے ، اناج وغیرہ) چیز جو اس لئے دی جائے تا کہ بعد میں اس کا تقاضا کیا جائے۔(تنویرالابصار مع الدر المختار باب القرض ج5ص161)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 ذوالقعدہ 1440 ھ/29 جولائی 2019 ء