ایک بیوی، آٹھ لڑکیاں اور تین لڑکے، تخارج
    تاریخ: 13 مارچ، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1028

    سوال

    میرے والد نے ورثاء میں ایک بیوی 3 لڑکے اور 8 لڑکیاں چھوڑی ہیں ۔ان میں سے ایک لڑکی والد کی حیات میں ہی انتقال کرچکی۔والد صاحب کا ایک مکان تھا جو کہ 28 لاکھ میں بیچ دیا ہے۔ لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے والد صاحب کی زندگی میں ہی اپنا حصہ لے لیا تھا جو کہ 28 لاکھ میں سے ملنے والے حصے سے بھی زیادہ ہے۔اب میرے چند ایک سوالات ہیں :

    1: ہر ایک کا وراثت سے کتنا حصہ ہوگا؟

    2: جس لڑکے نے والد کی زندگی میں لے لیا تھا وہ چاہتا ہے کہ اب مکان کے 28 لاکھ میں سے میں کچھ نہ لوں بلکہ دونوں بھائی لے لیں ۔

    3: اسی طرح بہنوں کا کہنا ہے کہ ہم بھی اپنے حصہ میں سے کچھ رکھ کر باقی بھائیوں کو دینا چاہتی ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    سائل: منیر احمد خان: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ جس بیٹی کا انتقال والد سے پہلے ہوا اسکا وراثت میں کچھ حصہ نہیں ہوگا اسکے علاوہ تمام ورثاء بشمول وہ بھائی جسکووالد نے زندگی میں مال دیا تھا وراثت کے حقدار ٹھہرے ہیں ۔ وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال وراثت کو 104حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔جس میں سے مرحوم کی بیوی کو 13 حصے ملیں گے ، تین بیٹوں میں سے ہر ایک کو 14 حصے ملیں گے اور سات بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 7 حصے ملیں گے۔ 28 لاکھ روپے میں سے رقم کی صورت میں تقسیم اس طرح ہوگی کہ بیوی کو 350000 روپے ، ہر بیٹے کو 376923 روپے ،اور ہر بیٹی کو 188462روپے ملیں گے۔

    مسئلہ : 104=13x8

    مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی

    1/8 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

    1 7

    13 14 14 14 7 7 7 7 7 7 7


    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    2:وراثت سے دستبرداری کوئی چیز نہیں ، کیونکہ میراث اور وراثت شریعت کا حق ہے ، اللہ تعالیٰ نےیہ حق مقرر فرمایا ہے ، لہذا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہ ہوگا حتیٰ کہ ورثاء صراحتاََ کہہ دیں کہ ہم اپنے حق سے دست بردار ہوتے ہیں تب بھی وراثت میں انکی ملکیت ختم نہ ہوگی۔ البتہ اگر کوئی وارث وراثت سے نہ لینا چاہے تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ مال وراثت میں سے کچھ رقم مثلا چند سو روپے یا چند ہزار لے کر باقی چھوڑ دے۔یا ساری رقم لے کر بھائیوں میں تقسیم کردے۔شامی میں ہے:التخارج تَفَاعُلٌ مِنْ الْخُرُوجِ وَهُوَ فِي الِاصْطِلَاحِ تَصَالُحُ الْوَرَثَةِ عَلَى إخْرَاجِ بَعْضِهِمْ عَنْ الْمِيرَاثِ عَلَى شَيْءٍ مِنْ التَّرِكَةِ عَيْنٍ أَوْ دَيْنٍ :ترجمہ:تخارج باب تفاعل سے ہے خروج سے نکلا ہے اور اصطلاح شرع میں ورثاء میں سے بعض ورثاء کا کسی چیز (کچھ رقم یا کوئی خاص چیز)پرصلح کرکے باقی وراثت سے خود کو دستبردار کرلینے کا نام تخارج ہے ۔(شامی کتاب الفرائض باب المخارج جلد 6ص811)

    3:اسی طرح بہنیں بھی چاہیں تو کچھ رقم لے کر باقی بھائیوں کے لئے چھوڑ سکتی ہیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 ربیع الثانی 1441 ھ/19 دسمبر 2019ء