زوجہ، تین لڑکے، تین لڑکیاں

    zauja teen larkay teen larkiyan

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 1166

    سوال

    میرے شوہر کا انتقال ہوا ، انکی ملکیت میں ایک مکان تھا جو کہ ہم نے 29 لاکھ میں بیچا ۔جس میں سے ساڑھے 18 لاکھ کاا یک اورمکان لیا جو کہ میرے نام رجسٹرڈ ہے ، بقیہ پیسے اپنے تین بیٹوں اور تین بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کئے کہ دو بڑے بیٹوں کو ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے دئیے، چھوٹے بیٹے کو ساڑھے تین لاکھ روپے دیئے اس کے ساتھ ایک عدد رکشہ جوکہ میرے شوہر کا تھا دیا ۔ اسی طرح منجھلے بیٹے کو پیسوں کے ساتھ ایک عدد زیرو میٹر موٹر سائیکل بھی دی۔اور ہر بیٹی کو پچاس پچاس ہزار روپے دیئے ،اب میں یہ مکان اپنے چھوٹے بیٹے کو گفٹ کرنا چاہ رہی ہوں لیکن دوسرے بچے بھی حصہ کا تقاضا کررہے ہیں ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے مشورہ دیا جائے۔

    سائلہ: رابعہ خاتون: کورنگی کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ نے اپنے اعتبار سے جو تقسیم کی اور بیٹے اور بیٹیوں کو جو رقم یا دوسری چیزیں دی وہ شرعا درست نہیں ہے لہذا آپ پر لازم ہے کہ تمام لوگوں کو انکے شرعی حصوں کے مطابق انکا حصہ دیں ۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد مرحوم کے کل مال وراثت کو 72 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے بیوہ کو 9 حصے ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے ۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ:جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 72پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 ذوالحج 1440 ھ/28 اگست 2019 ء