مسجد کی جگہ میں مدرسہ اور اسکول چلانا کیسا
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 127

    سوال

    ایک ادارہ جو کہ مدرسہ اور مسجد کے لیے وقف کیا گیا ہے اور اس جگہ میں مدرسے کی تعلیم اور درس نظامی کی تعلیم دی جارہی ہے۔لیکن طلباء کی طرف سے کوئی خاصی دلچسپی نہیں دکھائی دے رہی ۔ایسے میں ادارے کا نقصان ہو رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ طلباء کا بھی نقصان ہو رہاہے۔ اس لیے ہم نے سوچا ہےکہ ہم جامعہ کے ساتھ عصری علوم کی کلاسز کا آغاز کردیں ۔جس سے طلباء میں دلچسپی پیدا ہوگی۔مکمل دورانیہ 5 گھنٹے کا ہوگا ۔جس میں سے تین گھنٹے اسکول کے لیے اور 2 گھنٹے درس نظامی کے لیے ہونگے۔کیاہم اس وقف شدہ جگہ پہ اسکول کی تعلیم دے سکتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے طلباء کی دلچسپی میں اضافہ ہو اور وہ درس نظامی کے تعلیم سے بھی فائدہ اٹھاسکیں ۔نیز وہ طلباء جن کا ذہن مذہبی نہیں ہے انھیں بھی اس عصری تعلیم کے ذریعے دین کی تعلیم کی طرف لایا جا سکے۔ہم واقف کو نہیں جانتے کہ اس سے اسکی اجازت لےسکیں ۔اسی صورت میں کیا حکم ہوگا ،برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟ سائل:عبداللہ:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں شرعاً اجازت نہیں،کیونکہ وہ جگہ مدرسہ کے لیے وقف ہوئی ۔جس میں مدرسہ سے متعلق ہی امور مثلاً حفظ وناظرہ ،درسی نظامی وغیرہ انجام دیے جائیں ۔اس کے علاوہ اگر دنیاوی تعلیم بالتبع شامل کرلی جائے،توکوئی حرج نہیں ۔

    البتہ دنیاوی تعلیم کو مقصودا صلی قرار دینا، یوں کہ پانچ گھنٹوں میں سے تین گھنٹے دنیاوی تعلیم کے لیے رکھنا ۔جبکہ دینی تعلیم جوکہ مدرسہ کا مقصود اصلی ہے اسے بالتبع قرار دینا یوں کہ مابقی وقت (دو گھنٹے )اس کے لیے رکھنا،کسی طور جائز نہیں ۔کہ اس میں وقف کو اس کے مقصود کے خلاف استعمال کرنا ہےجوکہ تغییر وقف ہے جس کی قطعاً اجازت نہیں صورتِ مستفسرہ میں ایسی جگہ پر بالاصل دینی تعلیم جاری رکھتے ہوئے بالتبع عصری تعلیم کا آغاز کرنا جائز ہے۔یعنی اصل درس نظامی اور مدرسے کی تعلیم ہو اور پھر اسکے ساتھ کچھ پیڑیڈز عصری علوم کے بھی رکھے جائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ عصری تعلیم پر زیادہ زور دیا جائے اوردینی تعلیم کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ یعنی جو سوال میں ذکر کیا گیا کہ تین گھنٹے عصری تعلیم کو اور دو گھنٹے دینی تعلیم کو تو یہ درست نہیں بلکہ دینی تعلیم کا وقت زیادہ رکھا جائے ۔ایسی صورت میں جو وقف کا مقصود(دینی تعلیم ) ہے وہ فوت ہوجائے گا ۔جب کہ وقف کو اسی پر برقرار رکھنا واجب ہے جس پروہ ہو ۔ وقف میں تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔

    فتاوٰ ی عالمگیری میں ہے:لایجوز تغییر الوقف۔ترجمہ: وقف میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔ (فتاوٰ ی عالمگیری،جلد:2،ص:490،دارالفکر بیروت)

    فتاوی شامی میں ہے: الواجب ابقاء الوقف علی ما کان علیہ۔ترجمہ: وقف کو اسی پر برقرار رکھنا واجب ہے جس پر وہ ہو۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:4،ص:388،دارالفکر بیروت)

    الاشباہ والنظائر میں ہے: التَّابِعُ تَابِعٌ ترجمہ:تابع تابع ہوتاہے۔(الاشباہ والنظائر،جلد:1،ص:102،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 12جمادی الاول1443 ھ/17دسمبر2021 ء