صدقے کی مکمل شرعی رہنمائی
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 129

    سوال

    صدقہ کس طرح کیا جائے اور صدقے کی کیا صورتیں ہیں ۔کچھ لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ ماش ثابت اور انڈے چوک میں یا رستے میں پھینک دیتے ہیں۔یا پھر گندے نالے یا گندے پانی میں پھینک دیتے ہیں۔کچھ لوگ گوشت بڑا یا چھوٹا کوڑے میں پھینک دیتے ہیں۔برائےکرم آپ بتائیں کیا ایسا کرنا درست ہے ؟

    سائل :محمد فاروق بخاری:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صدقات دو قسم کے ہوتے ہیں:1:صدقہ واجبہ 2:صدقہ نافلہ

    1:صدقہ واجبہ: وہ مال جس کا ادا کرنا ہر مسلمان عاقل بالغ پر واجب ہو۔اس کا وجوب کبھی انسان کیاپنی وجہ سے ہوتا ہے ،جیسے کسی نےشرعی نذر مانیکہ میرا یہ کام ہو گیا تو میں ایک بکرا اللہ کی راہ میں دوں گا تو کام ہو جانے پر اس کے ذمہ بکرا دینا واجب ہو گا ۔یوں ہی روزےتوڑنے کا کفارہ کہ اس کی شرائط پائے جانے کے ساتھ دینا ہو گا۔قسم اور ظہارکا کفارہ ۔ اورکبھی مکلف مسلمان پراس کا وجوب شریعت کی طرف ہوتا ہے جیسے زکوۃ،عشر ،صدقہ فطر وغیرہا۔

    صدقہ واجبہ کاحکم : ان عطیات کا مصرف صرف مسلمان شرعی فقیر ہے،اس کا مصرف غیرمسلم،غنی، اورسید نہیں بن سکتے۔

    2:صدقہ نافلہ: وہ مال جو ثواب کی نیت سے دیا جائے ،اور شریعت کی جانب سے واجب نہ ہو۔اور یہ مال اس طرح خرچ کیا جائے کہ وہ ضائع نہ ہو۔یعنی کسی ضرورتمند شخص کی مدد کردی جائے اگرچہ وہ غنی اور سید ہی کیوں نہ ہو،کھانا کھلا دیا جائے ،پانی وغیرہ کی سبیل لگادی جائے،مساجد ،مدارس کی تعمیرات اور انکے اخراجات میں خرچ کردیا جائے۔اسی طرح جانوروں کے دانے پانی کا انتظام بھی کیا جاسکتا ہے۔البتہ گوشت اور پھیپھڑے وغیرہ چیل اور کوّوں کو نہ ڈالا جائے کہ یہ فاسق جانور ہیں ۔کسی مقروض کا قرض اتارنے کے لیے اس کی مدد کردی جائے۔اسی طرح بکرے وغیرہ ذبح کرکے اسکا گوشت غریبوںمیں تقسیم کردیا جائے ۔اور اسی طرح ہر نیک اور جائز کا م جو لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے ہو اس میں یہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔

    لیکن جو سوال میں ذکر کیا گیا کہ اناج اور گوشت ضائع کردیا جاتا ہے ۔کوڑے میںاور گندے پانی وغیرہ میں پھینک دیتے ہیں ۔ توایسا کرنا،ناجائزوگناہ ہےکہ یہ مال کوضائع کرناہےاوربلاوجہ شرعی مال کوضائع کرنا،جائزنہیں ہے۔

    اسراف سے بچنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿ لَا تُسْرِفُوۡا اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡن﴾ترجمہ:اوربےجانہ خرچو،بےشک بےجا خرچنےوالےاسےپسندنہیں۔(سورۃ الانعام،پارہ8،آیت141)

    مال ضائع کرنے کےبارے میں رسول اللہ ﷺ کاارشادہے:ان اللہ كره لكم ثلاثاواضاعة المال، و كثرةالسؤال۔ترجمہ: بےشک اللہ تعالیٰ تمہارےلیےتین کاموں کوناپسندفرماتاہے(1)فضول باتیں(2)مال ضائع کرنا(3)سوالات کی کثرت۔(صحیح بخاری،کتاب الزکاۃ، جلد1، صفحہ200،مطبوعہ کراچی)

    اسی بارےمیں ایک اورحدیث پاک میں ہے: نهى النبی ﷺ عن اضاعةالمال ترجمہ:رسول اللہﷺنے مال کوضائع کرنےسےمنع فرمایا۔(صحیح بخاری،کتاب الزکاۃ،جلد1،صفحہ192،مطبوعہ کراچی)

    اگرکوئی چیزاس طرح پھینک دی جائے،جوکسی بھی مصرف میں استعمال نہ ہوسکے،تووہ اسراف ہے،چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے:” رہی صورت اخیرہ کہ محض بلاوجہ زیادت ہو،اوپرواضح ہولیاکہ یہاں تحقیق اسراف وحصول ممانعت،اضاعت پرموقوف ہے،تواس صورت میں دیکھناہوگاکہ پانی ضائع ہوایانہیں؟اگرہوا،مثلاًزمین پربہہ گیااورکسی مصرف میں کام نہ آیا،توضروراسراف ونارواہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد1، صفحہ989،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    فتاوی رضویہ میں سوال ہواکہ گاؤں کےافرادمرض کےدنوں میں(بطورصدقہ)سیاہ رنگ کابکراخریدکرلاتےہیں اوراس کےدونوں کانوں میں سورہ یسین اورسورہ ملک پڑھ کرپھونکتےہیں اورپھراسےگاؤں کےگردگھماپھراکرپہلےمقام پرلاکرذبح کردیتےہیں اوراس کی کھال اور ہڈیاں وہیں دفن کردیتے ہیں اورگوشت کوتقسیم کردیتےہیں؟تواس کاجواب دیتےہوئےاعلی حضرت علیہ الرحمۃ نےارشادفرماما:”کسی جانورکواللہ تعالیٰ کی رضاوخوشنودی کےلیےذبح کرکےاس کاگوشت مسلمانوں میں تقسیم کرنااوراسی طرح سورہ یسین اورسورہ ملک کی تلاوت کرنابہترین اور مستحسن اعمال ہیں،اللہ تعالیٰ کےاذن سےبلاومصیبت کوٹالنےکامؤثرذریعہ ہیں۔رہاکھال کودفن کردینےکامعاملہ،تویہ مال کوضائع کردینےکے مترادف ہے،جوجائزنہیں،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےاس ارشادگرامی کی وجہ سےکہ:’’بےشک اللہ تعالیٰ نےتمہارےلیے ان تین کاموں کوناپسندفرمایا(1)مال ضائع کرنا(2)زیادہ سوال کرنا(3)اِدھراُدھرکی بےہودہ اورلغوباتیں کرنا،لہذامناسب یہ ہےکہ بکرےکی کھال محتاجوں، ناداروں کوبطوراعانت وامداددےدی جائے۔“(فتاوی رضویہ،جلد24،صفحہ187تا188،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    فتاوی رضویہ میں اس شخص کےمتعلق سوال ہواکہ جس نے بکری کی کلیجی کوقبرمیں دفن کردیا ،تواس کےجواب میں اعلی حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نےارشادفرمایا:کلیجی دفن کرنامال ضائع کرناہےاوراضاعت مال ناجائزہے۔ (فتاوی رضویہ،جلد20، صفحہ455،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشا دفرماتے ہیں : ( گوشت) مساکین کو دیں ،چیل ،کوّوں کو کھلانا کوئی معنی نہیں رکھتا ، یہ فاسق ہیں اور کوّوں کی دعوت رسم ِ ہنود (یعنی ہندؤوں کی رسم ہے) (فتاوٰی رضویہ ،ج 20، ص 590،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحيح: ابو الحسنين مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:06ذوالقعدہ1442 ھ/04اگست 2021 ء