سوال
ایک عورت نے اپنا حمل ضائع کردیا کیونکہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا تھا ؟ اب اسکا کیا کفارہ ہوگا۔
سائلہ: نغمٰی :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر عورت کا حمل چار ماہ سے کم تھا تو اسکا کوئی کفارہ نہیں البتہ گناہ ہوگا اوراگرحمل چار ماہ یا اس سے زائد تھا توعورت کے عاقلہ( یعنی خاندان کے وہ لوگ جو ایسے قاتل کی طرف سے دیت ادا کرتے ہیں جو ان کے متعلقین میں سے ہے اور یہ دیت اصالۃ واجب ہوئی ہو) پر مرد اور اسکے عاقلہ کےلیےغرہ یعنی پانچ سو درہم(جسکی قیمت آج کلکے حساب سے تقریبا ایک لاکھ گیارہ ہزار نو سوبیاسی بنتی ہے) لازم ہونگے۔اگر عورت کے عاقلہ نہ ہوں تو عورت کے مال سے ایک سال کی مدت میں غرہ ادا کیا جائے گا ،اسکے علاوہ اگر حمل کی تخلیق ہوچکی تھی تو گناہ بھی ہوگا وگرنہ گناہ نہ ہوگا۔
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، فتاوٰی ہندیہ اور تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:واللفظ لہ (وَضَمِنَ الْغُرَّةَ عَاقِلَةُ امْرَأَةٍ) حُرَّةٍ فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهَا عَاقِلَةٌ فَفِي مَالِهَا فِي سَنَةٍ أَيْضًا صَدْرُ الشَّرِيعَةِ وَلَا تَأْثَمُ مَا لَمْ يَسْتَبِنْ بَعْضُ خَلْقِهِ (أَسْقَطَتْهُ مَيِّتًا) عَمْدًا (بِدَوَاءٍ أَوْ فِعْلٍ) كَضَرْبِهَا بَطْنَهَا (بِلَا إذْنِ زَوْجِهَا)ترجمہ:اور عورت کے عاقلہ غرہ کے ضامن ہونگے ایک سال میں اور اگر اسکے عاقلہ نہ ہوں تو اس عورت کے مال سے ایک سال میں غرہ ادا کیا جائے گا ۔ اور جب تک اسکی بعض تخلیق ظاہر نہ ہو اس وقت تک گناہ نہ ہوگا۔کسی حاملہ عورت نے دوا پی کر، یا کوئی اور تدبیر کر کے جیسے اپنے پیٹ پر ضرب لگا کر عمداً اپنے حمل کو ساقط کر دیا تو اگر بغیر اجازت شوہر ایسا کیا تو اس عورت کے عاقلہ پر غرہ یعنی پانچ سو درہم لازم ہوگا اور اگر عاقلہ نہ ہوں تو اس کے مال سے غرہ ایک سال میں ادا کیا جائے گا۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار ،کتاب الدیات،فصل فی الجنین جلد 6 ص591)
اسی میں ہے :وَفِي الْوَاقِعَاتِ: شَرِبَتْ دَوَاءً لِتُسْقِطَهُ عَمْدًا فَإِنْ أَلْقَتْهُ حَيًّا فَمَاتَ فَعَلَيْهَا الدِّيَةُ وَالْكَفَّارَةُ، وَإِنْ مَيِّتًا فَالْغُرَّةُ وَلَا تَرِثُ فِي الْحَالَيْنِ ترجمہ: اور واقعات میں ہے کسی عورت نےجان بوجھ کر حمل ساقط کرنے کے لیے دوا پی، پھر اس نے اس حمل کو زندہ جنا پھر وہ مرگیا تو اس پر دیت اور کفارہ ہے اور اگر مردہ جنا تو غرہ ہے ، اور عورت دونوں صورتوں میں وارث نہ ہوگی۔(ایضا)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12 رجب المرجب 1440 ھ/20 مارچ 2019 ء