سوال
ایک بچی اسکی شادی نہیں ہوئی اور اب اس کے پیٹ میں تین ماہ کا بچہ ہے جو کہ بد فعلی کے سبب ہوا ہے۔اور لڑکا مجرم ہے اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ لڑکی کا نکاح اس لڑکے سے کروائیں۔لہذا ایسی صورت میں حمل گرواسکتے ہیں یا نہیں؟
سائل :ندیم:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں حمل گرانا درست ہے۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شرعی عذر کی بناء پر چار ماہ سے قبل حمل گرانا جائز ہے اور صورتِ مسئولہ میں شرعی عذر یہ ہے کہ لڑکا مجرم ہے اور کوئی بھی شخص یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کی بیٹی کسی مجرم کا فراش بنے ۔لہذا ایسی صورت میں بدنامی سے بچنے کے سبب یہ حمل گرانا شرعاً جائز ہے۔ عذر کی بناء پر حمل ساقط کرنا جائز ہے اس بارے میں درمختار میں ہے: ویکره أن تسعی لإسقاط حملها، وجاز لعذر حیث لایتصور۔ ترجمہ:اور عورت کے لئے مکروہ ہے کہ وہ حمل ساقط کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر کوئی عذر ہوتو اسکی وجہ سے حمل ساقط کرنا جائز ہے،کیونکہ ابھی تک اسکی صورت نہیں بنی اسکے تحت شامی میں ہے:( قوله: ویکره الخ) أي مطلقًا قبل التصور و بعد علی ما اختاره في الخانیة کما قد مناه قبیل الا ستبراء، وقال: إلا أنّها لاتأثم إثم القتل. (قوله: وجاز لعذر) کالمرضعة إذا ظهربه الحبل وانقطع لبنها ولیس لأب الصبي ما یستأجر به الظئر وخاف هلاك الولد، وقدروا تلك المدة بمائة وعشرین یوماً، وجاز؛ لأنّه لیس بآدمي، وفیه صیانة الآدمي، خانیة(ملخصا) ترجمہ: عورت کو حمل گرانے کی کوشش میں لگنا مطلقا مکروہ ہے ، خواہ حمل متصور ہو چکا ہو یا نہ ہوا ہو۔اسی کو خانیہ میں اختیار کیا ہے جیساکہ ہم نے استبراء کے باب میں ذکر کیا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ اگر اس نے حمل گرادیا تو گناہ گار ہوگی، مگر یہ گناہ قتل کے گناہ جیسا نہ ہوگا۔اورعذر کی بناء پر حمل گرانا جائز ہے جیساکہ دودھ پلانے والی عورت کو حمل کی وجہ سے دودھ رک جائے اور بچے کے باپ کے پاس اتنی حیثیت نہ ہو کہ وہ بچے کو دودھ پلانے کے لئے کسی دایہ کو اجرت پر رکھے اور خوف ہے کہ بچہ بھوک سے مرجائے گا ۔ (تو ایسی صورت میں حمل گروانا جائز ہے۔)اور فقہاء نے اسکی مدت کو ایک سو بیس دن سے مقدر فرمایا۔ اور جائز اس لئے ہے کہ ایک سو بیس دن سے پہلے یہ آدمی نہیں ہے اور اس لئے کہ اس میں دوسرے آدمی کی جان کی حفاظت ہے۔(درمختار مع رد المحتار،ج 6 ص 429 قبیل کتاب إحیاء الموات،بیروت)
اسی طرح فتح القدیر پھر شامی میں ہے :هل يباح الاسقاط بعد الحبل؟ يباح ما لم يتخلق شئی منه، ثم فی غير موضع ولا يکون ذلک الا بعد مائه وعشرين يوما انهم ارادوا بالتخليق نفخ الروح۔ ترجمہ:کیا حمل ٹھہرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے؟ (ہاں) جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے۔ پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے۔ تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔(فتح القدیر لابن الھمام ، باب نکاح الرقیق، جلد 3 ص 401، بیروت۔شامی، مطلب فی حکم العزل ، جلد 3 ص 176، بیروت۔)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحيح: ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:06ذوالقعدۃ1442 ھ/17جون 2021 ء