سوال
کچھ مسجدوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مسجد کے استنجاء خانے میں جمعدار مقرر ہوتا ہے جو نمازی و غیر نمازی تمام لوگوں سے پیسے وصول کرنے اور صفائی ستھرائیوغیرہ کے معاملات سرانجام دیتا ہے۔ مسجد انتظامیہ استنجاء خانے جمعدار کو ٹھیکہ پر دیتے ہیں ۔کیا اس طرح مسجد کے استنجاء خانے ٹھیکہ پر دینا جائز ہے ؟اور جو اس سے کمائی حاصل ہوگی وہ مسجد میں استعمال کرنا جائز ہوگی؟ اور جمعدار کا اس طرح مسجد کے استنجاء سے فائدہ اٹھاناجائز ہے ؟ جبکہ جمعدار تقریباً غیر مسلم ہی ہوتے ہیں۔ سائل:عبد اللہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وقف کو اصلاً کمائی کا ذریعہ بنانا جائز نہیں ۔لیکن یہاں ضرورت کی وجہ سے مسجد کے استنجاء خانوں کے لیے جمعدار مقرر کرنا اور اس کا نمازی اور غیر نمازی سے پیسے وصول کرنا اور مسجد انتظامیہ کا استنجاء خانے ٹھیکے پر دینا جائز ہے۔اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مسجد کے کاموں میں خرچ کرنا بھی درست ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شارعِ عام اور بازاروںمیں واقع مساجد کے استنجا ء خانوں کے لیے جمعدار مقرر نہ کیے جائیں تو استنجاء خانے گندگی کا شکارہونگے اور قابلِ استعمال نہ رہیں گے،نیز استنجاء خانوں میں موجود اشیاء بھی چوری اور ضائع ہوجائیں گی اور عام طور پراستنجاء کی صفائی کا کام غیر مسلم ہی سر انجام دیتے ہیں اور یہ لوگ بلا عوض کام نہیں کرتے ۔لہذ ااس ضرورت کے پیش نظر استنجاء خانوں کو ٹھیکے پر دینا جائز ہے جبکہ اس سے مقصود نفع پہچانا نہیں بلکہ صفائی ستھرائی ہے۔
فقیہ العصر استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی وسیم اختر المدنی دامت برکاتھم العالیہ فرماتے ہیں:وقف کو اصلاً آمدنی کا ذریعہ نہیں بنا سکتے لیکن ضرورتاً مسجد کے باتھ روم کے لیے جمعدار مقرر کرنا اور اس کا نمازی وغیر نمازی سے پیسے وصول کرنا اور انتطامیہ کا جمعدار کے لیے کل آمدنی یا کچھ حصہ طے کرنا یا ان کو ٹھیکہ پر دینا بھی جائز ہے۔ اس لیے کہ مارکیٹ یا شارع عام کی مساجد کے لیے اگر جمعدار مقرر نہ کیا جائے تو باتھ روموں کا بہت برا حال ہوتا ہے ۔ مثلاً لائٹ کا سارا دن کھلا رہنا ،نل کا چوری ہونا ، پانی کا ضیاع،صفائی وستھرائی کا نہ ہونا وغیرہ مفاسد پائے جاتے ہیں لہذا وقفی اشیاء کی نگہداشت کے لیے متولی یا انتظامیہ کو ضرورتاً جمعدار مقرر کرنا جائز ہے ،نیز اس پر عرف بھی موجود ہے۔اور جمعدار غیر مسلم کو مقرر کرنے کا اصل مقصد اسے صفائی ستھرائی کا کام لینا ہے نہ کہ اس کام سے ان کی آمدنی کا ذریعہ یا نفع پہنچانا ہے۔(وسیم الفتاوی،غیر مطبوعہ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 26رمضان المبارک1443 ھ/28اپریل2022 ء