سوال
زید کے بیوی ،بچے ،والدہ اور بھائی بہن اور خود زید سرگودھا میں رہائش پذیر رکھتے ہیں اور زید اپنی ملازمت کے سلسلہ میں سرگودھا سے فیصل آباد اس راستے سے آتا ہےجس کی مسافت 92 کلو میٹر سے زیادہ ہے اور فیصل آباد میں زید کا قیام تقریباً ایک ہفتہ کا ہوتا ہےاور پھر وہ چھٹی گزارنے اپنے گھر جاتا ہےلیکن فیصل آباد زید کی جائے پیدائش ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ فیصل آباد میں زید کے والد گرامی کی ملکیت میں ایک گھر ہے اور وہ اس گھر میں رہائش رکھتے ہیں جبکہ زید اپنے والد صاحب کے پاس رہائش رکھنے کے بجائے ہوسٹل میں رہائش پذیر ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا فیصل آباد زید کے لیے وطن اصلی بنے گا یا نہیں؟اور زید فیصل آباد میں شرعی طور پر مسافر ہوگا یا نہیں ؟نماز پوری ادا کرے گا یا قصر کرکے پڑھے گا؟ سائل:عبد المقیت امینی:پنچاب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں زید کا وطن اصلی صرف سرگودھا ہےفیصل آباد نہیں ہے۔ لہذا جب زید 92 کلو میٹر کا سفر طے کرکے فیصل آباد جاتا ہے اور وہاں 15 دن سے کم رکنے کی نیت کرتا ہے تو اس صورت میں زید مسافر رہے گا اور نماز یں قصر پڑھے گا۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کسی شخص کا وطن اصلی وہ جگہ ہوتی ہے جو اس کی جائے پیدائش ہو یا جہاں اس نے شادی کی ہو یا جہاں اس نے مستقل سکونت اختیار کرلی ہو ۔اور اگر کوئی شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے وطن اصلی سے کسی دوسرے شہر مستقل سکونت اختیار کرلے اور سابقہ شہرسےرہائش ختم کرنےکے ارادہ سےاہل وسامان اس دوسرے شہر نقل کرلےتو ایسی صورت میں اب یہ سابقہ شہر وطن اصلی نہیں رہے گا بلکہ جہاں مستقل سکونت اختیار کرلی ہے محض وہی وطن ِ اصلی ہوگا۔اور صورتِ مذکورہ میں بھی اگرچہ فیصل آباد زید کی جائے پیدائش ہے لیکن جب زید اپنے اہل وعیال کے ساتھ مستقل طور پر سرگودھا شفٹ ہوگیا اور اس کا اپنا کوئی ذاتی مکان بھی فیصل آباد میں نہیں رہا تو اب فیصل آباد زید کے لیے وطن اصلی نہ رہا اور اب زید جب بھی سفر شرعی طے کرکے فیصل آباد 15 دن سے کم ٹھرنے کی نیت سے جائے گا تو وہاں وہ مسافر ہی رہے گا۔
در مختا ر میں ہے: الوطن الاصلی وھوموطن ولادتہ اوتاھلہ اوتوطنہ۔ترجمہ: وطنِ اصلی وہ ہے ، جہاں آدمی کی ولادت ہوئی ہو یا وہاں اس نے شادی کی ہو یا اس جگہ کو اپنا وطن بنا لیا ہو ۔(ردالمحتار علی الدر المختار ،جلد:1،ص:131،دار الفکر بیروت)۔
فتاوٰی شامی میں نھرالفائق کے حوالے سے ہے : ولو نقل أهله ومتاعه وله دور في البلد لا تبقى وطنا له وقيل تبقى كذا في المحيط وغيره۔ترجمہ:اور اگر کوئی شخص اپنے اہل و سامان کو (دوسرے شہر)منتقل کرلے اوراس کے لیے (سابقہ )شہرمیں گھر ہو تو وہ شہر اس کا وطن اصلی باقی نہیں رہے گا اور ایک قول یہ کہا گیا کہ وہ باقی رہے گا۔
اس کے تحت جدالممتار میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: اقول یظھر للعبد الضعیف ان نقل الاھل والمتاع یکون علی وجھین احدھما ان ینقل علی عزم ترک التوطن ھاھنا ،والآخر:لا علی ذلک ،فعلی الاول لا یبقی الوطن وطنا وان بقی لہ فیہ دور وعقار ،وعلی الثانی یبقی فلیکن المحمل للقولین وبمثل ھذا یجری الکلام فی موت الزوجۃ ،فافھم ترجمہ: میں کہتاہوں بندہ ناچیز پرآشکارہواکہ اہل اورسامان کونقل کرنادوصورتوں پرہےایک تویہ کہ اس شہرسےرہائش ختم کرنےکے ارادہ سےاہل وسامان نقل کیاجائے،دوسری صورت یہ کہ رہائش ختم کرنےکاارادہ نہ ہو،پس پہلی صورت میں وہ شہر وطن اصلی نہ رہےگااگرچہ وہاں گھراورجائیدادہو،اوردوسری صورت میں وطن اصلی رہےگا،لہذاچاہیےکہ ان دوقولوں کامحمل یہ ہی ہو،اسی کی مثل کلام زوجہ کے انتقال کی صورت میں جاری ہوگا،لہذاسے سمجھ لو۔ (جد الممتار،جلد3صفحہ572،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 18شوال المکرم1443 ھ/20مئی2022 ء