zauja chay bete chaar betiyan
سوال
ایک شخص عبدالغنی کا انتقال ہوا ، انتقال کے وقت اسکے ورثاء میں بیوی ، چھ بیٹے اور چار بیٹیاں زندہ تھیں ۔ جبکہ مرحوم کے والدین پہلے ہی انتقال کرچکے تھے۔ پھر انکے انتقال کے بعد انکی زوجہ کا بھی انتقال ہوگیا انکے ورثاء میں بھی یہی اولاد ہے ،یعنی چھ بیٹے ،چار بیٹیاں ، اور زوجہ کے والدین کا بھی پہلے ہی وصال ہوگیا تھا۔ اب وراثت کیسے تقسیم ہوگی۔
سائل:عبدالغنی: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 16 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے ہر بیٹے کو دو حصے جبکہ ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 16پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 ذوالحج 1440 ھ/15 اگست 2019 ء