سوال
محترم ہمارا تعلق درس و تدریس سے ہے، ہم سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ہر سال اسکول میں محفل میلاد کا انعقاد کرانا ہمارا معمول ہے،اس سال تمام کرسچن اسکولوں کو یکجا کرکے محفل میلاد کیتھولک بورڈ کی جانب سے کرایا جائے گا، اس میلاد کی محفل میں طلباء و طالبات دونوں شریک ہوکر حصہ لیں گے،جو کہ سب مسلم ہوں گے بس بورڈ کرسچن کا ہے کیونکہ تمام اسکول اسی بورڈ کے تحت آتے ہیں اور طلباء و طالبات کے لیے الگ الگ انتظام ہوگا اس طرح میلاد کرانے میں کوئی قباحت تو نہیں ہے نا؟ براہ مہربانی اسلامی اصولوں کے تحت رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ:لبنیٰ طاہر:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہو کہ لڑکے لڑکیوں کا اختلاط نہ ہو اور لڑکیوں کی نشست لڑکوں کی نشست سے الگ اور جدا ہو اور ان کے مابین شرعی ستر اور حجاب قائم ہوجائے اور میلاد خواں کوئی عورت نہ ہو صرف مرد ہی ہوں اور کوئی فتنے وغیرہ کا احتمال بھی نہ ہو تو ان شرائط کے پیش نظر محفل میلاد کرنا جائز و مستحسن عمل ہے جس پر اللہ کریم سے اجر عظیم کی امید ہے۔چناچہ سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا کہ عورت میلاد وغیرہ کی محفل میں جاسکتی ہے،آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں:''واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اس کا وعظ وبیان صحیح ومطابق شرع ہو اور جانے میں پوری احتیاط اور کامل پردہ ہو اور کوئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور، ان کی نشست ہو تو حرج نہیں''(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر والاباحۃ جلد 22 ص 239 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
لیکن اگر میلاد پڑھنے والیاں خواہ نعت پڑھنے والیاں لڑکیاں ہیں جن کی آواز یقینا لڑکے اور مرد سنیں گے تو ایسی صورت میں محفل میلاد کرنا جائزنہیں ہے کیونکہ عورت کی آواز بھی عورت یعنی چھپانے کی چیز ہے کہ مرد اسکی آواز سن کر اسکی طرف راغب ہوتے ہیں اگر آواز خوبصورت ہو تو اس میں مزید فتنہ ہے ،حتیٰ کہ ہمارے فقہاء امت نے فرمایا کہ عورت دوران حج تلبیہ (یعنی لبیک اللہم لبیک)بھی بلند آواز سے نہ کہے بلکہ آواز پست رکھے کہ خود کو سن سکے بس جیسا کہ شامی میں ہے:وَفِي الْكَافِي: وَلَا تُلَبِّي جَهْرًا لِأَنَّ صَوْتَهَا عَوْرَةٌ، وَمَشَى عَلَيْهِ فِي الْمُحِيطِ فِي بَابِ الْأَذَانِ بَحْرٌ۔ترجمہ: اور کافی میں ہے کہ عورت تلبیہ بھی بلند آواز سے نہ کہے، کیونکہ اسکی آواز بھی عورت ہے، اور اسی بات کوصاحب محیط نے باب الاذان میں ذکر کیا ہے۔(شامی،مطلب فی ستر العورۃ،جلد1 ص 406)
سیدی اعلیٰ حضرت سے عورت کی آواز کے بارے میں پوچھا گیا :چند عورتیں ایک ساتھ ملک کر گھرمیں میلاد شریف پڑھتی ہیں اور آواز باہرتک سنائی دیتی ہے یونہی محرم کے مہینے میں کتاب شہادت وغیرہ بھی ایک ساتھ آواز ملا کر پڑھتی ہیں۔ یہ جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں '' ناجائزہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اور عورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سے محل فتنہ ہے''واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر والاباحۃ جلد 22 ص 240 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:30ذوالحجہ 1439 ھ/11ستمبر 2018 ء