سوال
میرے گاؤں (جوکہ رحیم یار خان میں واقع ہے)میں دریائے سندھ قبرستان میں داخل ہورہا ہے ، کافی قبور کو وہ اپنے اندر لے چکا ہے، میرے والد محترم بھی وہیں مدفون ہیں ، انکا انتقال 17 سال پہلے ہوا تھا اور پانی اس وقت میرے والد کی قبر سے تقریبا 100 قدم پیچھے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے والد محترم کی قبر کو کہیں اور منتقل کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ سائل:محمد علی افضل:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں قبر منتقل کرنے کی اجازت ہے ۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ مٹی ڈالنے کے بعد قبر منتقل کرنا مطلقا منع ہے صرف چند ایک صورتوں میں فقہاء کرام نے اجازت دی ہے۔جس کا اصول یہ ہے کہ اگر میت یا قبر کے ساتھ کسی انسان کا کوئی حق متعلق ہوجائے اور وہ شخص اس حق کو معاف کرنے یا اسکے عوض کچھ لینے پر راضی نہ ہو تو اس صورت میں قبر کشائی اور انتقال میت کی اجازت ہے جسکی درج ذیل صورتیں ہیں:
1:میت کسی غیر کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر دفن کردی اورمالک اسے باقی رکھنے پر راضی نہیں ۔
2: کسی کی مغصوبہ زمین میں دفن کی ، زمین ملنے کے بعد مالک میت کو اپنی زمیں باقی رکھنے پر راضی نہیں ۔
3:زمین میں مالک کی اجازت کے ساتھ ہی تدفین کی لیکن بعد ازاں حقِ شفعہ ثابت ہونے پر دوسرے شخص نے وہ زمین لے لی اور وہ میت کو اپنی زمین میں باقی رکھنے پر راضی نہیں۔
4: میت کو مغصوبہ کپڑے میں کفن دیا گیا اور صاحبِ ثوب اس کپڑے کی قیمت لینے پر راضی نہیں بلکہ بعینہ اسی کپڑے کا تقاضا کرتا ہے ۔
5:تدفین کے وقت کسی انسان کا مال اس قبر میں رہ گیا خواہ بالقصد ہو یا بلا قصد اگر چہ ایک درہم کے برابر مالیت کا ہی کیوں نہ ہو۔
تو ان تمام صورتوں میں قبر کشائی اور میت کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت ہے ۔اسکے علاوہ تمام صورتوں میں ممانعت ہے ۔ عامہ کتب فقہ مثل فتح،قاضی خان، بحر، ہدایہ، تجنیس ،ہندیہ،مراقی،در مختار، شامی وغیرہ میں اسی کی صراحت ہے ۔
البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:قوله ولا يخرج من القبر إلا أن تكون الأرض مغصوبة) أي بعد ما أهيل التراب عليه لایجوز إخراجه لغير ضرورة للنهي الوارد عن نبشه، وصرحوا بحرمته ،وأشار بكون الأرض مغصوبة إلى أنه يجوز نبشه لحق الآدمي كما إذا سقط فيها متاعه، أو كفن بثوب مغصوب ،أو دفن في ملك الغير،أو دفن معه مال أحياء لحق المحتاج قد «أباح النبي - صلى الله عليه وسلم - نبش قبر أبي رعال لعصا من ذهب معه» كذا في المجتبى ،قالوا: ولو كان المال درهما. ودخل فيه ما إذا أخذها الشفيع فإنه ينبش أيضا لحقه كما في فتح القدير. وذكر في التبيين أن صاحب الأرض مخير إن شاء أخرجه منها، وإن شاء ساواه مع الأرض،وانتفع بها زراعة أو غيرها۔ترجمہ:اور میت کو قبر سے نہ نکالا جائے مگر یہ کہ زمین مغصوبہ ہو یعنی مٹی ڈالنے کے بعد بغیر ضرورت شرعی کے میت کا نکالنا جائز نہیں ہے کیونکہ قبر کھودنے سے متعلق نہی وارد ہوئی ہےاور فقہاء نے اسکی حرمت کی صراحت فرمائی ہے اور مصنف نے مغصوبہ زمین ہو کہہ کر اس طرف اشارہ کیاہے کہ کسی آدمی کے حق کے لئے قبر کھودنا جائزہے جیسا کہ جب قبر میں کسی آدمی کا سامان گر جائے یا اسکو کسی مغصوبہ کپڑے کفن دے دیا یا کسی غیر کی ملکیت میں دفن کردیا جائے یا اسکے ساتھ کسی کا مال دفن ہوجائے جس میں زندہ محتاج لوگوں کا حق ہو ، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ابو رعال کی قبر کھدوائی تھی کیونکہ سونے کا عصا اسکے ساتھ دفن ہوگیا تھامجتبٰی میں اسی طرح ہے ۔ فقہاء نے فرمایا اگرچہ مال ایک درہم کی بمقدار ہو ۔ اور اس میں وہ صورت بھی داخل ہے کہ جب شفیع اس زمین کو حق شفعہ کی وجہ سے لے لے تو بھی قبر کشائی کی جائے گی اس شفیع کے حق کی وجہ سے جیساکہ فتح القدیر میں ہے۔ اور تبیین میں مذکور ہے کہ زمین والے کو اختیار ہے چاہے تو میت وہاں سے نکلوائے یا چاہے تو زمین برابر کردے، اور اس زمین سے زراعت وغیرہ کا نفع حاصل کرے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 2 ص 210)
ہندیہ میں ہے: ولاينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبةً أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان. إذا دفن المیت فی أرض غیرہ بغیر إذن مالکہا فالمالک بالخیار إن شاء أمر بإخراج المیت وإن شاء سوی الأرض وزرع فیہا، کذا فی التجنیس.ترجمہ:تدفین کے بعد قبر سے میت نہیں نکالنی چاہیے مگر جبکہ مغصوبہ زمین ہو یا یہ کہ حق شفعہ کے عوض لے لی ہو اسی طرح فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔اورجب میت کسی دوسرے کی زمین میں مالک کی اجازت کے بغیر دفن کردیا جائے تو مالک کو اختیار ہے چاہے تو میت کو نکلوائے یا چاہے تو زمین برابر کردے اور اس میں کھیتی وغیرہ کرے تجنیس میں اسی طرح مذکور ہے۔(فتاوٰی ہندیہ، الفصل السابع ، جلد 1 ص 167)
تنویر الابصار مع الدر میں ہے:ولا يخرج منه ) بعد إهالة التراب ( إلا ) لحق آدمي ك ( أن تكون الأرض مغصوبةً أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار تراباً۔ ترجمہ:اور مٹی ڈالنے کے بعد میت کو قبر سے نہ نکالا جائےمگر کسی آدمی کے حق کی وجہ سے جیساکہ مغصوبہ زمین ہو یا یہ کہ حق شفعہ کے عوض لے لی ہو، اور کہ زمین والے کو اختیار ہے چاہے تو میت وہاں سے نکلوائے یا چاہے تو زمین برابر کردے، جیساکہ جب میت پرانی ہوکر مٹی ہوجائے تو اس زمین پر کھیتی کرنا اور تعمیر کرنا جائز ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار، مطلب فی دفن المیت، جلد 2 ص 238)
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:"ولا يجوز نقله" أي الميت "بعد دفنه" بأن أهيل عليه التراب وأما قبله فيخرج "بالإجماع" بين أئمتنا طالت مدة دفنه أو قصرت للنهي عن نبشه والنبش حرام حقا لله تعالى "إلا أن تكون الأرض مغصوبة" فيخرج لحق صاحبها إن طلبه ، "أو أخذت" الأرض "بالشفعة" ۔ ترجمہ:دفن کے بعد میت کو کسی اور جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ہے، بایں طور کہ اس پر مٹی ڈال دی جائے لیکن اس سے پہلے تو ہمارے ائمہ کے اتفاق کے اجماع نکالا جا سکتا ہے دفن کی مدت قلیل ہو یا کثیرکیونکہ قبر کھودنے سے متعلق نہی وارد ہوئی ہےاور قبر کھودنا حرام ہے۔کیونکہ یہ اللہ تعالٰی کا حق ہے مگر یہ کہ مغصوبہ زمین ہوتو صاحب زمین کے حق کی وجہ سے نکالا جائے گااگر وہ اسکا مطالبہ کرے ، یا یہ کہ زمین حق شفعہ کے عوض لے لی جائے ۔( مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، فصل فی حملہا و دفنہا،جلد 1 ص 614)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: او راس زمین میں بروجہ مذکور مُردوں کا دفن کرنا حرام و معصیت، یہاں تک کہ بعد دفن مُردہ کا قبر سے نکالنا حرام مگر اسکے باوجود ایسی جگہ قبر کھود کر دوسری جگہ دفن کرنا چاہئے فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیری میں ہے :لاینبغی اخراج المیّت من القبر بعد ما دفن الااذا کانت الارض مغصوبۃ او اخذت بشفعۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔(فتاوٰی رضویہ ، کتاب الجنائز، جلد 9 ص 381)
لیکن علامہ طحطاوی علیہ الرحمہ نے ایک صورت اور لاحق کی ہےاور اس میں اختلاف ذکر فرمایا ہے کہ جب قبر پر پانی غالب آجائے تو اس صورت میں انتقال ِ قبر کی اجازت میں اختلاف ہے بعض نے کہا جائز ہے جناب عبداللہ ابن عباس نے انتقال کے جواز کا فتوٰی دیا۔اور بعض نے منع کیا۔
چناچہ حاشیہ طحطاوی میں ہے:في المضمرات النقل بعد الدفن على ثلاثة أوجه في وجه يجوز باتفاق وفي وجه لا يجوز باتفاق وفي وجه اختلاف أما الأول فهو إذا دفن في أرض مغصوبة أو كفن في ثوب مغصوب ولم يرض صاحبه إلا بنقله عن ملكه أو نزع ثوبه جاز أن يخرج منه باتفاق وأما الثاني فكالأم إذا أرادت أن تنظر إلى وجه ولدها أو نقله إلى مقبرة أخرى لا يجوز باتفاق وأما الثالث إذا غلب الماء على القبر فقيل يجوز تحويله لما روي أن صالح بن عبيد الله رؤي في المنام وهو يقول حولوني عن قبري فقد آذاني الماء ثلاثا فنظروا فإذا شقه الذي يلي الماء قد أصابه الماء فأفتى ابن عباس رضي الله عنهما بتحويله وقال الفقيه أبو جعفر يجوز ذلك أيضاثم رجع ومنع۔ ترجمہ:اور مضمرات میں ہے کہ دفن کے بعد نقل کرنا تین صورتوں پر ہے ، پہلی بالاتفاق جائز،دوسری بالاتفاق ناجائز ، تیسری میں اختلاف ہے ، پہلی یہ کہ میت کسی کی مغصوبہ زمین میں دفن کردی جائے ،یا میت کو مغصوبہ کپڑے میں کفن دیا گیا اور مالک میت کو اپنی زمیں باقی رکھنے پر راضی نہیں ،یا صاحبِ ثوب بعینہ اسی کپڑے کا تقاضا کرتا ہے ،تو بالاتفاق اس میت کو وہاں سے نکالنا جائز ہے۔ دوسری صورت یہ کہ انتقال کے بعد کسی کا بچہ دفن کردیا جائے اور اب اس بچے کی ماں اسے دیکھنا چاہتی ہے یا کسی دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتی ہے تو یہ بالاتفاق جائز نہیں ۔ تیسری صورت یہ کہ جب قبر پر پانی غالب آجائے تو ایک قول یہ ہےکہ قبل منتقل کرنا جائز ہے کیونکہ مروی ہے کہ صالح بن عبید اللہ کو کسی نے خواب میں دیکھاکہ وہ فرمارہے تھے میری قبر منتقل کرو کیونکہ پانی مجھے پانی تکلیف پہنچا رہا ہے (انہوں نے یہ تین بار کہا)تو لوگوں نے دیکھاانکی ایک جانب جو پانی کی طرف تھی وہاں پانی پہنچ چکا تھا۔ تو عبداللہ ابن عباس نے قبر منتقل کرنا کے جواز کا فتوٰی دیااور فقیہ ابو جعفر نے فرمایا یہ جائز ہے پھر بعد میں اس سے رجوع کرلیا اور منع فرمایا۔(حاشیہ طحاوی علٰی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1 ص 614)
علامہ طحطاوی کی اس عبارت سے واضح ہے کہ صالح بن عبیداللہ نے خواب میں آکر بتایا کہ انکی قبر میں پانی داخل ہورہا ہے تو لوگوں نے انکی قبرکھول کر دوسری جگہ تدفین کی ، حالانکہ خواب خود حجت شرعیہ نہیں پھر مزید یہ کہ صالح بن عبیداللہ کی قبر میں پانی کا آنا لوگوں کی نظروں سے مخفی تھا ، جبکہ مانحن فیہ میں لوگوں کے سامنے واضح و مشہور ہے کہ دریائے قبرستان کو اپنے اندر لے رہا ہے اور کئی قبور کو لے چکا ہے تو ایسی صورتِ حال میں بھی یقینا اس امر کی اجازت ہوگی کہ قبر کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔
اس مسئلہ کی دیگر نظائر موجود ہیں جو اس بات کی مشعر ہیں کہ قبر میں پانی داخل ہونا ضرورت ہے جسکی وجہ سے قبر منتقل کی جا سکتی ہے جیساکہ اسی میں کچھ آگے ہے: والسؤال بعد الدفن في محل لا يخرج منه أبدا إلا لضرورة وعليه فلو وضع في قبر للدوام ثم تحول إليه الماء فنقل للضرورة يكون السؤال في الأول فلو جعل في تابوت أو موضع آخر لينقل لم يسأل فيه كذا في الخلاصة والبزازية۔ترجمہ:دفن کے بعد سوالِ قبر اسی جگہ میں ہے جہاں سے میت کو ہمیشہ نہ نکالا جائے گا مگریہ کہ ضرورت ہو اور اسی پر یہ مسئلہ متفرع ہے کہ اگر میت کو کسی قبر میں ہمیشی کے لئے رکھا گیا بعد ازاں اس قبر میں پانی آگیا پھر اسے اس ضرورت کی بناء پر منتقل کردیا گیا تو سوالِ قبر اُسی پہلی والی جگہ میں ہوگا ، لیکن اگر میت کو کسی تابوت یا کسی اور جگہ رکھا گیا تاکہ وہاں سے منتقل کیا جاسکے تو اس سےاس (تابوت یا جگہ)میں سوال نہیں کیا جائے گا اسی طرح خلاصہ اور بزازیہ میں ہے۔(حاشیہ طحاوی علٰی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح جلد 1 ص 616)
مفتی احمد یار خان نعیمی مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح میں فرماتے ہیں:نقل میت کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ بعد دفن قبر کھول کر نعش منتقل کرنا یا اتنی دور میت کو لے جانا کہ جہاں تک پہنچتے ہوئے میت کے بگڑ جانے کا خطرہ ہو ممنوع ہے لیکن اگر یہ وجوہ نہ ہو تو کسی فائدہ صحیحہ کے لیئے میت کو منتقل کرنا جائز ہے۔(مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، جلد 2 ص 515)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 26 ذوالقعدہ 1442 ھ/07 جولائی2021 ء