قرآن پر ہاتھ رکھ کے جھوٹ بولنا
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 250

    سوال

    میں نے قرآن اٹھا کر تین بار جھوٹ بولا ہے، اور جھوٹ بھی اس بندے سے بولا جو مجھے دل و جان سے چاہتا ہے۔اب اسکا کیا حل ہے اسکا کوئی کفارہ ہے تو وہ بھی بتادیں ۔ سائل: علوینہ شاہد: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جھوٹ بولنا ویسے ہی گناہ کبیرہ ہے،اور اللہ تعالٰی کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔اوراس پر زیادتی یہ کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولنا،اس گناہ کو مزید سخت، عظیم بنادیتا ہے۔ارشاد باری تعالٰی

    لعنۃ اللہ علی الکاذبین .ترجمہ: اور جھوٹوں پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہے۔ (آل عمران: 61)

    نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ» قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ، کیا میں تمہیں اکبر الکبائر یعنی سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاوں ؟ ہم نے (صحابہ نے) عرض کی ، کیوں نہیں ضررور بتائیں،آپ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے،اور والدین کی نافرمانی اورسن لو وہ جھوٹ بولنا ہے،۔(بخاری،باب عقوق الوالدین من الکبائر،حدیث نمبر 5976 )

    جھوٹ بولنے کا کوئی کفارہ نہیں ہے ،صرف اور صرف توبہ لازم ہےلہذاآپ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ کریں ،آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا پکا ارادہ کرلیں، اللہ تعالٰی گناہوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے،قال اللہ تعالٰی:إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.ترجمہ: بے شک اللہ تعالٰی رحم کرنے والا اور بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔

    نوٹ: یہ جواب اس بنیاد پر ہے جنکہ صرف جھوٹ بولا ہو اور جھوٹی قسم نہ کھائی ہو، اگر قسم بھی کھائی ہے تو اسکی تفصیل لکھ کر بھیجیں اور اسکے ساتھ رابطہ نمبر لازمی بھیجیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 13 جمادی الثانی 1440 ھ/19 فروری 2019 ء