سوال
- ممبر کی مسجد میں کیا شرعی حیثیت ہے؟
- ممبر کے کتنے درجے ہونے چاہییں ؟ آیا اس میں کمی یا زیادتی ہوسکتیہے؟
- ہماری مسجد میں کسی صاحب نے ایسا ممبر ہدیہ کیا ہے جوکہ جدید طرز پر ہے یعنی وہ فولڈ ہوکر صوفہ اور فولڈنگ اسٹیپ کھول کر ممبر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور ایک مرتبہ جمعہ کا خطبہ اس حال میں دیا ہے کہ وہ صوفہ بنا ہوہے۔اس وقت اس میں دو درجے تھے کیا خطبہ ہوگیا؟ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
سائل:امام و خطیب چشتیہ مسجد:حیدرآباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(1) ممبر بنانا اور اس پر خطبہ دینا سنت ہے ،مسجدنبوی میں ابتداءًممبرنہیں تھا۔ حضورﷺکھجورکی شاخ سےٹیک لگاکےخطبہ دیتےتھے، بعد ازاں وہاں ممبر نصب کیا گیا۔چناچہ بخاری شریف میں ہے:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ وَاسْمُهُ عُمَرُ بْنُ الْعَلَاءِ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَيْهِ۔ ترجمہ:ہم سےمحمدبن مثنیٰ نےبیان کیا،کہاہم سےابوغسان یحییٰ بن کثیرنےبیان کیا،انہوں نےکہاہم سےابوحفص نے جن کانام عمر بن علاء ہے اورجوعمروبن علاءکےبھائی ہیں،بیان کیا،کہاکہ میں نےنافع سےسنااورانہوں نےعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسےکہ نبی کریم ﷺایک لکڑی کاسہارا لےکرخطبہ دیاکرتےتھے ، پھرجب منبربن گیاتوآپ خطبہ کےلیےاس پرتشریف لےگئے ۔ (صحيح البخاري. كتاب المناقب. باب علامات النبوة في الإسلام، حدیث نمبر 3583)
اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں اسکی تفصیل ہے : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ لِي غُلاَمًا نَجَّارًا قَالَ: «إِنْ شِئْتِ» ، قَالَ: فَعَمِلَتْ لَهُ المِنْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الجُمُعَةِ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى المِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ۔ ترجمہ:جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک انصاری عورت نےرسول کریمﷺسےعرض کیا،یا رسول اللہ!میں آپ کےلیےکوئی ایسی چیزکیوں نہ بنوادوں جس پرآپ ﷺ وعظ کےوقت بیٹھاکریں۔کیونکہ میرےپاس ایک غلام بڑھئی ہے۔آپﷺنےفرمایاکہ اچھاتمہاری مرضی۔ راوی نےبیان کیاکہ پھرجب اس عورت نے آپﷺ کےلیےممبر تیارکیا۔ تو جمعہ کے دن آنحضرتﷺاس منبر پر بیٹھے۔(اور خطبہ دیا)
(صحيح البخاري. باب النجار ، حدیث نمبر 2095)
علامہ بدرالدين ابومحمدمحمودبن احمدبن موسى حنفى عینى المتوفى: 855ھ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : وَفِيه: اسْتِحْبَاب اتِّخَاذ الْمِنْبَر لكَونه أبلغ فِي مُشَاهدَة الْخَطِيب وَالسَّمَاع مِنْهُ، وَيسْتَحب أَن يكون الْمِنْبَر على يَمِين الْمِحْرَاب مُسْتَقْبل الْقبْلَةترجمہ:اس حدیث میں سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے کہ ممبر بنانا سنت ہے کیونکہ ممبرکی وجہ سے خطیب کو دیکھنے اور خطبہ سننے میں آسانی ہوتی ہے ۔اور مستحب یہ ہے کہ ممبر محراب کی دائیں جانب سمت قبلہ نصب کیا جائے ۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري ،بابُ الخطبۃ علی المنبر، جلد 6 ص 216)
یوں ہی علامہ ابو الوليدسليمان بن خلف القرطبی الباجی الاندلسی رحمہ اللہ تعالٰی نے شرح الموطا میں ممبر بنانے پر مسلمانوں کا اجماع نقل فرمایا ہے۔چناچہ فرماتے ہیں :وَقَدْ أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ عَهْدِ الصَّحَابَةِ عَلَى اتِّخَاذِهَا فِي كُلِّ بَلَدٍ۔ ترجمہ:عہد صحابہ سے تاحال مسلمانوں کاہر شہر اور جگہ (خطبہ کے لئے ) ممبر بنانے پر اجماع ہے۔ ( المنتقى شرح الموطإ ، باب ماجاء فی الیمین علی المنبر جلد 5 ص 234)
علامہ حسن بن عمار الشرنبلالی شہرہ آفاق کتاب نورالایضاح میں فرماتے ہیں : وسنن الخطبة۔۔۔۔۔ والجلوس على المنبر قبل الشروع في الخطبة۔ ترجمہ:خطبہ شروع کرنے سے پہلے ممبر پر بیٹھنا خطبہ کی سنتوں میں سے ہے۔ (نور الایضاح باب الجمعۃ جلد 1ص 103)
(2)ممبر کے درجات کی کوئی تعیین نہیں ہے ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ممبر اس قدر اونچا ہو سامعین تک آسانی سے آواز پہنچ سکے ،کہممبر سے بھی اصل مقصود یہی ہے ،چناچہ علامہ بدرالدين ابومحمدمحمودبن احمدبن موسى الحنفى العينى المتوفى: 855ھ رقمطراز ہیں :فَإِن لم يكن مِنْبَر فموضع عَال، وإلاّ فَإلَى خَشَبَة لِلِاتِّبَاعِ فَإِنَّهُ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم كَانَ يخْطب إِلَى جذع قبل اتِّخَاذ الْمِنْبَر، فَلَمَّا صنع تحول إِلَيْهِ۔ ترجمہ:پھر اگر ممبر نہ ہو تو بلند جگہ خطبہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو تو کسی لکڑی کا سہارا لے کر خطبہ دے کیونکہ اس میں نبی کریم ﷺ کی اتباع ہے کہ آپ ﷺ ممبر بننے سے قبل کھجور کی لکڑی کے سہارے خطبہ دیتے تھے پھر جب ممبر بنا تو آپ ممبر پر تشریف لے آئے۔(عمدة القاري شرح صحيح البخاري ،بابُ الخطبۃ علی المنبر، جلد 6 ص 216)
(3) ایسی جدید طرز کاممبر بھی جائز ہے ،کیونکہ ممبرسےمرادہرایسی اونچی چیزہےجس سےدورتک آوازپہنچ جائے ۔کرسی وغیرہ پرخطبہ دینےسےبھی سنت اداہوجائےگی۔اگرکوئی اونچی چیزدستیاب نہ ہوتواسکےبغیربھی خطبہ درست ہے،لہذا مذکورہ ممبر پر دیا گیا خطبہ ہوگیا کہ خطبہ کے لئے ممبر محض سنت ہے،شرط وغیرہ نہیں ہے۔بغیر ممبر کے بھی خطبہ دینا جائز ہے،جیساکہ ابھی عمدۃ القاری کے حوالے سے گزرا۔اسی میں ایک اور مقام پر ہے: أَن فِيهِ اسْتِحْبَاب اتِّخَاذ الْمِنْبَر، وَكَون الْخَطِيب على مُرْتَفع كمنبر أَو غَيره۔ ترجمہ: حدیث سے ثابت ہوا کہ ممبر بنانا سنت ہے ،اور خطیب کا بلند جگہ پر مثلا ممبر وغیرہ پر ہونا بھی سنت ہے۔
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري ،بابُ الصَّلاَةِ فِي السُّطُوحِ وَالمِنْبَرِ والخَشَب، جلد 4 ص 104)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 12 محرم الحرام 1441 ھ/12 ستمبر 2019 ء