سوال
قرآن کریم کی آیات کو دوسرے زبان میں لکھنا کیسا۔مثلا کسی کی آسانی کے لئے قرآن پاک کی آیات کو انگلش رومن میں لکھنا یا اسکے علاوہ کسی دوسری زبان میں لکھنا جائز ہے یا نہیں۔سائل:عبد اللہ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قرآنی آیات کو عربی رسم الخط میں لکھنا ضروری ہے۔لہذااگر کوئی شخص پیغام وغیرہ لکھتاہےاور اس میں قرآنی آیت لکھتا ہے تو اس پر یہ لازم ہے کہ وہ قرآنی آیات کو عربی رسم الخط میں ہی لکھے کسی دوسری زبان میں مثلا: ہندی،انگریزی،گجراتی اور دیگر زبانوں میں لکھنا جائز نہیں۔کیونکہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ کتابتِ قرآن،سورتوں کی ترتیب،غرض ایک ایک حرف میں مصحفِ عثمانی کی پیروی واجب ہے۔اس میں ردو بدل،کمی بیشی قطعاً ناجائز ہے۔ہاں۔۔۔۔۔! اگر کوئی قرآنی آیات کا ترجمہ یا احادیثکا ترجمہ بذریعہ میسج کسی کو پیغام بھیج رہا ہے تو جائز ہے۔
امام جلال الدین سیوطی الاتقان میں فرماتے ہیں: سُئِلَ مَالِكٌ: هَلْ يُكْتَبُ الْمُصْحَفُ عَلَى مَا أَحْدَثَهُ النَّاسُ مِنَ الْهِجَاءِ؟ فَقَالَ: لَا إِلَّا عَلَى الْكَتْبَةِ الْأُولَى رَوَاهُ الدَّانِيُّ فِي الْمُقْنِعِ، ثُمَّ قَالَ وَلَا مُخَالِفَ لَهُ مِنْ عُلَمَاءَ الْأُمَّةِ۔ ترجمہ:امام مالک رحمہ اللہ تعالٰی سے پوچھا گیا: لوگوں میں جوخاص طرزِ تحریر رائج ہوگیا ہے، کیا اس میں قرآن لکھ سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: نہیں، مگر اسی پہلی طرزِ کتابت پر ہونا چاہیے۔(الاتقان،النوع السابع والسبعون فی مرسوم الخط ج 04 ص 168،مطبوعہ مصریہ)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے:سئل مالک عن الحروف فی القرآن مثل الواو والألف أتری أن یغیر من المصحف إذا وجد فیہ کذلک؟ قال: لا۔ قال أبو عمرو: یعنی الواو والألف المزیدتین فی الرسم المعدومتین فی اللفظ نحو الواو فی’’أولوا‘‘ وقال الامام أحمد: یحرم مخالفۃ مصحف الامام فی واو أو یا أو ألف أو غیر ذلک وقال البیہقی فی شعب الإیمان: من یکتب مصحفا فینبغی أن یحافظ علی الھجاء الذی کتبوا بہ ھٰذا المصاحف ولا یخالفھم فیہ ولا یغیر مما کتبوہ شیئاً فإنھم کانو أکثر علمًا وأصدق قلبًا ولسانًا أعظم أمانۃً منا فلا ینبغی أن نظن بأنفسنا استدراکا علیہم ۔ترجمہ:امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حروف(زائدہ)کے بارے میں سوال کیا گیا،مثلاً واو،الف،کیا خیال ہے آپ کا اگر وہ مصحف میں ایسے ہی (زائدحالت میں)پائے جائیں تو انہیں تبدیل کر دیا جائے؟ آپ نے جواب دیا: نہیں۔
ابو عمروفرماتے ہیں: یعنی وہ واواور الف جو لکھنے میں تو زیادہ ہوں مگر تلفظ میں معدوم ہوں، جیسیواو لفظِ ’’اُولُو‘‘ میں۔ امام احمد نے فرمایاکہ: واو،یااور الف وغیرہ میں بھی مصحفِ امام کی مخالفت حرام ہے۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں فرمایا کہ: جو مصحف کی کتابت کرے، اسے چاہیے کہ ان حروفِ ہجاء کی حفاظت کرے جس پر صحابہ کرام نے یہ مصاحف لکھے ہیں۔ اور اس میں نہ ان کی مخالفت کرے اور نہ ہی کسی ایسی چیز کو بدلے، جسے انہوں نے لکھا ہو۔ اس لیے کہ وہ ہم سے زیادہ علم والے،ہم سے زیادہ دل اورزبان کے سچے، اور ہم سے زیادہ امانت دار تھے۔ پس یہ مناسب نہیں کہ ہم اپنے آپ کو ان کی کمی پورا کرنے والا گمان کریں۔(ایضا المرجع السابق)
الغرض علماء کے ان اقوال کے پیش نظر یہ کہنا بجا ہے کہ رومن یا کسی اور رسم الخط میں قرآن لکھنا ناجائز و حرام ہے۔کیونکہ قرآن کو عربی کے علاوہ دوسرے کسی رسم الخط میں لکھنے سے بہت سی خرابیاں لازم آتی ہیں ۔ مثلا رومن لکھنے میں تو عربی رسم الخط ہی بدل جاتا ہے، حالانکہ قرآنِ کریم میں ہے:بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ۔اللہ نے قرآن کو کھلی عربی زبان میں اتارا۔(الشعراء:195)
دوسرا یہ کہ یہ ہے کہ اس میں حرکات بصورتِ حروف لکھی جاتی ہیں۔تیسرا یہ کہ وہ حروفِ زائدہ جو مصحفِ عثمانی کی پیروی میں لکھے جاتے ہیں رومن خط میں ان حروفِ زائدہ کی نشاندہی سرے سے ہو ہی نہیں سکتی۔مثلاً ’’بسم اللہ‘‘ کو رومن میں ’’Bismillah ‘‘میں لکھتے ہیں۔ اس میں ''ب'' کی جگہ تو''B''آگیا، مگر''ب''کی زیر کے لیے اک نیا حرف ''I''لانا پڑا،جبکہ لفظ''اللہ''کے ہمزہ کی نشاندہی کرنے والا سرے سے کوئی حرف ہی موجود نہیں۔ اگر ''I''کے بعد''A''ہمزہ کی نشاندہی کے لیے لکھا جائے تو رومن خط کے لحاظ سے اس لفظ کا تلفظ ہی بدل جائے گا۔یہ سب کچھ قرآنِ کریم کے الفاظ میں تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟حالانکہ قرآنِ کریم کے ایک ایک حرف کی حفاظت مسلمانوں پر لازم ہے۔
مفسر شہیر حضرت احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:کوئی شخص اگر ہندی یا انگریزی زبان میں قرآن پاک لکھتا ہے تو یہ صریح تحریف ہے اور قرآن پاک میں تحریف حرام ہے۔دراصل اس کے عدمِ جواز کی وجہ یہ ہے کہ چند ایسے عربی حروف ہیں جن کے لئے انگلش میں ایک ہی حرف موضوع ہے جیسا کہ س ص ث ان تینوں حروف کے لئے انگلش میں ‘S’ استعمال کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ثاب(ہوش آنا)،صاب(نیچے اترنا)، اور ساب(سانپ کا زمین پر دوڑنا) یہ تین حروف ہیں اور انکو انگلش میں لکھنا چاہیں تو اس طرح لکھیں گے:SAABA۔جبکہ ان تینوں الفاظ کے علیحدہ علیحدہ معانی ہیں جو کہ بالترتیب ذیل ہیں:ہوش آنا،نیچے اترنا،سانپ کا زمین پر دوڑنا۔اسی طرح ز اور ظ میں فرق واضح نہیں ہوپاتا جیساکہ زاہر(چمکدار) اور ظاہر(ظاہر ) لیکن انگلش میں ایک ہی طرح لکھ سکتے ہیں یعنی (ZAHIR)جب کہ یہ عربی میں دو علیحدہ علیحدہ لفظہیں۔اب یہ فرق کیسے کیا جائے گا کہ کہاں کونسے حرف سے ابتدا ہوری ہے۔الغرض اوصاف و الفاظ تو درکنار خود حروف ہی منقلب ہوجائیں گے۔(فتاوی نعیمیہ،ص:116،مکتبہ اسلامیہ لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:28 ربیع الاول 1441 ھ/26 نومبر 2019 ء