میت کے اہل خانہ کو کھانا کھلانے کا حکم
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 257

    سوال

    میت کے اہل خانہ کو کھانا بھیجنا جائز ہے یا نہیں؟عوام میں مشہور ہے کہ جس گھر میت ہوجائے وہاں تین دن تک چولہا نہیں جلانا چاہیےاس خیال کی کیا حقیقت ہے؟ نیز جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے ،تو رشتہ دار یا اہل محلہ کھانا بناتے ہیں اور جنازے کے بعد اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ کھانا کھا کر جانا اسکی کیا شرعی حیثیت ہے، نیز ہمارے علاقے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو لوگوں سے فنڈ لیتی ہے اور میت کے کھانے پر خرچ کرتے ہیں انکا یہ فعل کیسا ہے؟

    سائل:در محمد : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں تین سوالات ہیں :

    1: میت کے اہل خانہ کو کھانا بھیجنے کا حکم۔

    2: جنازے کے بعد رشتے داروں اور محلے داروں کے لئے کھانے کا حکم۔

    3: ان امور کے لئے کمیٹی تشکیل دینا اور اس کمیٹی کا فنڈ جمع کرنے کا حکم۔

    تینوں کا حکم علی الترتیب درج ذیل ہے۔

    1: میت کے اہل خانہ کو کھانا بھیجنے کا حکم۔

    بلاشبہ میت کے عزیز و اقارب اور محلے داروں کے لئے جائز بلکہ مستحب ہے کہ میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام کریں، کیونکہ میت کے اہل خانہ اُس وقت رنج میں مبتلا اور غم سے نڈھال ہوتے ہیں ، شدت غم کی وجہ سے کھانا پکانے سے قاصر ہوتے ہیں لہذا اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے میت کے عزیز واقارب اور اہل محلہ کو ترغیب دی گئی ہے کہ کھانا پکا کر میت کے اہل خانہ کے لئے بھیج دیں۔

    البتہ اگر اہل میت خود کھانا پکائیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، اور عوام میں جو بات مشہور ہے اگر اسکے پس منظر یہی فلسفہ کار فرما ہے کہ ان ایام میں اہل میت غم کی وجہ سے کھانے پکانے سے عاجز ہوتے ہیں تو ٹھیک اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ عوام میت کے سبب ، اس گھر میں تین روز تک چولہا نہ جلانے کولازم اور جلانے کو ناجائزو حرام سمجھتے ہوں تو یہ خیال باطلِ محض اور غلط ہے، جسکی شرع شریف میں کچھ اصل نہیں ۔

    میت کے اہل خانہ کو کھانا بھیجنے کا جواز حدیث پاک میں ہےکہ جب جنگ موتہ کے دن حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کى شہادت کی خبر پہنچی تو رسول الله ﷺ نے فرمایا: اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا، فإنَّهُ قد أتاهُم أمرٌ شغلَهُم۔ ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تيار کرو، کیوں کہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے،جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔(سنن ابو داود: حدیث نمبر 3132)

    اس حدیث کے تحت علامہ علی قاری لکھتے ہیں:(اصنعوا لآل جعفر طعاما)اي يتقوتون به(فقد أتاهم) أي من موت جعفر (مايشغلهم) والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن و عن تهيئة الطعام لأنفسهم فيحصل لهم الضرر و هم لا يشعرون.قال الطيبى: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام اهل الميت۔ ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تيار کروجس سے وہ سیر ہوسکیں کیونکہ انکے پاس جعفر کی موت کی وجہ سے پریشانی آئی ہے جس نے انہیں مشغول کردیا ہے، اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایسی پریشانی لاحق ہوئی ہے یعنی غم جس نے انہیں اپنے لئے کھانے تیار کرنے سے روک دیا ہے تو انہیں اسکی وجہ سے ضرر لاحق ہوگا جسکا انہیں علم نہیں ، امام طیبی نے فرمایا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رشتے داروں اور پڑوسیوں کےلئے میت کے اہل خانہ کے لئے کھانا تیار کرنا مستحب ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 4 ص 194)

    شامی میں اس حوالے سے ہے: (قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون۔ ترجمہ:ماتن کا قول کہ انکے لئے کھانا بنانا، فتح میں فرمایا اہلِ میت کے پڑوسیوں اور دور کے رشتے داروں کے لئے مستحب ہے کہ میت کے اہل خانہ کے لئے ایک دن رات کا کھانا تیار کریں جس سے وہ پیٹ بھر سکیں ، کیونکہ حضور ﷺ نے(جنگ موتہ کے موقع پر ) فرمایا جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تيار کرو، کیوں کہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا اور امام حاکم نے اسکی تصحیح فرمائی ہے ۔ کیونکہ یہ نیکی اور اچھائی ہےاور کھانے کے معاملے ان پر اصرار کرے کیونکہ غم نے انہیں کھانے سے روکا دیا ہے تو وہ جسمانی طور پر کمزور ہوجائیں گے۔(شامی، جلد 2 ص 240)

    2: جنازے کے بعد رشتے داروں اور محلے داروں کے لئے کھانے کا حکم۔

    جنازے کے بعد رشتے داروں اور محلے داروں کوبطورِ دعوت کھلایا جانے والا کھانا ناجائز و ممنوع ، بدعت سیئہ و قبیحہ ہے،چاہے وہ اس کے گھر کے افراد کی طرف سے ہویا محلہ و برادری کے افراد کی طرف سے ہوکہ دعوت خوشی کے موقع پر ہوتی ہے، موت اس کا محل نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نمازِ جنازہ کے بعد میت کے گھروالوں یا اہلِ محلہ کی طرف سے لوگوں کو کھانا کھانے کی دعوت دینا ناجائز و گناہ ہے اور اغنیاء کے لیےوہ کھاناکھانا، ناجائز ہے،البتہ فقراء کھا سکتے ہیں۔

    ردالمحتار میں ہے: یکرہ اتخاذالضیافۃ من الطعام من اھل المیت لانہ شرع فی السرور ولا فی الشرور وھی بدعۃمستقبحۃ ۔ ترجمہ: میت کے گھر والوں کی طرف سے دعوت کا اہتمام کرنا مکروہ (تحریمی)ہے،اِس وجہ سے کہ دعوت کا اہتمام کرنا خوشی کے موقع پر مشروع ہے،غمی میں مشروع نہیں اور یہ دعوت کرنا بدعتِ قبیحہ ہے۔(ردالمحتارمع الدر مختار ،جلد3،صفحہ175،مطبوعہ پشاور)

    امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:یہ(میت کی)دعوت خود ناجائزو بدعتِ شنیعہ قبیحہ ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 662،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    پھر یہ ممانعت تین دن تک ہے اسکے بعد ممانعت نہیں ہے، کیونکہ معمول تین دن کا ہی ہے۔ چنانچہ فتاوی تاتار خانیہ میں ہے: لا یباح اتخاذ الضیافۃ عندہ ثلاثۃ ایام۔ترجمہ:میت والوں کا تین دن تک دعوت کے طور پر کھانا تیار کرنا،جائز نہیں۔(فتاوی تاتارخانیہ،جلد2،صفحہ139، مطبوعہ کراچی)

    امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اِس بارے میں فرماتے ہیں:تین دن تک اِس کا معمول ہے،لہٰذا ممنوع ہے،اِس کے بعد بھی موت کی نیت سے اگر دعوت کرے گا،ممنوع ہے۔(فتاوی رضویہ،جلد9،صفحہ667،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    میت کا کھانا صرف فقراء کھا سکتے ہیں، اغنیاء کے لیے کھانا، جائز نہیں،جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے:اغنیاء کو اِ س (یعنی جو کھانا ایامِ موت میں بطورِ دعوت دیا جائے،اُس)کا کھانا، جائز نہیں۔(فتاوی رضویہ،جلد9،صفحہ614،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    3: ان امور کے لئے کمیٹی تشکیل دینا اور اس کمیٹی کا فنڈ جمع کرنے کا حکم۔

    اگر کمیٹی کا مقصد میت کے اہلِ خانہ کے طعام کا بندوبست کرنے کے لئے فنڈ جمع کرنا ہے ، تو بلاشبہ اسکا کمیٹی کا قیام اور فنڈ جمع کرنا ہر دو جائز و مستحب ہیں کہ جب میت کے اہلِ خانہ کے لئے کھانے کا بندوبست مستحب ہے تو اسکے انتظام کے لئے کمیٹی کی تشکیل وغیرہ بھی مستحب ہوگی۔

    لیکن اگر کمیٹی کا مقصد جنازے کے بعد رشتے داروں اور محلے داروں کوبطورِ دعوت کھلانا ہے تو اس صورت میں کمیٹی کی تشکیل اور فنڈ جمع کرنا ہر دو ناجائز ہوں گے کہ امر ناجائز پر معاونت بھی ناجائز ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24رجب المرجب1444ھ/16فروری2023ء