قبر کی پیشن گوئی کرنا
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 255

    سوال

    ایک شخص جو اپنے آپ کو صوفی اور عالم دین کہتا ہے ۔ دوسرے لوگوں کے پلاٹ اور زمین پر جاکر کہتا ہے کہ یہاں صحابہ کرام اور اولیاء کے مزارات ہیں اور نشان رکھ دیتا ہے کہ یہاں قبر ہے ۔ حالانکہ وہاں نہ پہلے کوئی قبرستان تھا اور نہ ہی کوئی قبر ۔بلکہ لوگوں کے گھر اور کھیتی تھی ۔ ایسے شخص کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟

    نیز ایک عالم دین نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ شیطان ہے اور ایک حدیث پاک سنائی کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص شیطان ہے عالم دین نہیں ہے ۔ یہ بات زبانی تھی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ایسی کوئی حدیث ہو تو وہ بھی فتویٰ میں لکھ دیں اور حوالہ اور کتاب کا نام بھی لکھ دیں ۔سائل: امیر بخش : ٹھٹھہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شخص مذکور اگر واقعی ایسا کرتا ہے تو یہ جاہل صوفی ،اسکی بات قطعا نامعتبر، لوگوں پر ہرگز ضروری نہیں کہ اسکی بات کو مانیں،بلکہ اگر وہ ان افعال پر مصر ہے تو فاسق معلن ہے اسکو امام بنانا ،اسکے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، پڑھ لی تو اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہے ۔ اگر ایسے مزاروں کے لیے کہ جن کی حقیقت معلوم نہیں لوگوں کی زمین یا پلاٹ زبردستی لے لیتا ہے تو یہ غاصب محض ہے۔ اور بحکم احادیث کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں کا مستحق ہے۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی طرح کا سوال کیا گیا :جس شہید یا اولیاء اﷲ کے مزار کا حال ہم کو معلوم نہیں ہے کہ آیا کسی کی مزار ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کس کی ہے؟ مرد اہل اسلام ، یہودی یا نصارٰی یا عورت یہود، یا نصارٰی یا مسلمان کی، تو اس مزار پر فاتحہ پڑھنا یا بطریق مذکور نیاز وغیرہ کرنا کیسا ہے، چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا

    جواب: جس قبر کایہ بھی حال معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمان کی ہے یا کافر کی، ا س کی زیارت کرنی، فاتحہ دینی ہرگز جائز نہیں کہ مسلمان کی قبر کی زیارت سنت ہے ا ور فاتحہ مستحب،اور قبر کافرکی زیارت حرام ہے او راسے ایصال ثواب کاقصد کفر، قال اﷲ تعالٰی ولا تقم علٰی قبرہ وقال تعالٰی ومالہ فی الاٰخرۃ من خلاق وقال تعالٰی ان اﷲ حرمھا علی الکافرین۔ ترجمہ:اﷲ تعالٰی نے فرمایا اس کی قبرپر کھڑے بھی نہ ہونا۔ اور فرمایا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور فرمایا بیشک اﷲ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الجنائز ،جلد 9ص 533 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرح ایک اور مقام پر آپ سے سوال کیا گیا :کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلاًزید نے ایک قبر فرضی اور مصنوعی جس کا پہلے سے کوئی وجود نہ تھا،بنواکر یہ بات مشہور کی کہ اس قبر میں امروہہ کے زین العابدین تشریف لائے ہیں مجھ کو خواب میں بشارت ہوئی ہے، ایسی روایات سے اس قبر کی عظمت لوگوں کے سامنے بیان کرکے قبر پرستی کی طرف بلانے لگا۔حتی کہ اس میں اس کو کامیابی ہونے لگی اور بہت سی مخلوق اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔ اس قبرپر چادریں اور مرغ اور بکری ا و رمٹھائیاں، روپیہ ا ور پیسہ چڑھانے لگے۔ا ور اپنی مرادیں اورمنتیں اس قبر سے مانگنے لگے۔ اور زید ا س آمدنی سے متمتع ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے واسطے شریعت کیا حکم لگا تی ہے؟ آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ کیا ایسا شخص فاجرو فاسق وکافر ہے؟ کیا ایسا شخص کا نکاح باطل ہوتا ہے؟ کیا ایسے شخص کے جلسوں میں شریعت شرکت کی اجازت دیتی ہے؟ آیا ایسے شخص سے رشتہ قرابت رکھا جائے؟ نیز اس شخص کے متعلق بھی استفسار کیا جاتا ہے جو زید کے اس معاملہ سے خوش ہے اور اس کاممدو معاون اس معاملہ میں ہے یا ایک ایسا شخص ہے جو زید کو اس معاملہ سے باز رکھ سکتا ہے مگر ساکت ہے ۔بینواتو جروا

    آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں :قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے، اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں، زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصاً وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں قال تعالٰی: ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ بلکہ وہ بھی جو باوصفِ قدرت ساکت ہے۔قال تعالٰی : کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون وہ برے کام سے ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے، کیا ہی برا کام وہ کرتے تھے ۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الجنائز ،جلد 9ص 425 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    غصب کے بارے میں بخاری شریف میں ہے کہ :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کاطوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    یوں ہی ایک اور حدیث میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔(بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)

    نیز سوال میں جو حدیث ذکر کی گئی وہ ہمارے علم میں نہیں ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 09 ربیع الثانی 1440 ھ/ٍ17 دسمبر 2018 ء