زکوۃ سے قرض کی ادائیگی کے لئے شرط لگانا

    zakat se qarz ki adaigi ke liye shart lagana

    تاریخ: 6 جولائی، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 1576

    سوال

    میں شرعی فقیر ہوں اور دو آدمیوں کا مقروض تھا۔ ایک کا تیس لاکھ اور دوسرے کا ستر لاکھ قرض تھا۔ تیس لاکھ والے نے مجھے زکوٰۃ دی جو میں نے قبول کر کے اسے اس کا قرض ادا کر دیا جس کے بعد اب اس کا کوئی قرض باقی نہیں رہا۔ اب وہی شخص جس کا قرض ادا ہو چکا ہے وہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ میں آپ کو مزید زکوٰۃ کی رقم دوں گا لیکن اس شرط پر کہ اس رقم کا تیس فیصد میں خود رکھوں گا کیونکہ کئی سال تک میری رقم آپ کے پاس پھنسی رہی جس سے میرا نقصان ہوا جبکہ ستر فیصد رقم میں آپ کے دوسرے قرض خواہ کو دوں گا تاکہ آپ کا قرض ادا ہو جائے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا اس طرح اس سے زکوٰۃ لینا اور اسے تیس فیصد رقم رکھنے دینا کیا شرعی طور پر درست ہے یا یہ سود کے زمرے میں آئے گا؟ براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔ سائل:محمد انیس قادری:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب پہلی بار اس نے اپنے ہی قرض چکانے کے لئے آپکو زکوۃ دی اور آپ نے وہ رقم قرض کی مدمیں واپس کردی تو اس طرح اسکا قرض ادا ہوگیااور اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں فقہاء کرام نے مقروض کے لئے قرض سے خلاصی کا یہ حیلہ ذکر فرمایا ہے۔

    در مختار میں ہے :وَحِيلَةُ الْجَوَازِ أَنْ يُعْطِيَ مَدْيُونَهُ الْفَقِيرَ زَكَاتَهُ ثُمَّ يَأْخُذَهَا عَنْ دَيْنِهِ۔ترجمہ:اور جواز کا حیلہ یہ ہے کہ اپنے قرضدار فقیر کو اپنی زکوۃ دے پھر وہ زکوۃ قرض کی مد میں واپس لے لے۔(الدرالمختار کتاب الزکوۃ جلد 2 ص 221)

    صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں :فقیر پر قرض تھا معاف کر دیا اور یہ نیّت کی کہ فلاں پر جو دَین ہے یہ اُس کی زکاۃ ہے ادا نہ ہوئی۔(بہار شریعت ،جلد 01 ص 889،المدینہ)

    اسی میں ایک اور مقام پر ہے:فقیر پر قرض ہے اس قرض کو اپنے مال کی زکاۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کر دے اور وہ میرے مال کی زکاۃ ہو جائے یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے زکاۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے۔( بہار شریعت ،جلد 01 ص 890،المدینہ)

    لیکن دوسری بار اس شرط کے ساتھ زکوۃ دینا کہ بعد از قبضہ اسکا 30 فیصد واپس کرنا ہوگا درست نہیں جب زکوۃ فقیرِ شرعی کو دی جائے گی اس وقت وہ رقم کا مکمل مالک و مختار ہوگا وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے خرچ کرے۔ اس شر ط کی کچھ پاسداری اس پر لازم نہیں۔نیزمزکی کا یہ کہنا'' کہ کئی سال تک میری رقم پھنسی رہی لہذا اسکے سبب مجھے جو نقصان ہوا '' اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ 30 فیصد قرض پر بطورِ نفع تقاضا کررہا ہے جو کہ شرعاً ناجائز، حرام ہے کیونکہ قرض پر حاصل ہونے والا نفع سود ہے جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً، فَهُوَ رِبًا"ترجمہ:ہر وہ قرضہ جو نفع دے وہ سود ہے ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ،باب من کرہ کل قرض جر منفعۃ، رقم :20690)

    اور قرآن و حدیث کے حکم سے سود حرامِ قطعی ہے : قرآن مجید میں اللہ کریم کا ارشاد ہے:وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔(الْبَقَرَة ، 2 : 275)

    دوسری جگہ ارشادہے :یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو۔(الْبَقَرَة ، 2 : 278)

    صحیح البخاری میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»ترجمہ: حضرت ابو ہرہرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ وبرباد کرنے والی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا:”(1)شرک کرنا(2)جادو کرنا (3)اسے ناحق قتل کرنا کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا (4)سود کھانا (5)یتیم کا مال کھانا (6)جنگ کے دوران مقابلہ کے وقت پیٹھ پھیرکربھاگ جانا(7) اور پاکدامن،شادی شدہ، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون اموال الیتمی الحدیث:2766)

    ہاں اگر یہ شرط نہ لگاتا اور فقیرِ شرعی کو زکوۃ دے دیتا اور یہ فقیرِ شرعی اس پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی طرف سے بطورِ احسان وتبرع دے دیتا کہ پہلے اس نے اپنا قرض اتارنے کے لئے اور اب دوسرے شخص کا قرض اتارنے کے لئے زکوۃ سے مدد کی تو اس کی گنجائش تھی کہ احسان کا بدلہ احسان ہے جیساکہ جب کوئی مقروض اپنی جانب سےقرض خوہ کو قرض سے زائد رقم دے دے تو اس رقم کا دینا اور لینا دونوں جائز ہے۔

    مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے: قال الطيبي: إذا تصدق على المحتاج بشيء ملكه فله أن يهدي به إلى غيره وهو معنى قول ابن الملك: فيحل التصدق على من حرم عليه بطريق الهدية. ترجمہ: طیبی نے فرمایا: جب کسی ضرورت مند کو کوئی چیز صدقہ کی جائے اور وہ اس کا مالک بن جائے، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے کو ہدیہ (گفٹ) کر دے۔" اور یہی ابنِ ملک کے اس قول کا معنی ہے کہ: "جس شخص پر صدقہ لینا حرام ہے، اس کے لیے ہدیہ کے ذریعے (وہی مال) حلال ہو جاتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح،رقم:1825،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل له الصدقة، ط: دار الفكر- بيروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: ذوالعقدہ 1447ھ/ 27 اپریل 2026 ء