موبائل فون سے لقمہ لینا
    تاریخ: 16 فروری، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 787

    سوال

    نمازِ تراویح میں امام صاحب بھول جائیں تو سامع کا موبائل سے قرآن دیکھ کر لقمہ دینا کیسا ؟

    سائل: عبد اللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سامع کا موبائل سے دیکھ کر لقمہ دینا مفسدِ نماز ہے۔ جب اس عمل سے نماز فاسد ہو گئی تو لقمہ دینا والا نماز سےخارج ( نکل) ہو گیا اور خارج عن الصلاۃ شخص سے لقمہ لینے سے امام کی نماز بھی فاسد ہو جاتی ہے اور امام کی نماز کا فساد مقتدیوں کی نمازکا فساد ہے لہذا سب کی نماز فاسد ہو جائے گی۔

    سامع کا موبائل فون سے لقمہ دینا نماز کو فاسد کر دے گا

    تعلیم و تعلم

    جب نمازی قرآن پاک دیکھ کر تلاوت کرے گا تو گویا قرآن پاک سے سیکھ کر تلاوت کرے گا اور نماز میں کسی سے سیکھنے کا عمل نماز کو توڑ دیتا ہے۔ فقہائے کرام نے قرآن دیکھ کر پڑھنے کو خارجِ نماز سے لقمہ لینے کی نظیر ٹھہرایا کہ جیسے کوئی شخص نماز سے خارج شخص سے سیکھتے ہوئے نماز میں قرآن پڑھے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح اس سے بھی ہو جائے گی ۔

    درمختارمیں ہے :(وقراتہ من مصحف )ای :مافیہ قرآن (مطلقا)لانہ تعلم ۔ ترجمہ: مصحف یعنی جس میں قرآن لکھاہے اس سے دیکھ کر تلاوت کرنا مطلقا مفسدنمازہے ، کیونکہ یہ سیکھنا ہے ۔

    علامہ شامی علیہ الرحمہ ردالمحتارمیں "لانہ تعلم کے تحت" فرماتے ہیں : ذکروا لابی حنیفۃ فی علۃ الفساد وجھین ، احدھما ان حمل المصحف والنظر فیہ وتقلیب الاوراق عمل کثیر ، والثانی انہ تلقن من المصحف فصار کما اذا تلقن من غیرہ، وعلی الثانی لا فرق بین الموضوع والمحمول عندہ وعلی الاول یفترقان، وصحح الثانی فی الکافی تبعا للسرخسی۔ ترجمہ: علمائے کرام نے نماز فاسد ہونے کے متعلق امام اعظم علیہ الرحمہ کے مؤقف میں دو علتوں کو ذکر فرمایا ہے ، ان میں سے ایک یہ کہ قرآن پاک اٹھانا ، اس میں دیکھنا ، اس کے ورق پلٹنا عمل کثیر ہے ، اور دوسری علت یہ ہے کہ یہ قرآن پاک سے سیکھنا ہے لہذا یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی اور سے سیکھے ، دوسری علت کی بنا پر سامنے رکھے ہوئے اور اٹھائے ہوئے قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہو گا اور پہلی علت میں فرق واقع ہو گا ، دوسری علت کو کافی میں امام سرخسی کی اتباع کرتے ہوئے صحیح قرار دیا ہے ۔ (درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ ، ، جلد02، صفحہ463-464، مطبوعہ کوئٹہ)

    ہدایہ میں ہے: وإذا قرأ الإمام من المصحف فسدت صلاته عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى وقالا هي تامة " لأنها عبادة انضافت إلى عبادة أخرى " إلا أنه يكره " لأنه تشبه بصنيع أهل الكتاب ولأبي حنيفة رحمه الله تعالى أن حمل المصحف والنظر فيه وتقليب الأوراق عمل كثير ولأنه تلقن من المصحف فصار كما إذا تلقن من غيره وعلى هذا لا فرق بين المحمول والموضوع وعلى الأول يفترقان۔ترجمہ: اور جب امام مصحف سے قرات کرے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک اور صاحبین صاحب نے فرمایا نماز تام ہے کیونکہ یہ ایک عبادت ہے جو دوسری عبادت سے مل گئی ہے مگر مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل ِ کتاب کے فعل سے مشابہت ہے، امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کو اٹھانا اور اس میں دیکھنا اور اوراق پلٹنا عمل کثیر ہیں اور اس لئے بھی کہ اس نے مصحف سے لقمہ لیا ہے جو کہ ایسا ہے جیسے کسی غیر سے لقمہ لیا۔ اور اسی پر کہتے ہیں کہ اٹھائے ہوئے اور ارکھے ہوئے قرآن سے پڑھنے میں کوئی فرق نہیں لیکن پہلی صورت میں دونوں کا حکم الگ ہوگا۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، باب ما یفسد الصلوۃ جلد 1 ص 63 بیروت)

    فتاوٰی امجدیہ میں ہے: اگرچہ مصحف شریف کی طرف نظر کرنا عبادت ہے مگر اس میں دیکھ کر پڑھنا خارج سے تعلم ہے اور یہ منافی نمازجیسے زبان سے حالت نماز میں امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ، اگرچہ یہ دونوں عبادت ہیں مگر چونکہ منافی نماز ہیں لہذا نماز فاسد۔ (فتاوی امجدیہ ، جلد1، صفحہ185، مکتبہ رضویہ ، کراچی)

    حدیثِ ذکوان سے ایک اشکال اور اس کا جواب:

    امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اس حدیث کو تعلیقاً ذکر کیاہے: وَکَانَتْ عَائِشَةُ یَؤُمُّھَا عَبْدُھَا ذَکوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ۔ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے غلام ذکوان قرآن دیکھ کر نماز پڑھاتے تھے۔ (صحیح البخاری، باب إمامة العبد والمولی، حدیث 692)

    یہی روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں اس طرح ہے: کَانَ یَؤُ مُّ عَائِشَةَ عَبْدٌ یَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ۔ ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے غلام ذکوان نماز پڑھاتے تھے اور وہ قرآن دیکھ کر قراء ت کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث:7293)

    اس حدیث کے محدثین نے کئی جوابات دیے ہیں:

    علامہ عینی رحمہ اللہ تعالٰی لکھتے ہیں: أثر ذکوان إن صح فھو محمول علی أنہ کان یقرأ من المصحف قبل شروعہ في الصلاة أي ینظر فیہ ویتلقن منہ ثم یقوم فیصلي، وقیل مادل فإنہ کان یفعل بین کل شفعین فیحفظ مقدار ما یقرأ من الرکعتین، فظن الراوی أنہ کان یقرأ من المصحف۔ ترجمہ: اس اثر کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس بات پرمحمول ہوگا کہ ذکوان نماز شروع کرنے سے پہلے قرآن دیکھتے تھے، پھر ذہن نشین کرکے نماز پڑھاتے تھے،کہا گیا ہے اس بات پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ذکوان ہر دورکعت بعد یہ عمل کرتے اور اگلی دو رکعت میں جتنا پڑھنا ہوتا وہ یاد کرلیتے۔ اسی کو راوی نے یہ گمان کرلیا کہ وہ قرآن دیکھ کر قراء ت کرتے تھے۔(البنایہ شرح ہدایہ، جلد 2 ص 504)۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27ربیع الاول1444 ھ/14اکتوبر 2023 ھ