سوال
میرا ایک مکان ہے جس کی پاور میرے پاس ہے اس کی لیز مکمل ہونے کے بعد بیٹیوں کے نام کر دوں گا۔اس مکان کی مالیت تقریبا چار کروڑ ہے ۔اس کے علاوہ میرا ایک فلیٹ ہے جس کی مالیت ایک کروڑ ہے یہ میری بیٹی کے نام ہے اس کا کرایہ آتا ہے اس کے علاوہ میری ماہانہ پنشن آتی ہے ۔یہ سب آمدنی میرے میرے گھر کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں لگ جاتی ہے۔اس کے علاوہ میرے نام پر دو گاڑیاں ہیں جو کہ میرے بچے استعمال کرتے ہیں ۔۔
ماہانہ کرایہ :131000
پنشن :67000
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں بتائیں کہ مجھے کتنی زکوۃ دینی ہے۔اور جو زکوۃ دینی ہے اس کو گریب بچیوں کی شادی یا مساجد کی تعمیر میں دے سکتا ہوں ۔
سائل: ناصر خان لودھی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
روپوں پیسوں اور مالِ تجارت زکوۃ میں زکوۃ اس وقت فرض ہو گی جب (ان سے قرض ، روزہ مرہ کی ضرورت و حاجت وغیرہا الگ کرنے کے بعد )ساڈے باون تولہ چاندی کے برابر ہوں۔ مالِ تجارت میں زکوۃ اس وقت فرض ہو گی جب خریدتے وقت خالص تجارت کی نیت ہو ۔اگر نیت خریدتے وقت نہیں تھی یا تھی مگر بعد میں نیت بدل گئی تو اس مال پر بھی زکوۃ نہیں ہو گی ۔
حکم شرعی :
1:۔سوال میں جن مکانات اور گاڑیوں کا ذکر ہوا آپ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ذاتی استعمال کے لیے ہیں تجارت کے لیے نہیں لہذا ان پر زکوۃ نہیں۔ رقم کا پر زکوۃ کے حوالے سے ضابطہ یہ ہے کہ اگر گھریلو اخراجات روزہ مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے بعد ساڈے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم بچ جاتی ہے تو اس صورت آپ صاحب ِنصاب کہلائیں گئے لہذا نصاب پر سال مکمل ہونے پر زکوۃ کی ادائیگی فرض ہو جائے گی ورنہ نہیں ۔
2:۔جسے بھی زکوۃ دیں اس کا مسلمان ،غیر ہاشمی اور شرعی فقیر ہونا ضروری ہے نیز اسے مالِ زکوۃ کا مالک بنانا ضروری ہے تو یہ غریب بچیاں اگر مستحقِ زکوۃ ہو ں تو انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں لیکن اس میں انہیں مال کا مالک بنانا ہو گا۔
محیط برہانی میں ہے:’’مال الزکاۃ الأثمان و ھو الذھب والفضۃ وأشباھھا والسوائم وعروض التجارۃ‘‘ترجمہ:زکوٰۃ کے مال (یہ)ہیں :ا ثمان یعنی سونا چاندی اور ان کی مثل (کوئی دوسری کرنسی) ، چرائی کے جانوراور تجارت کا سامان۔ (المحیط البرھانی ،کتاب الزکاۃ،الفصل الثالث ،جلد2،صفحہ383،مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہواکہ زکوٰۃ کن کن اشیاء پر واجب ہے ؟ آپ علیہ الرحمۃ نے جواباًارشادفرمایا:’’سوناچاندی اورمال تجارت اورچرائی پر چھوٹے ہوئے جانور۔(فتاوی رضویہ،جلد10،صفحۃ139،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
در مختار میں ہے:او اشتری شیئا للقنیۃ ناویا انہ ان وجد ربحا باعہ لا زکاۃ علیہ ۔ترجمہ:اگر کسی نے خاص اپنے لیے کوئی چیز خرید ی یہ نیت کرتے ہوئے کہ اگر نفع ملا تو بیچ دوں گا تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں۔(تنویرالابصارمع الدر،جلد:03،صفحہ195،مطبوعہ امدادیہ ملتان)۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجرا:02جمادی الاولی 1444 ھ/17نومبر 2023 ھ