ملحد کا مسلمان سے شادی کرنا
    تاریخ: 16 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 789

    سوال

    ایک شخص اپنے ہونی والی بیوی کو میسج دیتا ہے کہ میں شیطان سے بھی بدتر ہوں اور میرا نہ کوئی دین ہے نہ مذہب اور میرا اللہ سے کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر کوئی یقین نہیں ہے۔ اور اپنے آپ کو ملحِدظاہر کرتا ہے اور اس کے توبہ کرنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے اور جب اس کی شادی ہوئی تو شادی کے بعد بھی اپنی بیوی کے سامنے بھی یہی الفاظ دو سے تین مرتبہ دھرائے ۔اور لڑکی چار پانچ ماہ کی حاملہ بھی ہے اور مذکورہ شخص یہی کہتا ہے کہ میرا بچہ بھی میرا نہیں ہے ۔

    براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی عمر میں اس سوال جواب عنایت فرمائیں۔

    سائل: غلام قادر/ بلوچستان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر اس شخص نے سوال میں ذکر کردہ الفاظ (میرا نہ کوئی دین ہے نہ مذہب اور میرا اللہ سے کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر کوئی یقین نہیں ہے)ہوش و حواس میں کہے تو یہ شخص کافرہو گیا۔اور کافرسے مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہو سکتا۔اگر خاتون کو اور معاونین ِنکاح کو اس شخص کے نظریات کا علم تھا اس کے باوجود نکاح کر دیا تو یہ سب کے سب سخت گنہگار ہوئے ۔ان تمام پر اللہ کی بارگاہ میں توبہ فرض ہے اور لازم ہے کہ فی الفور ان کے مابین علیحدگی کروا ئیں۔

    میرا نہ کوئی دین ہے نہ مذہب اور میرا اللہ سے کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر کوئی یقین نہیں ہےمیرا نہ کوئی دین ہے نہ مذہب :یہ جملہ دین سےبیزاری اور براءت پر مبنی ہے جو کہ الحاد کو ظاہر کرتا ہے کہ میرا تعلق کسی بھی دین و مذہب سے نہیں اور میں اپنے آپ کو کسی بھی دین کا پابند نہیں سمجھتا۔ قائل کے اس جملہ کے معنی و مفہوم کو اس کامابعد جملہ میرا اللہ سے کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر کوئی یقین نہیں ہے ۔ بھی صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس کے سواء اس کی اور کیا مراد ہو سکتی ہے!! الا یبین المعنی الصحیح الناشی من دلیل او بلا دلیل۔

    پروردگار عالم نے دین میں اسلام کو پسند فرمایا :وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (المائدہ:03)

    سورہ حج میں ارشاد فرمایا :مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ-هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ۚۖ۔ تمہارے باپ ابراہیم کا دین اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو اور تم اور لوگوں پر گواہی دوت (حج: 78)

    اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-ترجمہ: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔(آل عمران:19)

    میرا اللہ سے کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر کوئی یقین نہیں ہےاس جملہ میں اللہ تعالی کےخالق ِافعال ہونے کے ساتھ ساتھ قدرت کی نفی ہے کہ معاذ اللہ !وہ فعال لما یریدنہیں ۔یہ صریح کفرہے ۔ سو مذکورہ جملے بکنے کے سبب یہ شخص کافر ہو گیا ۔

    ارشاد باری تعالی ہے:فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔(ہمیشہ) جو چاہے کرنے والا ہے ۔(البروج: 16)

    آل عمران میں ارشادِ رب قدیر ہے:وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔ترجمہ: اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(آل عمران:189)

    حج میں ارشادمالک و خالقِ ماکان ومایکون ہے:اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ۔ترجمہ: بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔(الحج:18)

    وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِی الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْن۔ترجمہ:جو کوئی ایمان کا منکر ہو تو اس کا عمل برباد ہو گیا اوروہ آخرت میں خسارے میں چلا گیا۔(المائدہ:05)

    مسلمان عورت کا کافر سے نکاح کرنا

    مسلمان عورت کا مشرک مردسے نکاح نہیں ہو سکتاارشاد باری تعالی ہے :وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ-وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۚۖ-وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖۚ-وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۔مسلمان عورتوں کو) مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ مشرک تمہیں پسندہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔(البقرۃ:221)

    علامہ ابن جریر طبری سورۂ بقرہ کی آیت کے تحت بعض سلف کا یہ قول نقل کرتے ہیں:یعنی تعالی ذکرہ بذلک ان اللہ قد حرم علی المومنات ان ینکحن مشرکا کائنا من کان المشرک ومن ای اصناف الشرک کان، فلا تنکحوہن ایہا المومنون منہم فان ذلک حرام علیکم ولان تزوجوہن من عبد مومن مصدق باللہ وبرسولہ وبما جاء بہ من عند اللہ خیر لکم من ان تزوجوہن من حر مشرک ولو شرف نسبہ وکرم اصلہ وان اعجبکم حسبہ ونسبہ۔ترجمہ:اللہ تعالیٰ کا مقصود اس سے یہ ہے کہ اس نے مومن عورتوں پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ کسی مشرک سے نکاح کریں، خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور اس میں جس نوعیت کا شرک بھی پایا جاتا ہو، اس لیے اے جماعتِ مومنین! تم ان عورتوں کا نکاح ان مشرک مردوں سے نہ کرو، کیوں کہ ایسا کرنا تم پر حرام ہے۔ان کا نکاح تم اللہ ، اس کے رسول اور اس کی طرف سے لائی گئی وحی پر ایمان رکھنے والے مومن غلام سے کرو، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کا نکاح کسی آزاد مشرک سے کر ڈالو؛اگرچہ اس کا حسب و نسب اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو اور اس کی خاندانی نسبت اور حسن وجمال تم کو متاثر ہی کیوں نہ کرے۔‘‘ ارشاد باری تعالی ہے :وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۔ترجمہ: اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا۔ (النساء :41)

    اللہ تعالی نے کافروں کو مسلمان پر قدرت نہیں دے گا اور بیوی مرد کے ماتحت ہوتی ہے تو کافر سے مسلمان عورت کا نکاح کرنے میں کافر کو مسلمان پر قدرت دینا ہے جو کہ منشائے ربی کے خلاف ہے ۔

    علامہ علاؤ الدین کاسانی رحمۃ اللہ علیہ مشرک مرد سے نکاح نہ ہونے کی حکمت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ومنها: إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمةً فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر ؛ لقوله تعالى : ﴿ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوا﴾۔ترجمہ:نکاح کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ جب عورت مسلمان ہو تو مرد کا بھی مسلمان ہونا شرط ہے پس مومنہ عورت کا نکاح کافر مرد سے جائز نہیں ۔اللہ تعالی کے فرمان :اور اپنی عورتوں کا نکاح کافر مردوں سے نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں۔

    اس کی حکمت کے متعلق اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : لأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه، وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل:﴿ أُولٰئِكَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ﴾؛ لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النارترجمہ:کیوں کہ مومنہ کا کافر سے نکاح کرنے میں مومن عورت کے کفر میں چلے جانے کا اندیشہ ہے کیوں کہ شوہر عورت کو اپنی دین کی طرف بلائے گا اور عورتیں عادات و اطوار میں مردوں کے وہ افعال جو مؤثر ہوتے یا دین میں لائقِ تقلید ہوتے ہیں ہیں ان کے پیچھے چلتی ہیں آیت کے آخر میں (اسی کی طرف) اشارہ ہے کہ فرمان باری تعالی ہے :اور وہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ مومن عورتوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور کفر کی طرف بلانا جہنم کی طرف بلانا ہے ۔(بدائع الصنائع جلد صفحہ )

    ڈاکٹر وہبہ زحیلی اس حکمت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:وسبب تحریم زواج المسلم بالمشرکۃ والمسلمۃ بالکافر مطلقا کتابیا کان او مشرکا ہو ان اولئک المشرکین والمشرکات یدعون الی الکفر والعمل بکل ما ہو شر یودی الی النار، اذ لیس لہم دین صحیح یرشدہم ولا کتاب سماوی یہدیہم الی الحق مع تنافر الطبائع بین قلب فیہ نور وایمان وبین قلب فیہ ظلام وضلال، فلا تخالطوہم ولا تصاہروہم اذ المصاہرۃ توجب المداخلۃ والنصیحۃ والالفۃ والمحبۃ والتاثر بہم وانتقال الافکار الضالۃ والتقلید فی الافعال والعادات غیر الشرعیۃ، فہولاء لا یقصرون فی الترغیب بالضلال مع تربیۃ النسل او الاولاد علی وفق الاہواء والضلالات۔ترجمہ مسلمان مرد کے مشرک عورت کے ساتھ اور مسلمان عورت کے علی الاطلاق کافر مرد، خواہ وہ کتابی ہو یا مشرک، کے ساتھ نکاح کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مشرک مرد اور عورتیں، کفر اور واصل جہنم کرنے والے اعمالِ شرکے داعی ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے پاس باعث ہدایت کوئی صحیح دین اور حق کی طرف رہ نمائی کرنے والی کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے، نیز نور وایمان اور ظلمت و ضلال کے دلوں کے فرق کے لحاظ سے ان کی طبیعتوں میں تضاد ہے، اس لیے نہ تو ان کے ساتھ اختلاط کرو اور نہ ان کے ساتھ رشتہ داریاں قائم کرو؛ کیوں کہ رشتے داریاں، تعلق باہمی، خیر خواہی، محبت و الفت، ان سے متاثر ہونے، گمراہ کن افکار کے منتقل ہونے اور غیر شرعی عادات و اعمال کی تقلید کا باعث ہوتی ہیں؛ اس لیے کہ یہ لوگ گم راہی کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات اور گم راہیوں کے مطابق نسل کی تربیت میں کوتاہی نہیں کرتے۔( وہبہ زحیلی، التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنہج جلد 02،صفحہ 292، دمشق، دار الفکر المعاصر)

    خاتون، اس کے والدین ، رشتہ دار اہل علاقہ ،تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس شخص سے فی الفور بائیکاٹ کریں اللہ عزوجل فرماتاہے: وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ترجمہ کنز الایمان :اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(الانعام :68)

    اس آیت کے تحت تفسیرات احمدیہ میں ہے: دخل فیہ الکافر والمبتدع والفاسق والقعود مع کلھم ممتنع ترجمہ :اس آیت کے حکم میں ہر کافر ومبتدع اور فاسق داخل ہیں اور ان میں سے کسی کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہیں ۔(التفسیرات الاحمدیہ تحت آیۃ :06)

    اللہ عزوجل فرماتاہے: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ.ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی۔(ھود:113)

    صدر الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے تحت لکھتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافِروں اور بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ، رسم و راہ ، مَوَدّت و مَحبت ، ان کی ہاں میں ہاں ملانا ، ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے۔ (خزائن العرفان ،صفحہ437، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

    صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے،حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ. ترجمہ:ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کروکہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔ (صحیح مسلم ،باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء ،رقم الحدیث:7)

    نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے گمراہوں اور گمراہ گروں کے حوالے سے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا:”فإياكم وإياهم،لا يضلونكم، ولا يفتنونكم “ترجمہ: تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں ،کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔ (صحیح المسلم، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء ،جلد1 ،صفحه 33،مطبوعه لاھور)

    دوسری حدیث میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:”فلا تجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتؤاکلوھم ولاتناکحوھم“ ترجمہ: نہ تم اُن کے پاس بیٹھو ،نہ ان کے ساتھ کھاؤ ،پیو ، نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو۔(کنزالعُمّال، جلد6،کتاب الفضائل ، باب ذکر الصحابۃ، صفحہ 246،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ، بیروت)

    مشورہ :

    علاقہ کے علمائے کرام مفتیان عظام سے گزارش ہے کہ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے اس نفسیاتی شخص ھداہ اللہ تعالی کی اصلاح کریں تاکہ دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11ربیع الثانی 1444 ھ/26اکتوبر2023 ھ