سوال
میرے بیتے وقار خان نے کسی وجہ سےدوسری شادی کر لی تو جب پہلی بیوی کو لینے گیا تو اس کے گھر والوں نےآنے نہیں دیا اور کہا کہ اب وہ نہیں آئے گی۔پھر کچھ عرصہ بعد اس کے بھائیوں نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ آ کر پیپر پر سائن کر دو نہیں تو تمہیں گھر سے اٹھوا دیں گے تو میرا بیٹا ٹال مٹول کرتا رہا ۔ پھر ایک دن اس کا بھائی آیا اور بیٹے کو کہا ساتھ چلو وہ گیا تو انھوں نےاس کی بیوی اور میرے بیٹے سے زبردستی سائن کروا ئے ۔تو کیا ایسی صورت میں طلاق ہو گئی کہ نہیں ؟
لڑکے کا بیان :
لڑکے سے جب بات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ میرا سالہ مجھے گدی سے پکڑ کر لے گیا میں جا نہیں رہا تھا تواس نے دو تھپڑ مارے پھر لے گیا اور کہا کہ پیپر پر سائن کر دو ورنہ اس پولیس والے(جوکہ اس کا ماموں تھا اور وہیں موجود تھا ) سے اٹھوا دوں گا اور پھر بھگتتے رہنا۔پھر انھوں نے مجھے قلم دیا میں نے اسے دو تین بار چلایا لیکن نہیں چلا جس پر میرے سالے نے مجھے تھپڑ مارا اور کہا جان بوجھ کر نہیں چلا رہا پھر اس نے چلایا تو بھی نہیں چلا پھر دوسرا قلم لائے تو میں نے سائن کر دیے۔اور میں قسم کھاتا ہوں کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔ہماری دو بیٹیاں ہیں مہربانی کر کے حل ارشاد فرمائیں!
سائلہ :نرگس جبار
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حکم شرعی :اگر وقار خان نے طلاق نامہ پرسائن طلاق کی نیت سے نہیں کیے نا ہی بعد میں اس طلاق کو جائز قرار دیا تو طلاق واقع نہیں۔
جبرو اکراہ کی صورت میں طلاق ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سےتفصیل یہ ہے کہ : (1) اگر اکراہ تام (اس کی وضاحت آگے آئے گی )ہو اور طلاق کا معاملہ تحریری صورت میں ہو تو شوہر طلاق کی نیت کیے بغیر دستخط کر دے تو طلاق واقع نہیں ہوتی اور اگر زبانی طلاق کا معاملہ ہوتو طلاق کی نیت نہ بھی کرے تب بھی طلاق ہو جاتی ہے کہ احناف کے نزدیک زبانی طلاق میں اکراہ معتبر نہیں ۔
( 2) اگر اکراہ ناقص ہو(اس کی تفصیل بھی آگے آئے گی) تو اس سے طلاق پر اثر نہیں پڑتا خواہ طلاق تحریری ہو یا تقریری ۔دونوں ہی صورتوں میں طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
مکرہ زبانی طلاق دے تو طلاق واقع ہو جائے گی تنویرالابصار میں ہے : ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولومکرھا ۔ترجمہ:ہر عاقل بالغ زوج کی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ مجبورکیا گیا ہو ۔
تحریری طلاق میں اکراہِ تام کا لحاظ ہوتا ہے ۔امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظِ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔(فتاوی رضویہ،جلد17 ،صفحہ 385رضا فاؤنڈیشن لاہور)
در پیش مسئلہ میں تحریری طلاق پر اکراہ ہوا ہے پس اگر ثابت ہو جائے کہ یہ اکراہ اکراہِ تام تھا تو اس صورت میں طلاق نہیں گی ورنہ ہو جائے گی ۔
اکراہِ تام
الاختیار میں ہے ؛ ھو الالزام والاجبار علی ما یکرھہ طبعا او شرعا فیقدم علیہ مع عدم الرضا لیدفع عنہ ما ھواضرمنہ۔ترجمہ:اس چیز پر مجبور کرنا جسے انسان طبعی یا شرعی لحاظ سے ناپسند کرتا ہو پس (اکراہ کی وجہ سے)وہ عدم رضا کے باوجود اس کام کو کر گزرے تا کہ اس سے وہ اذیت دور ہو جو اس (فعل)سے زیادہ اذیت ناک ہے(الاختیار لتعلیل المختار،کتاب الاکراہ جلد 02 صفحہ 49 ،دار الفیحاء)
ملتقی الابحر میں ہے :هُوَ فعل يوقعه الْإِنْسَان بِغَيْرِهِ يفوت بِهِ رِضَاهُ أَو يفْسد اخْتِيَاره مَعَ بَقَاء أَهْلِيَّته ۔ترجمہ:وہ فعل جسے انسان اپنے غیر کی وجہ سے انجام دے اس حال میں کہ اسے انجام دینے میں اس کی رضا مفقود ہو یا اس کا اختیار فاسد ہو جائے جبکہ اس کی اہلیت (عقل وغیرہا) باقی ہو ۔(ملتقى الأبحر (1 / 38)
بدائع الصنائع میں اکراہ تام کے بارے ہے: يُوجِبُ الْإِلْجَاءَ وَالِاضْطِرَارَ طَبْعًا كَالْقَتْلِ وَالْقَطْعِ وَالضَّرْبِ الَّذِي يُخَافُ فِيهِ تَلَفُ النَّفْسِ أَوْ الْعُضْوِ قَلَّ الضَّرْبُ أَوْ كَثُرَ،ترجمہ: جو طبعی طور پر جبر و اضطرار کو ثابت کر دے جیسے قتل اور ایسی مار جس سے جان جانے یا عضو کے تلف ہونے کا خدشہ ہو مار تھوڑی یا زیادہ ۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد 7 صفحہ 175 دار الکتب العلمیہ)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اکراہِ تام یہ ہے کہ مار ڈالنے یا عضو کاٹنے یا ضرب شدید کی دھمکی دی جائے۔ضرب شدید کا مطلب یہ ہے کہ جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً کسی سے کہتا ہے کہ یہ کام کر، ورنہ تجھے مارتے مارتے بیکار کر دوں گا۔(بہار شریعت ،حصہ 15،صفحہ189 مکتبۃ المدینہ)
اکراہ کی شرائط
اکراہ کی شرائظ کے حوالے سے در مختار میں ہے (وَشَرْطُهُ) أَرْبَعَةُ أُمُورٍ: (قُدْرَةُ الْمُكْرِهِ عَلَى إيقَاعِ مَا هَدَّدَ بِهِ سُلْطَانًا أَوْ لِصًّا) أَوْ نَحْوَهُ (وَ) الثَّانِي (خَوْفُ الْمُكْرَهِ) بِالْفَتْحِ (إيقَاعَهُ) أَيْ إيقَاعَ مَا هُدِّدَ بِهِ (فِي الْحَالِ) بِغَلَبَةِ ظَنِّهِ لِيَصِيرَ مُلْجَأً (وَ) الثَّالِثُ: (كَوْنُ الشَّيْءِ الْمُكْرَهِ بِهِ مُتْلِفًا نَفْسًا أَوْ عُضْوًا أَوْ مُوجِبًا غَمًّا يُعْدِمُ الرِّضَا) (وَ) الرَّابِعُ: (كَوْنُ الْمُكْرَهِ مُمْتَنِعًا عَمَّا أُكْرِهَ عَلَيْهِ قَبْلَهُ) إمَّا (لِحَقِّهِ) كَبَيْعِ مَالِهِ (أَوْ لِحَقِّ) شَخْصٍ (آخَرَ) كَإِتْلَافِ مَالِ الْغَيْرِ (أَوْ لِحَقِّ الشَّرْعِ) كَشُرْبِ الْخَمْرِ وَالزِّنَا ترجمہ: اکراہ کی شرائط چار ہیں :(۱)مکرِہ جس فعل کی دھمکی دے رہا ہے اس کے کرنے پر قادر ہو خواہ مکرہ بادشاہ ہو یا چور وغیرہ۔
(۲)مکرَہ( یعنی جس کودھمکی دی گئی ) کو غالب گمان کے ساتھ خوف ہو کہ جس کی دھمکی دے رہا ہے، وہ کر گزرے گا۔یہ شرط اس لیے ہے تاکہ(واضح ہو کہ) مکرہ حقیقی طور پر ملجی ہے ۔
(۳)جس چیز کی دھمکی ہے وہ چیز قتل کرنےہے یا عضو تلف کرنا ہو یا ایسا غم پیدا کرنا ہے جس کی وجہ سے (مکرہ کی)رضامندی فوت ہو جائے۔
(۴)جس کو دھمکی دی گئی وہ پہلے سے اس کام کو نہ کرنا چاہتا ہو اور اس کا نہ کرنا خواہ اپنے حق کی وجہ سے ہو مثلاً اپنا مال بیچنا یا کسی دوسرے کے حق کی وجہ سے ہو جیسے کسی شخص کا مال ہلاک کرنا ۔یا حق شرع کی وجہ سے ہو مثلاً شراب پینا، زنا کرنا۔(الدر المختار،کتاب الاکراہ، جلد 6 صفحہ 129،دار الفکر بیروت)
اختیار میں ہے:(وَ) لَا بُدَّ (أَنْ يَكُونَ الْمُكْرَهُ بِهِ نَفْسًا أَوْ عُضْوًا) كَالْقَتْلِ وَالْقَطْعِ. (أَوْ مُوجِبًا غَمًّا يَنْعَدِمُ بِهِ الرِّضَا)۔ترجمہ : جس کے ذریعے مجبور کیا گیا ضروری ہے کہ وہ جان یا عضوہو جیسے قتل کر دینا اور عضو کا کاٹ دینا وہ چیز ایسے غم کا موجب ہو جس سے رضا مندی منعدم ہو جا سکتی ہو (الاختیار لتعلیل المختار،کتاب الاکراہ جلد 02 صفحہ 50 ،دار الفیحاء)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : مگر یہ سب اس صورت میں جبکہ اکراہ شرعی ہوکہ اُس سے ضرر رسانی کااندیشہ ہوا اور وُہ ایذاء پر قادر ہو ۔(فتاوی رضویہ،جلد17 ،صفحہ 385رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ در مختار کے حوالہ سے لکھتے ہیں دو ایک کوڑا مارنا ضرب شدید نہیں ہے مگر آلات تناسل اور آنکھ پر مارنا کہ ان پر ایک کوڑا مارنا بھی ضرب شدید ہے۔ حَبْس مدیدیہ کہ ایک دن سے زیادہ ہو۔ ذی عزت آدمی کے لیے ضرب غیر شدید اور حبس غیر مدید میں وہی صورت ہے جو اوروں کے لیے ضرب شدید میں ہے۔
فتاوی نوریہ میں سوال کیا گیا : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین و مفتیان شرع متین اندرین مسئلہ کہ زید سےایک مجلس میں مجبور کر کے ایک لکھے ہوئے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگوا لیا حالانکہ زید نہ اس سے پہلے طلاق دینے پر رضا مند تھا، نہ بعد میں رضا مند ہوا بلکہ جس وقت نشان انگوٹھے لگوایا گیا، اس وقت بھی انکار کرتا رہا مگر نمبر داردیہ نے ڈرایا اور زد و کوب پر آمادگی ظاہر کی اور باہر نکلنے کے راستے اپنے ملازمین سے بند کروائے، ناچار زید نے طلاق نامہ پر اپنا انگوٹھے لگا دیا لیکن زبانی صراحتہ یا کنایہ زید نے طلاق نہیں دی بلکہ انکار ہی کرتا رہا، آیا یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو غیر مدخول بہا کے حق میں کونسی ہوئی ؟ بینوا توجروا عند الله العظيم۔ اس کے جواب میں حضرت علامہ مفتی ابو الخیر محمد نوراللہ نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اگر صورت سوال صحیح ہے اور واقعی زیدانکار طلاق کرتا رہا اور جبرا انگوٹھ لگوایا گیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی ، فتاوی عالمگیر میں ہے: رجل اكره بالضرب الضرب والحبس على ان يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان نكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضی خان عالمگیری ج ۲ ص ۶۴۱۶۳) والله تعالى اعلم وعلمه جل مجده اتم واحكم وصلى الله تعالى على حبيبه واله واصحابه وبارك وسلم –(فتاوٰ ی نوریہ ،جلد:3،صفحہ:160،دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور ضلع اوکاڑہ)
محاکمہ
اکراہ تام/ اکراہ شرعی کی تعریفات میں چند امور "حبس مدید " اور "أَوْ مُوجِبًا غَمًّا يَنْعَدِمُ بِهِ الرِّضَا" قابل غور ہیں ۔
1:۔وہ قید و بند جو ایک سے زیادہ دن کی ہو، حبسِ مدید کہلاتی ہے جیسا کہ علامہ شامی نے ماتن کے قول(بِخِلَافِ حَبْسِ يَوْمٍ أَوْ قَيْدِهِ) کے تحت لکھا : فيهِ إشَارَةٌ إلَى أَنَّ الْحَبْسَ الْمَدِيدَ مَا زَادَ عَلَى يَوْمٍ وَكَذَا يُسْتَفَادُ مِنْ الْعَيْنِيِّ وَالزَّيْلَعِيِّ۔(الدر المختار،کتاب الاکراہ، جلد 6 صفحہ 129،دار الفکر بیروت)
2:۔" أَوْ مُوجِبًا غَمًّا يَنْعَدِمُ بِهِ الرِّضَا" ایسی دھمکی جو غم و تکلیف کا باعث بنے اور اس کی وجہ سے فعل کی انجام دہی میں مکرَہ کی رضامندی ختم ہو جائے ۔یہ معاملہ لوگوں کے عرف و عادت پر محمول ہے کہ جس اکراہ سے شریف لوگ تکلیف کا شکار ہوتے ہوں،شریف آدمی کے حق میں ایسا اکراہ تام ہو گا اور بدمعاش کے حق میں ناقص ۔ علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ اکراہ کے اس درجہ کی بابت لکھتے ہیں :وَهَذَا أَدْنَى مَرَاتِبِهِ وَهُوَ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْأَشْخَاصِ فَإِنَّ الْأَشْرَافَ يُغَمُّونَ بِكَلَامٍ خَشِنٍ، وَالْأَرَاذِلَ رُبَّمَا لَا يُغَمُّونَ إلَّا بِالضَّرْبِ الْمُبَرِّحِ ابْنُ كَمَالٍ۔ترجمہ: یہ اکراہ کا سب سے ادنی درجہ ہے اور یہ مختلف لوگوں کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے کیوں کہ شریف لوگ تو فحش کلام سے بھی تکلیف زدہ ہو جاتے ہیں اور گھٹیا قسم کےلوگ تب تک نہیں ہوتے جب تک اذیت ناک مار نہ دی جائے۔(یہ ابن کمال سے منقول ہے) (الدر المختار،کتاب الاکراہ، جلد 6 صفحہ 129،دار الفکر بیروت)
مانحن فیہ مسئلہ میں یہ دونوں امور خصوصیت کے ساتھ پائے گئے کہ سائل کو طویل حبس ِ بے جا کی دھمکی دی گئی کہ تجھے قید کر کے ماریں گے یہاں تک کہ اسے معاملہ کے دوران اسے تھپڑ بھی مارے گئے ۔لہذا پوچھی گئی صورت اکراہ تام کی تھی سو عدمِ نیتِ طلاق کی بنیاد پر طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
رد المحتار میں ہے:فلو اکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃ باعتبارالحاجۃ ولاحاجۃھنا۔ترجمہ:ردالمحتار میں بحر کے حوالے سے ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو، اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ کتابت کو تلفّظ کے قائم مقام حاجت کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں ہے۔(ردالمحتار کتاب الطلاق جلد03صفحہ 236۔دار الفکر بیروت)
التماس ِفقہی:
3:۔ ہر صاحب مطالعہ پر یہ بات عیاں ہے کہ مذاہبِ اربعہ میں اکراہ کا اعتبار و لحاظ مختلف فیہ ہے یہاں تک کہ ہم احناف کے نزدیک بھی بعض تصرفات (جیسے بیع و شرا) میں قابلِ لحاظ ہے۔حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے پر امن دور کو ملحوظ رکھتے ہوئے اکراہ کو صرف اکراہ ِ سلطان میں مقید کرتے ہوئے فرمایا کہ غیر سلطان کا اکراہ اصلا معتبر نہیں اور صاحبین نے اپنے غیر محفوظ دور کے لحاظ سے غیرِ سلطان کے اکراہ کو بھی معتبر قرار دیا اور فقہائے کرام نے صاحبین کے قول اختیار کرتے ہوئے اسی پر فتویٰ دیا۔گزارش یہ ہے کہ جب ہم نے کتابتِ طلاق میں اکراہ تام کو معتبر قرار دے دیا تو ظلم و ستم کے جس دور دورے سے ہم گزر رہے کہ جہاں کوئی بھی، کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے اگر ایسے میں" اکراہ کی صورت میں کتابتِ طلاق " والے مسئلہ میں مزید گنجائش پیدا کر دی جائے تو عوام الناس کو جبری طلاق سے بچایا جا سکتا ہے ۔یہ آسانی دینے میں درج ذیل چیزوں کو ملحوظ رکھا جائے تا کہ مفاسد جنم نہ لیں:
1:۔یہ تحقیق کر لی جائے کہ سائن کرتےوقت مکرَہ کی نیت طلاق کی نہ تھی ۔
2؛۔اکراہ اس طرح کا ہو کہ اس میں ذہنی، جسمانی، مالی جبر نمایاں ہو رہا ہو اگرچہ یہ جبر جان یا عضو کاٹنے کی حد تک کا نہ ہو ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12جمادی الاخری 1444 ھ/26سمبر2023 ھ