مغصوبہ زمین پر مسجد و مدرسہ بنانا کیسا
    تاریخ: 16 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 792

    سوال

    کسی کے پلاٹ پہ پر ناجائز قبضہ کر کے سیاسی طاقت وغیرہ کے ذریعے سے ا سکو مسجد یا قبرستانی میں دے سکتے ہیں کیا یہ وقف کہلائے گا جبکہ جن کا پلاٹ ہے وہ فریقین کسی صورت وقف کرنے پر راضی نہیں ہیں اور کبھی جابر آدمی کہتے ہیں ہم سے پیسے لے لو اور اس پلاٹ کو چھوڑ دو یا کبھی کہتے ہیں اس پلاٹ کے بدلے پلاٹ لے لو اس پلاٹ کو چھوڑ دو لیکن فریقین دونوں صورتوں پر رضا مند نہیں ۔ اور کبھی کہتے ہیں کہ ہم اس پلاٹ پر دکانین بنا کر کرائے پہ دیں گے جو آمدنی آئے گی اسے مسجد و مدرسہ پر خرچ کریں گے ۔

    1:۔کیا اس پلاٹ پر مسجد ومدرسہ تعمیر کر سکتے ہیں ؟

    2:۔کیا دکانیں بنانے کی صورت میں اس کا کرایہ مسجد و مدرسہ پر خرچ کر سکتے ہیں ؟

    3:۔اگر وہ جگہ قبرستان میں دیں تو وہاں میت دفن کر سکتے ہیں؟

    4:۔ اگر مسجد میں دیں تو کیا نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور کہتے ہیں نماز پڑھنے کا زیادہ اجر و ثواب ملے گا اگر کوئی شخص ثواب کی نیت سے پڑھے تو ۔

    نوٹ:

    جن کا پلاٹ ہے وہ کسی . بھی صورت میں کسی بھی بات پر رضامند نہیں ہیں نہ بیچنے پر نہ وقف کرنے پر اس کا تفصیلی جواب قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں عنایت فرمائیں

    سائل: سید نور السلام /بستی مہر آباد، بہاولپور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر واقعی فریقِ مخالف نے زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے تو صرف اس عمل (ناجائز قبضہ ) کی وجہ سے یہ فریق غاصب و گنہگاراور باعث ِ اذیت و آزار ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ ایک عملِ خیر کی بنیاد عملِ بد پر رکھ رہا ہے بلکہ سوال سے معلوم ہوتا ہے اصل مقصود پلاٹ پر قبضہ ہے مسجد و مدرسہ تو ایک بہنانا ہے۔

    یاد رہے کہ کسی کی مغصوبہ زمین پر مسجد و مدرسہ بنانا ناجائز و حرام ہے ۔اگر مسجد یا مدرسہ بنا لے تو یہ شرعا وقف نہیں کہلائے گا کیوں کہ وقف کے لیے ضروری ہے واقف موقوفہ چیز کا مالک ہے اور یہ مالک نہیں ۔اور جو حقیقی مالک ہے وہ وقف پر راضی نہیں ۔ بلکہ اگر غاصب اس زمین پر مسجد و مدرسہ تعمیر کر لے پھر مالکِ زمین سے وہ جگہ خرید لے تب بھی وقف صحیح نہیں ہو گا ۔

    2:۔ ان دکانوں کا کرایہ اس کے حق میں ملکِ خبیث ہے اور ملکِ خبیث کا حکم یہ ہے کہ بغیر نیتِ ثواب کے شرعی فقیر پر صدقہ کرے یا اصل مالکان کی طرف لوٹا دے اسے مسجد و مدرسہ پر خرچ نہیں کر سکتے کہ پلید چیز پاک محل میں قبول نہیں ہوتی ۔اگر یہ پیسہ مسجد و مدرسہ میں لگائے گا تو گنہگار ہو گا ۔

    3:۔مغصوبہ زمین میں مردہ دفن کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی نے دفن کرنا دیا تو اس مردہ کو باہر نکالا جائے گا ۔

    4:۔ایسی زمین میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ جو یہ کہتا ہے ثواب زیادہ زیادہ ملے گا حکمِ شریعت سے بے خبرہے یا یہ افتراء سے کام لے رہا ہے۔

    فرمان باری تعالٰی ہے: : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)

    اور ظلم کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ترجمہ: مُواخَذہ تو انھیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔(الشورٰی:42)

    بخاری شریف کی حدیث پاک ہے: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ :ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری رقم الحدیث: 3198)

    مسلم شریف کی حدیث ہے: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ا س کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)

    مسند ابی یعلی کی حدیث ہے: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ترجمہ: جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(مسند ابی یعلی،رقم الحدیث:744)

    مسند امام احمد میں ہے:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ترجمہ:جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے ،اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔(مسند امام احمد،رقم:5740)

    صحتِ وقف کی شرائط میں سے ہے کہ واقف جس چیز کو وقف کر رہا وہ چیز اسکی ملک میں ہو،یہاں تک کہ کسی ایسی چیز کو وقف کیا جسکا بہ وقتِ وقف مالک نہ تھا اور وقف کرنے کا بعد مالک ہو گیا توایسے وقف کے بارے میں فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ وہ وقف صحیح نہ ہو گا ،جیسا کہ عالمگیری و البحرا لرائق میں ہے۔واللفط لہ : "من شرائطہ الملك وقت الوقف حتی لو غصب ارضا فوقفہا ثم اشتراھا من مالکھا ودفع الثمن الیه او صالح علی مال دفعه الیه لا تکون وقفا"ترجمہ:وقف کی شرائط میں سے ہے کہ بہ وقت ِ وقف (واقف موقوفہ چیز) کا مالک ہو، یہاں تک کہ اگرکسی نے زمین غصب کی اور اس مغصوبہ زمین کو وقف کر دیا، پھر مالکِ زمین سے اسے خرید کر اسے قیمت بھی ادا کر دی یا پھر مال پر صلح کر لی جو کہ مالک کو دے بھی دیا ، تب بھی یہ وقف صحیح نہیں ہو گا۔(البحر الرائق جلد 5 صفحہ203 دار الکتب الاسلامی)

    علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ خاص مسجد وقف کے حوالے سے لکھتے ہیں: فِي الْبَحْرِ أَنَّ مُفَادَ كَلَامِ الْحَاوِي اشْتِرَاطُ كَوْنِ أَرْضِ الْمَسْجِدِ مِلْكًا لِلْبَانِي ترجمہ:البحرالرائق میں ہے کیا کہ ’’الحاوی للفتاوی‘‘کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ (وقف کے صحیح ہونے کی )شرط یہ ہے کہ مسجد کی زمین بانیِ مسجد کی ملک میں ہو ۔(در المختار جلد4 صفحہ356 دار الفکر)

    فتاوی عالمگیری میں ہے:إذا بنى المشرعة على ملك العامة ثم آجرها من السقائين لا يجوز سواء آجر منهم للاستقاء أو آجر منهم ليقوموا فيها ويضعوا القرب۔ترجمہ:جب کسی نےعوام کی ملکیت پرپانی کا گھاٹ بنایاپھراس نےماشقیوں کوکرایہ پردے دیا،تویہ جائزنہیں،خواہ ان سے اجارہ پانی پلانے پرکیا ہو یا اس بات پر کیا ہو وہ وہاں پر قیام کریں یا اور(اپنے )برتن رکھیں گے ۔(فتاوی ھندیہ،ج04،ص453،مطبوعہ دارالفکر،بیروت)

    اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن ملک خبیث کا تفصیلی حکم بیان کرتے ہوئےلکھتے ہیں: جومال رشوت یاتغنی یاچوری سے حاصل کیا اس پرفرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کردے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پرتصدق کرے، خریدوفروخت کسی کام میں اُس مال کالگانا حرام قطعی ہے، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کانہیں۔ یہی حکم سُود وغیرہ عقودِفاسدہ کاہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیں واپس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کردے،

    وذٰلک لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملک اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالک او ورثتہ ما امکن اما فی الربٰو اواشباھہ فلفساد الملک وخبثہ و اذا قدملکہ بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوک الماخوذ منہ لاستحالۃ اجتماع ملکین علی شیئ واحد فلم یجب الرد وانما وجب الانخلاع عنہ اما بالرد واما بالتصدق کما ھو سبیل سائر الاملاک الخبیثۃ۔ترجمہ:یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہٰذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غصب شدہ مال کی طرح ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ مال اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو لوٹادیاجائے پس ایساکرنا واجب ہے، سُود یا اس جیسی اشیاء میں فسادِ مِلک اور خباثت کی بناء پر بوجہ قبضہ اس کا مالک بن گیا تو جس سےمال لیاگیا اب اس کی ملکیت باقی نہ رہی (بلکہ ختم ہوگئی) اس لئے کہ ایک چیز پر بیک وقت دو مِلک جمع ہونے محال ہیں (کہ اصل شخص بھی مالک ہو اور سودخور بھی۔ مترجم) لہٰذا مال ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے خواہ بصورتِ رد (یعنی لوٹانے کے) ہو یا بصورتِ خیرات، جیسا کہ تمام املاکِ خبیثہ میں یہی طریقہ ہے۔ہاں جس سے لیا انہیں یا ان کے ورثہ کو دینا یہاں بھی اولٰی ہے کما نص علیہ فی الغنیۃ والخیریۃ والھندیۃ وغیرھا۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:23،صفحہ:551،552،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ایسی زمین جسے جبری طور پر خریدا جائے اس میں مردہ دفن کرنے کے حوالے سے امام اہلسنت سے ایک سوال ہوا کہ : میونسپلٹی مسلمانوں سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر کوئی امر مانع ہو تو اس قطعہ زمین میں دفن کرو جو اس کام کے لئے میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن ان مُردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہیں ہوسکتی ایک فیس مقررہ لے گی، او رخام وپختہ میں فرق ہوگا۔ اور زمین خریدنے کا قاعدہ یہ ہے کہ گو بیچنے والا راضی نہ ہو، بیچنا نہ چاہتا ہو، یہ کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو مگر اس کی پروا نہیں کی جائے گی نہ وہ راضی کیا جائیگا بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقررہ قیمت ا س کو دے دی جائے گی او ر اس زمین پر مالکانہ قبضہ کر لیا جائے گا۔ ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے اس طرح زمین کا معاوضہ جبر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا شرعاً ناجائز و غصب ہے یا نہیں اور اس میں مسلمان مُردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کرکے جائز ہے یا نا جائز ؟ مکروہ ہے یا حرام ؟ اور مُردے دفن کرنے والا مسلمان داخلِ معصیت ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

    اس کے جواب میں فرماتے ہیں :چونگی کا روپیہ درکنار، اگر کوئی مسلمان ہی اپنے خاص مملوک بملک حلال وطیب سے زمین اس طریقہ جبر پر خریدے وہ قطعاً حرام ہوگی اور زمین حکماً مغصوب، او راس میں بروجہ مذکور مُردوں کا دفن کرنا حرام و معصیت، یہاں تک کہ بعد دفن مُردہ کا قبر سے نکالنا حرام مگر اسکے باوجود ایسی جگہ قبر کھود کر دوسری جگہ دفن کرنا چاہئے فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیری میں ہے : لاینبغی اخراج المیّت من القبر بعد ما دفن الااذا کانت الارض مغصوبۃ او اخذت بشفعۃ واﷲ تعالٰی اعلم۔ترجمہ: بعد دفن میّت کو قبر سے نکالنا چاہئے مگر جب زمیں غصب کی ہوئی یا حقِ شفعہ سے دوسرے نے لے لی ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم (فتاوی رضویہ کتاب الجنائز جلد 09،صفحہ 381،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مفتی اعظم پاکستان علامہ وقار الدین علیہ الرحمہ سے سوال کیا گیا کہ :کسی کی زمین پر مسجد تعمیر کی گئی تو آیا مالک زمین اسکو منہدم کر سکتا ہے یا نہیں ؟۔تو آپ علیہ الرحمہ جواب میں لکھتے ہیں:’’مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی زمین پر قبضہ کرنا غصب کرنا ہے۔اور فقہ کی تمام کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ غصب کی ہوئی زمین پر نماز پڑھنا مکروہ ہے ،لہذا ایسی مسجد جو مالک کی اجازت کے بغیر بنائی گئی ہو،اس میں تو نماز پڑھنا ہی مکروہ ہے ۔(وقار الفتاوی ،جلد2 صفحہ 305 ملخصا ) ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12شعبان المعظم 1444 ھ/22فروری 2024ھ