میڈیکل انشورنس لینا
    تاریخ: 16 فروری، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 788

    سوال

    میں آسٹریلیا میں ہوں ۔یہاں ہمارا میڈیکل تقریباً فری ہے لیکن یہاں ڈاکٹر سے اپائمنٹ لینے میں کافی ٹائم ویٹنگ میں لگ جاتا ہے مثلاً کیس کی نوعیت پر ڈپنڈ کرتا ہے کہ کبھی ایک ماہ کبھی دو ماہ کبھی تین ماہ کا بھی وقت لگ جاتا ہے تو پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ویٹنگ میں نہیں جانا پڑتا ۔

    نوٹ :اس میں پریمئم واپس نہیں آتا پالیسی لینے والے سہولت استعمال کرے یا نہ کرے ۔

    سائل:عبد اللہ /آسٹریلیا


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ہیلتھ انشورنس کی جو تفصیل سائل نے ذکر کی اس میں مریض کا صرف اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ مریض کو (waiting time) میں نہیں جانا پڑتا بلکہ علاج جلدی شروع ہو جاتا ہے تو یہ ایک ایسی سہولت( ficility)ہے جسے مریض خرید تا ہےتا کہ مشکل وقت میں اس کے کام آسکے ۔یہاں تک تو فقہی لحاظ سے معاملہ درست ہے لیکن پالیسی کی یہ شق کہ اگر پالیسی لینے والے کو علاج کی ضرورت نہیں پڑتی یہاں تک کہ وہ علاج نہیں کرواتا تو اس صورت میں بھی اس کا پریمیئم واپس نہیں ملے گا ۔

    اس شق میں چند مفاسد ہیں :۔1:۔قمار(جوا) 2منفعت کا مجہول ہونا 3:۔اجیر مشترک کا کام کے بغیر بھی اجرت کا مستحق ٹھہرنا۔

    قمار تو یوں ہے پالیسی لینے والا اپنا مال خطرہ عدم پر پیش کر رہا ہے ، علاج کروا لیا تو عوض مل جائے گا ورنہ نہیں ۔ هَذَا تَعْلِيقُ اسْتِحْقَاقِ الْمَالِ بِالْخَطَرِ وَهُوَ قِمَارٌ ۔ یہ مال کو خطرہ پر معلق کرنا ہے اور یہ قمار ہے۔(المبسوط للسرخسي،کتاب الاباق،جلد :11 صفحہ : 18)

    جہالت یوں کہ معلوم ہی نہیں کہ علاج کروائے گا یا نہیں ،کروائے گا تو کتنی بار کروائے گا ۔اور یہ دونوں ہی چیزیں صحتِ اجارہ سے مانع ہیں۔

    اجیر مشترک جب تک کام نہ کرے تب تک اجرت کا مستحق نہیں ٹھہر سکتا جب کہ یہاں پر کمپنی سے خدمات لیں یا نہ لیں بہر صورت کمپنی کو عوض دینا پڑتا ہے۔

    تنویر الابصار میں ہے: (وَلَا يَسْتَحِقُّ الْمُشْتَرَكُ الْأَجْرَ حَتَّى يَعْمَلَ كَالْقَصَّارِ وَنَحْوِهِ) ۔ترجمہ: اور اجیر مشترک اجرت کا مستحق تب تک نہیں ٹھہرتا جب تک کام نہ کر لے جیسے دھوبی وغیرہ۔(تنویر الابصار جلد :6 صفحہ: 64،دار الفکر بیروت)

    ایک اشکال :

    آسٹریلیا دار الکفر ہے ۔ ایسا عقد جو شرعی لحاظ سے ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے نہیں کر سکتا دار الکفر میں وہ عقد کسی کافر سے کرنا جائز ہے ؟

    جواب : یہ عقد اس وقت درست ہیں کہ جب ان عقود میں مسلمان کا فائدہ ہو جبکہ یہاں پر تو مالی لحاظ سے مسلمان کا نقصان ہے اس لیے یہ جائز نہیں ۔ فتح القدیر میں : إنَّمَا يَقْتَضِي حِلَّ مُبَاشَرَةِ الْعَقْدِ إذَا كَانَتْ الزِّيَادَةُ يَنَالُهَا الْمُسْلِمُ ترجمہ:یہ تعلیل تقاضا کرتی ہے کہ عقد فاسد کے کرنے کا جواز اس وقت ہو جب فائدہ مسلمان کو ہو رہا ہو ۔(فتح القدير للكمال ابن الهمام،باب الربا جلد 7 صفحہ 39،دار الفکر بیروت)

    اضطراری صورت کا حکم :

    1:۔اگر کوئی مریض کسی ناقابل برداشت بیماری میں مبتلا ہے،ویٹنگ ٹائم کی وجہ سےاسے اذیت ہو گی تو اس کے لیے یہ پالیسی لینا جائز ہے ۔

    2:۔اگر اچانک کسی بڑی بیماری کے سامنے آنے کی صورت میں بھی حکومت کا پروسس وہی ہے کہ مریض کو ویٹنگ لسٹ میں جانا پڑے گا تو اس صورت میں بھی بامر مجبوری پالیسی لے سکتے ہیں ۔فقہ کا قاعدہ ہے کہ الضرورۃ تبیح المحظورات ۔یعنی ضرورت ممنوعہ چیزوں کو بھی جائز کر دیتی ہے ۔

    نوٹ: اس دوسری صورت کو ہم نے جن شرائط سے مقید کیا ہے پالیسی کے جواز میں ان کا تحقق ضروری ہے ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20رجب المرجب 1444 ھ/02 فروری 2024ھ