سوال
ایک عورت کی شادی ہوئی اور اس کے دو بچے ہوئے اب اس کے شوہر نے اس کو تین طلاق دے دی اب وہ عورت دوسرے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے لیکن دوسرا مرد طلاق کا ثبوت مانگ رہا ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر پہلا شوہر تین طلاقوں کا اقرار کرتا ہے یا پھر طلاق پر گواہ موجود ہیں تو ایسی صورت میں بلا شبہ طلاق ہو گئی کہ زبان سے طلاق دینا لکھ کر طلاق دینے سے قوی ہے لہذا قوی کے ہوتے ہوئے غیر قوی کی حاجت نہیں۔
اور اگر شوہر طلاق کا انکاری ہے اورعورت کے پاس طلاق پر گواہ بھی موجود نہیں تو اس صورت میں شوہر سے حلف لیا جائے گا حلف سے انکار کر دے تو بھی طلاق ثابت ہو جائے گی ۔
مندرجہ بالا تمام صورتوں میں خاتون دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں ۔
اور اگر شوہر قسم کھا لیتا ہے کہ میں نے طلاق نیہں دی اور عورت کو یقین ہے کہ اس نے طلاق دی ہے تو ایسی صورت میں قضاء تو طلاق نہیں ہوئی البتہ عورت دیانۃ طلاق ہو جائے گی لھذا عورت پر لازم ہے کہ مرد کو اپنے قریب نہ آنے دے اس سے فورا جدا ہو جائے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27ربیع الاول1444 ھ/14اکتوبر 2023 ھ