زکوۃ سے متعلق سوالات کے جوابات
    تاریخ: 20 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 814

    سوال

    1: میرے دو بچوں کے پاس کچھ کیش اور پرائز بانڈز موجود ہیں ، ہم نے وہ پیسے اور بونڈز انکی ملکیت کردیئے شروع سے ہی، ہم اسکی زکوۃ نکالا کرتے تھے لیکن 2022 میں ہم نے انکی زکوۃ نہیں نکالی، چھوٹے بیٹے کی عمر 6 جبکہ بڑے کی 9 سال ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا نابالغ پر زکوۃ لازم ہے یا نہیں؟2: اگر ہمارے پاس سونا موجود ہو لیکن وہ ساڑھے سات تولہ نہ ہو تو کیا اس پر زکوۃ بنے گی یا نہیں؟ جبکہ کچھ کیش رقم اور پرائز بانڈ بھی موجود ہیں۔3: پچھلے سال ہم نے زکوۃ ادا نہیں کی، اب پچھلے سال کے حساب سے کرنی ہوگی یا اس سال کے حساب سے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائلہ: فاطمہ: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: نابالغ پر زکوۃ لازم نہیں ہے لزومِ زکوۃ کی شرائط میں سے ایک بالغ ہونا ہے۔ لہذا جو مال آپکی نابالغ اولاد کی ملک ہے اس پر زکوۃ لازم نہیں ہے۔ جو پچھلے سالوں میں ادا کی وہ نافلہ قرار پائے گی۔

    2: زکوۃ لازم ہے کہ سونا اگر نصاب کو نہ پہنچے اور اسکے ساتھ کچھ رقم بھی موجود ہو اس صورت میں دونوں کا مجموعہ ادنیٰ نصابِ زکوۃ کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس صورت میں زکوۃ دینا لازم ہوگی۔ ادنٰی نصابِ زکوۃ سے مراد چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ) کی قیمت ہے۔ یعنی اگر سونا اور کیش اماؤنٹ دونوں مل کر ساڑھے باون تولہ کی قیمت کو پہنچتے ہوں تو کل کا چالیسواں حصہ(ڈھائی فیصد) بطورِ زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ اور آج مؤرخہ 06 اپریل 2023 چاندی کے ساڑھے باون تولہ کی مارکیٹ قیمت ایک لاکھ چالیس ہزار چار سو سینتیس(140437) ہے۔

    3: آپ پر پچھلے سال کی زکوۃ (مع شرائط)لازم ہے جو فوراً آپ کو ادا کرنا ضروری ہے ، تاخیر کی وجہ سے جو گناہ ہوگا اس پر توبہ لازم اورآئندہ وقت مقرر پر ادا کرنا لازم ہے۔گزشتہ سالوں کی زکوۃ میں اسی سال کی قیمت کا اعتبار ہے جس سال کی زکوۃ ادا کرنی ہے، یعنی اسکی قیمت جو اس وقت مارکیٹ ویلیو تھی ادائیگی کے لیے شمار کرکے زکوۃ ادا کریں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 5 رمضان المبارک 1444 ھ/27 مارچ 2023 ء