سوال
:ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے ، ہم تین بھائی اور سات بہنیں ہیں ۔والدین کی جائیداد میں دومکان ہیں ایک مکان 90 گز کا اور ایک 150 گز کا۔ہمارا چھوٹا بھائی جائیداد میں سے حصہ مانگ رہا ہے اور بضد ہے کہ اس بڑے مکان کو بیچا جائے اور مجھے اس میں سے ہی حصہ دیا جائے۔ جبکہ ہماری سات بہنوں میں سے 4 نہیں چاہتی کہ مکان بیچا جائے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ چھوٹا مکان بیچ کر اس میں سے چھوٹے بھائی اور تین بہنوں کو حصہ دے دیا جائے۔ میں میراا یک بھائی اور چار بہنیں انتظار کرسکتے ہیں اور بعد میں لے سکتے ہیں ۔کیا ہم پر لازم ہے کہ اسی مکان کو بیچ کر حصہ دیا جائے ؟ چھوٹے مکان کو بیچ کر حصہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟بڑا گھر بیچنے کی صورت میں ہمیں کرائے پر رہنا پڑے گا۔شرعی رہنمائی فرمادیں۔
2: دوسرا سوال یہ ہے کہ بڑے بھائی نے 150 گز والے مکان پروالد کی زندگی میں انکی اجازت سے تعمیرات کی تھیں۔اس تعمیرات پر جو پیسہ انہوں نے لگایاوراثت سے انہیں دیا جائے گا یا نہیں ؟
سائل:سید انیس احمد چشتی:ملیر، کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اسکی دو صورتیں ممکن ہیں پہلی یہ کہ خاص اس مکان سے حصہ کا تقاضا اور دوسری یہ کہ مکان بیچ کر اسکی قیمت سے اپنے حصہ کا تقاضا۔ پہلی صورت میں تقاضا جائز اور دیگر ورثاء پر اس مکان سے حصہ دینا لازم ہے۔بشرطیکہ تقسیم کے بعد بھی مکان قابل استعمال رہے ورنہ جب تک سب ورثاء راضی نہ ہوں اس وقت تک اس مکان کو تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
دوسری صورت میں جب کہ اسکا مطالبہ قیمت ورقم ہے جگہ نہیں تو دوسرا مکان بیچ کر اگر اسکا پورا حصہ دینا ممکن ہے توبہتر یہ ہے کہ دوسرا مکان بیچ کر ہی اپنا حصہ لے اور اس مکان کو بیچنے کا تقاضا نہ کرے ۔تاکہ دیگر ورثاء بے گھر نہ ہوں اور یہ شخص حسن سلوک کا ثواب پاسکے۔
کیونکہ بطور ِوراثت ملکیت میں آنے والی اشیاء میں ہر شریک کی اس شئی کے ہرہر جزء میں ملکیت ثابت ہوتی ہے۔لہذا اگرکوئی شریک یہ تقاضا کرے کہ مجھے خاص جائیداد سےہی حصہ چاہیے تو اسکو اسی جائیداد سے دینا لازم ہے۔کہ ملکیت کا ثبوت دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک اختیاری یعنی جس میں بندہ اپنے اختیار اور اپنے فعل کے ذریعے کسی چیز کا مالک بنتا ہے۔جیسے بیع(خرید وفروخت)،ھبہ (گفٹ)اور وصیت کے ذریعے ۔دوسرااضطراری یعنی جس میں انسان اپنے فعل اوراختیار کے بغیر کسی چیز کا مالک بنتا ہے جیسے وراثت کے ذریعے ۔البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراء۔ترجمہ:ملکیت کے اسباب ،ھبہ اور وصیت قبول کرنااور خریدنا اور وراثت ہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 8ص216 الشاملہ)
مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
تمام شرکاء میں تقسیم کی کیا کیا صورتیں ہیں اس بارے میں تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَحُكْمُهَا تَعْيِينُ نَصِيبِ كُلٍّ) مِنْ الشُّرَكَاءِ (عَلَى حِدَةٍ وَتَشْتَمِلُ عَلَى) مَعْنَى (الْإِفْرَازِ) وَهُوَ أَخْذُ عَيْنِ حَقِّهِ (وَ) عَلَى مَعْنَى (الْمُبَادَلَةِ) وَهُوَ أَخْذُ عِوَضِ حَقِّهِ (وَ) الْإِفْرَازُ (هُوَ لِلْغَالِبِ فِي الْمِثْلِيِّ وَالْمُبَادَلَةُ) غَالِبَةٌ (فِي غَيْرِهِ) أَيْ غَيْرِ الْمِثْلِيِّ وَهُوَ الْقِيَمِيُّ.ترجمہ:اور تقسیم کا حکم یہ ہے کہ ہر شریک کا حصہ الگ طور پر متعین ہوگا۔اور یہ مبادلہ اور افراز دونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔افراز یہ ہے کہ عین مال سے حصہ لینا اور مبادلہ ی ہے کہ اپنے حصے کا عوض لے لینا ۔ افراز مثلی چیزوں میں غالب ہے اور مبادلہ قیمی چیزوں میں غالب ہوتا ہے۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار،کتاب القسمۃ جلد 6 ص 256)
2:جس بیٹے نے والد کی زندگی میں انکی اجازت سےجو تعمیرات کی وہ خاص اسی کی ہے وہ وراثت میں تقسیم نہ ہوگی۔جیسا سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 رجب المرجب 1441 ھ/11 مارچ 2020 ء