سوال
میری والدہ کی پہلی شادی سے سے 2 بیٹے (سبیل،طارق)اور دو بیٹیاں (فوزیہ ،افشاں) ہیں۔ بعد ازاں انکے پہلے شوہر کا انتقال ہوگیا پھر انہوں نے دوسری شادی میرے والد سے کی جس سے ہم تین بچے ہوئے ، دو لڑکے (فیصل، منظر) ایک میں (روحی)۔میرے والد کا ایک گھر تھا انکے انتقال کے بعد یہ گھر کاغذات میں میری والدہ اور تینوں بچوں(فیصل، منظر، روحی)کے نام ہوگیا، پھر اس گھر میں سب کی رضامندی سے میرا چھوٹا بھائی فیصل اپنی فیملی کے ساتھ رہتا تھا اور ہم دو بہن بھائی کینیڈا میں رہتے ہیں فیصل نے اپنے پیسوں سے اس گھر پر دوسری منزل کی تعمیر کروائی اور نیچے والا گھر کرائے پر دے دیا اسکے بعد والدہ کا انتقال ہوگیا بعد ازاں بعد فیصل کا بھی انتقال ہوگیا جسکے بعد اسکی بیوی(آسیہ) اور تین بیٹیاں (فائزہ، شازیہ، ہانیہ) اسی گھر میں رہتے ہیں۔ اب ہم اس گھر کو فروخت کرنا چاہتے ہیں معلوم یہ کرنا ہے کہ شرعی اعتبار سے گھر کے کتنے حصص ہونگے۔ کیا ہماری والدہ کا بھی حصہ ہوگاانکا بھی انتقال ہوچکا ہے؟فیصل نے اپنے پیسوں سے جو تعمیرات کیں اسکا کتنا حصہ اسکی بیوی اور بچیوں کو ملے گا؟ منظر کا کتنا حصہ ہوگا؟ روحی کا کتنا حصہ ہوگا؟
سائلہ:روحی : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں مرحومین پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی اور اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد گھر،درج ذیل تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ گھر کی ویلیونکلواکر سب سے پہلے دوسری منزل کے پیسے جدا کرلئے جائیں گے اور ان پیسوں کا کا مالک تنہا فیصل ہوگا فیصل کے بعد رقم فیصل کے ورثاء میں تقسیم ہوگی۔
سب سے پہلے نچلی منزل کی موجودہ ویلیو کے 7920 حصص کئے جائیں گے جس میں سے ہر وارث کےکا حصہ درج ذیل ہے:
منظر روحی سبیل طارق فوزیہ افشاں آسیہ فائزہ شازیہ ہانیہ
3526 1763 180 180 90 90 123 656 656 656
نوٹ اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے ۔