سوال
میری ایک پھپھو ہے جوکہ غیر شادی شدہ ہیں ، انکے دو بھائی تھے ایک میرے والد اور ایک چچا دونوں کا انتقال ہوچکا ہے، اور دادا،دادی کا بہت پہلے انتقال ہوگیا ہے ۔ میری پھوپھی کا ایک مکان ہے وہ چاہتی ہیں کہ میرے مرنے کے بعد دونوں بھائیوں کی تمام اولاد کو برابر برابر حصہ ملے جس میں بڑے بھائی کی چار لڑکیاں اور دو لڑکے جبکہ چھوٹے بھائی کی تین لڑکیاں اور دو لڑکے ۔ اب سے یہ رہنمائی چاہیے کہ انکے مرنے کے بعد سب کو برابر برابر ملے گا یا لڑکے کو لڑکی سےزیادہ ملے گا۔نیز اگر وہ زندگی میں تقسیم کرنا چاہیں تو کیا حکم ہوگا۔
سائل:نظام الدین : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضہ میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(السراجی فی المیراث ص 5)
آپکے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپکی پھپھو کے مرنے کے بعدانکی وراثت فقط بھتیجوں میں تقسیم ہوگی ،بھتیجیوں کو وراثت سے کچھ نہیں ملے گا۔کیونکہ بھتیجوں کی موجودگی میں بھتیجیاں وراثت سے محروم ہوتی ہیں ۔ بھتیجے انہیں عصبہ نہیں بناتے کہ انہیں بھتیجوں کے ساتھ مل کر ان کے حصہ کا نصف ملے۔چناچہ سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں لکھتے ہیں:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوت تعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔ علامہ محمد بن علی دمشقی درہمیں درمختار فرمود قال فی السراجیۃ:ولیس ابن الاخ بالمعصب من مثلہ اوفوقہ فی النسب۔ترجمہ: بیٹے، پوتے اگرچہ نیچے تک ہوں، حقیقی بھائی یاعلاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تک کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بنا سکتے۔ علامہ محمد بن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا کہ سراجیہ میں کہاہے : بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔ نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپرہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض،جلد 26 ص 249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
البتہ اگر وہ زندگی میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں رکھ سکتے ہیں ،اس کے بعد جو بچے وہ سارا مال سب ورثاء میں خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں برابر برابر تقسیم کردیں۔لیکن یہ تقسیم،وراثت کی تقسیم نہیں بلکہ آپ کی طرف سے انکے لیے ھبہ و گفٹ ہوگا لیکن اگر کسی خاص وجہ سے مثلاًاولاد میں سے کوئی عالم دین یا خدمت گذار ہے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے، بلا وجہ شرعی کسی ایک کو دوسری اولاد سے زیادہ دینا گناہ ہے۔البحر الرائق میں ہے: "يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ"ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:08 صفر المظفر 1441 ھ/08 اکتوبر 2019 ء