سوال
ایک شخص مسمی بشیر احمد کو اپنے والد کی وراثت سے ساڑھے 22 گز جائیداد کا حصہ ملا ، بشیر احمد نے اپنے بچوں کی کمائی سے اپنے بھائی کا ساڑھے 22 گز والا حصہ خرید لیا پھراسکے بعد اسے گڑاؤنڈ فلورپلس دو فلور بنوائے۔یہ تعمیرات بھی بچوں کی کمائی سے ہوئی۔ پھر اسکے بعد 120 گز کی ایک اور جگہ خریدی جسے انہوں نے گراؤنڈ پلس تین فلور تعمیر کرائے تاکہ آپس میں اس میں مل کر رہ سکیں ۔اسی طرح اسکے بعد 90 گز کا ایک اور مکان اسی طرح خرید کر گراؤنڈ پلس ایک فلور تعمیر کروایا ہے۔ یہ تینوں گھر جو خریدے گئے اور تعمیرات کی گئی یہ سب بچوں کی کمائی سے تھا لیکن اسکا طریقہ یہ تھے کہ سب بچے خواہ کوئی کتنا بھی کماتا ہو اپنی ساری رقم والد کی ملکیت کردیتے تھے ۔اور والد ملکیت کے اپنی سربراہی میں سارے کام کرتے تھے یہ سارے پلاٹ اور تعمیرات اسی طرح انجام پائی ہیں کہ سب بچے اپنے اپنے پیسے والد کو دے دیتے تھے اور والد خرید و فروخت اور تعمیرات کے سلسلے کرتے تھے ۔والد کے وفات کے بعد یہ سلسلہ والدہ کےساتھ جاری و ساری ہے۔مختصر یہ کہ اس وقت تین جائیداد ہیں۔1: 45 گز کا مکان گراؤنڈ پلس دوفلور۔ 2: 120 گز گراؤنڈ پلس تین فلور۔ 90 گز گراؤنڈ پلس ایک فلور۔(نوٹ: 90 گز والا مکان والد کی وفات کے بعد بیچا ہے جسکی رقم ابھی ملنی ہے۔)
اس تمام صورت حال میں والدہ اپنے سامنے ساری جائیداد تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ورثاء میں بیوی (شمیم اختر)سات بیٹے (شاہد، واحد، باسط، راشد، آصف، کاشف،شہزاد)دو بیٹیاں (تسلیم ،تحسین)ہیں ۔ ہر ایک جائیداد میں کتنا حصہ آئے گا۔ شرعی اعتبار سے تقسیم کردیں۔
سائل: محمد کاشف:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب تمام بیٹے اپنی اپنی رقم والد کی ملک کرتے رہے اور والدنے ان پر قبضہ بھی کرلیاتو وہ خاص والد کی ملک ہوئی لہذا اس رقم سے خریدے گئے تمام مکانات ،اور اس رقم سے کی گئی تعمیرات بھی خاص انہی کی ملکیت ہیں۔ اب انکی وفات کے بعد یہ تمام مال انکی وراثت میں تقسیم ہوگا۔ کیونکہ تملیک عین بلا عوض ھبہ ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ گفٹ اور ھبہ کہلاتا ہے ، جس کے لیے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ھبہ تام نہ ہوگا ،اگر قبضہ کرلیا تو ھبہ تام ہوجاتا ہے اور جو چیز ھبہ کی گئی ہے اسکی قابض کی ملک ہوجائے گی۔اور اسکی وفات کے بعد اسکی وراثت میں تقسیم ہوگی۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل جائیداد کے 128 حصے کئے جائیں گے جس میں سے بیوی (شمیم اختر) کو 16 حصے ملیں گے ۔ ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔
قبضہ سے ھبہ تام ہوجاتا ہےجیسا کہ تنویرالابصارمیں ہے:اسی میں ہے: تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ۔ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃالباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی : وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔(النساء : آیت نمبر ٍ10)
بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہکل مال وراثت کو مبلغ یعنی 128 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 ربیع الثانی 1441 ھ/18 دسمبر 2019ء