سوال
ہمارا ایک80 گز کا مکان تھا جو والد صاحب نے خریدا تھا ۔ یہ اس وقت اس طرح بنا ہوا تھا کہ چالیس گز پر دو کمرے کچن،باتھ روم ،غسل خانہ بنا ہوا تھا۔ اور بقیہ 40 گز خالی تھا وہاں صرف دیوار کی باؤنڈری تھی ۔2005 میں والد صاحب کا وصال ہواپھر 2009 میں ، میں نے پورا مکان از سرنو تعمیر کروایا ۔ 40 گز میں جو تعمیرات پہلے تھی انکو دوبارہ ویسے ہی بنایااور دوسرے چالیس گز میں نیچے دو دکانیں اور ان دوکانوں کے اوپر ایک کمرہ ،کچن، باتھ روم وغیرہ بنایا ۔ تعمیرات کے وقت میں نے سب سے کہا کہ پیسے ملاؤ لیکن کوئی راضی نہ ہوا اور پھر ایک اجازت نامہ تحریری لکھوایا جس میں لکھا تھا کہ تعمیرات کے لئے میں نے اپنے سیٹھ سے 10 لاکھ قرضہ لیا ہے اور جب تک میں قرضہ ادا نہ کردوں کوئی مجھ سے اپنے حصے کا تقاضا نہیں کرے گا۔ اگر ایسی نوبت آبھی گئی تو مکان بیچ کر پہلے قرضہ ادا کیا جائے گا اس کے بعد ہر ایک کو اسکا شرعی حصہ دیا جائے گا۔اس میں سب نے رضامندی کا اظہار کیا، اور سب نے دستخط کردیئے۔اب میرابھائی مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اس میں سے ایک دوکان اور ایک مکان میرے نام کرو جبکہ میں نے کہا کہ میں پورا مکان بیچ کر جو شرعی حصہ بنے گا رقم کی صورت میں سب کو ادا کردونگا ۔ اس صورت حال میں میرا سوال یہ ہے کہ مکان جس حالت میں اب ہے اسی حالت میں اسکی قیمت لگواکر حصہ کئے جائیں گے یا جس حالت میں والد صاحب چھوڑ کر گئے تھے آدھا خالی اور آدھا بنا ہوا اسکے اعتبار سے قیمت لگوائیں؟نیز ہر ایک کا شرعی حصہ کیا ہوگا،اس گھر میں ہم دو بھائی ،3 بہنیں اور والدہ حصہ دار ہیں ۔ ۔ رہنمائی فرمائیں اللہ کریم آپکو جزا عطافرمائے۔
سائل: آصف :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا کہ تو حکم شرع یہ ہے کہ اس وقت مکان کی جو مارکیٹ ویلیو ہے ، اسکے اعتبار سے اس مکان کی تقسیم کی جائے گی جسکا طریقہ یہ ہے کہ مکان کی قیمت لگوالیں اور اس قیمت میں سے سب سے پہلے اتنی رقم منہا کرلیں جو آپ نے تمام ورثاء کی اجازت سے تعمیرات میں لگائی اسکے بعد جو رقم بچے اس رقم کو تمام بشمول آپکے ورثاء میں انکے شرعی حصوں کےمطابق تقسیم کرلیں ۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مابقی رقم کو8 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے آپکی والدہ کو1 حصہ،آپکو اور آپکے بھائی کو2،2 حصے اور ہر بہن کو1،1 حصہ ملےگا ۔
وراثت کا مال تمام ورثاء کو بطور شرکت ملک حاصل ہوتا ہے، اور شرکت الملک میں تمام ورثاء ایک دوسرے کےحصہ میں اجنبی کی طرح ہوتے ہیں کوئی بھی وارث دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ۔جبکہ اجازت کے ساتھ تصرف جائز ہے، تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: شَرِكَةُ مِلْكٍ، وَهِيَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ عَيْنًا أَوْ دَيْنًا أَوْ بِإِرْثٍ أَوْ بَيْعٍ أَوْ غَيْرِهِمَا،وَكُلٌّ أَجْنَبِيٌّ فِي مَالِ صَاحِبِهِ۔ترجمہ: شرکت ملک یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں یا وراثت میں یا بیع یا کسی اور چیز میں مشترکہ مالک ہوجائیں ،ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار ،کتاب الشرکۃ جلد 4 ص 299،300)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ گھر اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء :آیت نمبر :12)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء :آیت نمبر :11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 صفر المظفر 1441 ھ/26 اکتوبر 2019 ء