سوال
السلام علیکم :بعد سلام عرض یہ ہے کہ ہمیں بعض سوالوں میں آپکی رہنمائی چاہیے ،آپ شرعی لحاظ سے سوالوں کا جواب عنایت کرکے شکریہ کا موقع دیں ۔1:اگر کوئی بھی شخص (والدہ) اپنے وفات سے پندرہ،بیس دن پہلےبیماری کی حالت میں اپنے ایک بیٹے کے ہاتھ میں کچھ رقم دے اور کہے کہ یہ رقم میرے مرنے کے بعد میری تدفین کے خرچوں اور میرے شوہر کی بیماری پر لگانا پھر انکے آخری وقت تدفین پر لگانا اور یہ بھی کہا کہ اس رقم پر کسی اور بیٹے اور بیٹی کا حق نہیں ہے ۔ میں نے سب بیٹے ،بیٹیوں کا حق ادا کردیا ہے۔ یہ رقم صرف میری بیماری ،تدفین ،میرے شوہر کی بیماری اور تدفین میں اور اس دوران ہونے والے گھر کے اخراجات میں خرچ ہونگے ۔ باقی دو بیٹے ،بیٹیاں آخری وقت میں انکی دیکھ بھال سے انکار کر چکے تھے اس لیے انہوں نے وہ رقم کسی ایک بیٹے کو دے دی،پھر ان کا اسی بیماری میں انتقال ہوگیا والدہ کی وفات کے وقت(جون 2013) والد ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں زندہ تھیں،والد بھی بیمار تھے اور ایک بیٹی کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا ۔ اسکے بعدنومبر 2013 میں والد صاحب کا بھی انتقال ہوگیااب سوال یہ ہے کہ کیا بچنے والی یہ رقم ترکہ ہے یا نہیں؟شرعی لحاظ سے بتائیں کہ ترکہ کیا ہے؟ اور اسکی تقسیم کیسے ہوگی۔
2: ایک شخص اپنے ایک بیٹے کو اپنی زندگی میں ہی کچھ مال و اسباب دیتا ہے، جن میں دو عدد ٹیکسیاں اور ایک عدد 16 سٹر وین شامل ہے اور کہتا ہے کہ ان سے اپنا روزگار بھی حاصل کرو اور ہمیں بھی خرچہ وغیرہ دیتے رہو ۔ جب اس کی قیمت اصل رقم کمالو، تو ہمیں اس وقت دے دینا ۔ بیٹا کچھ ٹائم خرچہ دیتا ہے پھر یہ کہتا ہے کہ کام میں گھاٹا ہورہا ہے اور خرچہ نہیں دے رہا ۔ کچھ عرصے بعد والد کا انتقال ہوجاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان ٹیکسیوں اور وین کی اصل رقم جو بیٹے نے والد کو دینی تھی لیکن نہ دی ترکہ میں شامل ہوگی یا نہیں ؟
3: ایک شخص گورنمنٹ نوکری کرتا ہےاورگورنمنٹ اسکو رہنے کے لیے ایک کواٹردیتی ہے ، ریٹائرمنٹ کے بعدیہ کوارٹر خالی کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ کواٹر اس شخص کی ملکیت نہیں ہے، بلکہ گورنمنٹ کی پراپرٹی ہے ۔ وہ شخص بھاگ دوڑ کرکے وہ کواٹر اپنے ایک بیٹے کے نام کروادیتا ہے جو کچھ عرصہ پہلے ہی اس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم آیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ اگر میں یہ کواٹر دوسرے بیٹے کے نام کرواتا تو وہ آخری عمر میں مجھے دھکے دےکرنکال دیتااس لیے میں یہ کواٹر پہلے بیٹے کے نام کروایا ہے تاکہ میں آخری عمر سکون سےگزارسکوں۔ اس کے علاوہ کوئی اور گھر نہیں تھا سر چھپانے کے لیے۔اس محکمے میں درخواست دی جاسکتی ہے کہ یہ کواٹر فلاں کو دیا جائے حکم نہیں دیا جاسکتا ۔اب سوال یہ ہے کہ اس شخص کا یہ عمل ٹھیک ہے کہ اس نے ایک بیٹے کو چھوڑ کر دوسرے کے نام کروانے کی سفارش کی۔اور یہ کہ کیا اس کواٹر میں ترکہ کا کوئی معاملہ ہوگا یا نہیں ؟
سائل : نعیم احمد : جامع کلاتھ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے قبل چند تمہیدی مقدمے یاد رکھیں ۔
1: جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اسکی وفات کے وقت جو مال و اسباب اس کی ملکیت میں ہوتا ہے، جس میں کسی اور انسان کا کوئی حق (مثلا اسکی ملکیت میں کوئی چیز گروی وغیرہ) نہ ہو اصطلاحِ شرع میں اس مال کو ترکہ کہتے ہیں اور اسی کو وراثت یا میراث بھی کہا جاتا ہے ،پھر وہ مال اس وقت موجود ہ ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے
ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔( التعریفات ص 42)
تبیین میں ہے:وَالْمُرَادُ مِنْ التَّرِكَةِ مَا تَرَكَهُ الْمَيِّتُ خَالِيًا عَنْ تَعَلُّقِ حَقِّ الْغَيْرِ بِعَيْنِهِ، وَإِنْ كَانَ حَقُّ الْغَيْرِ مُتَعَلِّقًا بِعَيْنِهِ فَإِنَّ صَاحِبَهُ يَتَقَدَّمُ عَلَى التَّجْهِيزِ كَمَا فِي حَالِ حَيَاتِهِ:ترجمہ: اور ترکہ سے مراد وہ مال ہے جو میت چھوڑ کر مرے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کا کوئی حق متعلق نہ ہو، اگراس مال کے ساتھ کسی کا حق متعلق ہو تو تجہیز و تکفین سے پہلے اس صاحب حق کو مقدم کیا جائے گا ، جیسا کہ زندگی میں ہوتا ہے۔(تبینن الحقائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الفرائض ، جلد 6 ص 229 ،الشاملہ)
2:جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(السراجی فی المیراث ص 5)
1:اس تمہید کے بعد آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ والدہ کی جانب سے بھائی کو یہ کہنا کہ'' میرے مرنے کے بعد اس رقم میں سے میرے شوہر کی بیماری و تدفین پر خرچ کی جائے ''وصیت ہے ، اوروصیت اگر اجنبی کے لئے ہو تو ایک تہائی مال سے دی جائے گی اور اگر وارث شرعی کے لیے وصیت ہو تو یہ وصیت درست نہیں ، اس لیے کہ یہ وارث کے حق میں وصیت ہے ،اور شرع میں وارث کے لیے وصیت نافذ نہیں ہوتی الا یہ کہ
دیگر ورثاء اجازت دے دیں تو نافذ ہے ۔لہذا ماں کی جانب سے دی جانے والی رقم میں سے جتنی بھی آپکی والدہ کی وفات کے وقت بچی، وہ سب ترکہ ہے ،یہ رقم اور اسکے علاوہ اگر کوئی اور بھی جائیداد یا مال ہے وہ سب ملا کرتمام ورثاء میں انکے حصوں کےمطابق تقسیم ہوگا۔
2:دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ٹیکسیاں اور وین والد ہی کی ملکیت ہیں لہذا ٹیکسیاں اور وین اور اسکے علاوہ اگر کوئی اور بھی جائیداد یا مال وراثت ہے ،وہ سب ملا کر تمام ورثاء میں انکے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔جسکا طریقہ یہ ہے کہ کل وراثت یعنی والدہ اور والدکی ملکیت میں جو کچھ تھا اس تمام کے 10 حصے کیے جائیں گے جس میں سے آپ سمیت تمام بھائیوں کو دو، دو حصے اور ہر بہن کو ایک ،ایک حصہ دیا جائے گا۔کیونکہ والدہ کے بعد والد کا وصال ہوا اور والد کے ورثاء بھی وہی ہیں جو والدہ کے ہیں لہذا والد کو کالعدم قرار دے کر وراثت کی تقسیم کی جائے گی۔
3:اگر گورنمنٹ یہ کواٹر ملازمین کو ملازمت کی مدت تک رہنے کے لیے دیتی ہے اور ملازمت ختم کرنے کے بعد ان سے واپس لے لیتی ہے تو گورنمنٹ کی طرف سے ان ملازمین کے لیے عاریت کے طور پر ہے ، اگر نام کروانے سے یہ مراد ہے کہ اب یہ مکان بیٹے کے قبضے میں بطور عاریت دے دیا کیونکہ یہ بیٹا بھی ملازم ہے تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ،اور والد کے اس عمل پر کوئی حکم شرعی لاگو نہ ہوگا ، بالخصوص اس صورت میں جبکہ وہ خود اس بیٹے کے ساتھ رہنے پر راضی ہے۔اسی طرح جب یہ ملکیت میں ہی نہیں تو ترکہ بھی نہیں ہوسکتا۔
تنویر الابصار میں ہے:وَشَرْعًا (تَمْلِيكُ الْمَنَافِعِ مَجَّانًا) وَشَرْطُهَا: قَابِلِيَّةُ الْمُسْتَعَارِ لِلِانْتِفَاعِ وَخُلُوُّهَا عَنْ شَرْطِ الْعِوَضِ،ترجمہ: اور شریعت میں بلاعوض منافع کا مالک بنا دینا عاریت کہلاتا ہے، اسکے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ جس چیز کو اعارہ پر دیا جارہا ہے وہ قابل انتفاع ہو اور عوض کی شرط سے خالی ہو۔(تنویر الابصار مع الدر المختار ، کتاب العاریۃ، جلد 5 ص 677،الشاملہ)
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ: ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 ربیع الثانی 1440 ھ/29 دسمبر 2018 ء