سوال
زبیدہ عثمان میری ماں کی خالہ نے بینک اکاؤنٹ (سیونگ اکاؤنٹ) کھولا اور 13،00000 کی رقم جمع کروائی اور یہ میرے ساتھ مشترکہ اکاؤنٹ تھا جس میں میرے دستخط قابل قبول تھے۔ جون 2023 کے مہینے میں 67,000 ماہانہ اخراجات کے طور پر جمع کرائے گئے ۔ 23-06-16 کو زبیدہ عثمان کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کی الماری سے 6,700 اورصرف دو چوڑیاں برا مد ہوئیں جن کی قیمت تقریباً 365,000 ہے جس کی تفصیل نیچے درج ہے ۔ جبکہ اس وقت ہسپتال کی ادائیگی تقریباً 200,000 اور 73700 ماہانہ اخراجات اور کچھ بقایا جات بھی ادا کیے جانے تھے۔ ان ادائیگیوں کے بعد مرحومہ کی اصل رقم کم و بیش 1,100,000 رہ گئی۔ یہ رقم بینک (سیونگ اکاؤنٹ) میں رکھی گئی تھی اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ کر لگ بھگ 1415,535 ہو گئی ہے ۔
اپنی زندگی میں مرحومہ نے میرے اور میری بیوی کی موجودگی میں چند نام لکھے تھے اور ہم نے ان کے بھائی کی دو بیٹیوں کو بھی اس کی اطلاع دی۔ مرحومہ نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائےتویہ رقم ان لوگوں کو دے دی جائے اور باقی رقم صدقہ کر دی جائے۔
لوگوں کے نام اور لوگوں کے رشتہ اس طرح ہیں:
100,000 محمد اقبال مرحومہ کے بھانجے۔ 100,000 شاہینہ مرحومہ کی پڑوسن جس نے ان کی کافی خدمت کی۔ 100,000 نیہا مرحومہ کے بھائی کی نواسی۔ 100,000 انیقہ مرحومہ کے بھائی کی نواسی۔ 100000 زبیدہ مرحومہ کی ملازمہ۔ رات 50,000 زبیدہ مرحومہ کی ملازمہ۔ دن۔ 000 100,سارہ مرحومہ کی بھانجی کی پوتی۔ 100,000 ایشال مرحومہ کی بھانجی کی پوتی۔ 100,000 صائمہ مرحومہ کی بھانجی کی پوتی۔
اس وقت مرحومہ کا صرف ایک بھائی اور دو بھابھیاں زندہ یں، جبکہ اس ایک بھائی اور دو بھابھیوں کے علاوہ تمام بہنیں تمام بھائی پہلے انتقال کر چکے ہیں۔ مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں، شوہر بھی نہیں ہے۔ گهر میں اکیلی رہتی تھیں اور چونکہ اس کی یادداشت اور صحت وقت کے ساتھ ساتھ گرتی جارہی تھی، اس لیے کے ساتھ ایک ملازمہ دن میں اور ایک ملازمہ رات کو مرحومہ کی دیکھ بھال کے لیے ساتھ رہتی تھی۔
مرحومہ نے اپنی زندگی میں کچھ زیورات بھی دکھائے تھے اور کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائےتو انہیں بیچ دیا جائےاور رقم صدقہ کر دی جائے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد ہم نے ان الماریوں کو مرحومہ کے پڑوسیوں کی موجودگی میں دیکھا تو وہاں تمام زیورات موجود نہیں تھے صرف 6,700 اور 2 چوڑیاں برآمد کیں جن کی قیمت تقریبا365,000 ہے اب یہ تواللہ بہتر جانتا ہے کہ زیورات ملازمہ ے گئی جس پر شک بھی جاتا ہے یا مرحومہ نے کہیں اور دے دیئے۔ لیکن اصل رقم جو اب بڑھ کر تقریباً 1,415,535 ہو گئی ہے اور 2 چوڑیاں جن کی قیمت تقریباً 365,000 ہے اب بھی موجود ہیں اور میرے پاس امانت ہے۔ چونکہ یہ بینک اسلامی بینک نہیں ہے ، اس لیے اصل رقم کے اوپر کوئی بھی رقم جو کہ تقریبا 315535 بنتی ہے، سود ہے۔اب میں نے بینک سے ساری رقم نکال لی ہےاور بینک اکاونٹ بندکر رہا ہوں۔
میرے کچھ سوالات ہیں جن کا میں شرعی طریقے سے جواب چاہوں گا تاکہ میں ان کی رقم کو شرعی طریقے سے تقسیم کر سکوں۔
1: میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کے مرحومہ نے اپنی زندگی میں ان زیورات کی جو انتقال کے بعد برآمد ہوئے لیکن تمام برآمد نہیں ہونے یا وہ رقم جو اب موجود ہے کبھی انکی زکوة ادا کی یا نہیں ؟لہذا اس بارے میں کیاشرعی حکم ہے؟
2:مرحومہ کی اب تقریبا 1,100,000 کی اصل رقم اور 2 چوڑیاں جن کی قيمت تقریباً 365,000 ہے کا کیاحکم ہے جس کے بارے میں مرحومہ نے کہا تھا کہ یہ رقم کچھ لوگوں کو ادا کر دی جائے اور باقی صدقہ جاریہ کر دیا جائے اسکی تقسیم کیسے ہوگی؟
3: اس سود کا کیا کیا جائے جو بینک کی اصل رقم میں شامل ہے جو کہ تقریباً 315535 ہے؟
4: مرحومہ کے گھر میں پرانے اور کچھ نئے کپڑے، پرانے برتن، ٹی وی، فریج اور دیگر سامان موجود ہے۔ کیا میں یہ تمام اشیاء مختلف ضرورت مندوں کو عطیہ کر سکتا ہوں یا اس کے لیے مجھے کسی سےاجازت لینی پڑے گی؟
5:میرے پاس جو رقم اور زیورات کی مقدار ہے، کیا میں وہ تقسیم کرنے کا حق رکھتا ہوں یا مجھے کسی سے اجازت لینا ضروری ہے؟
6:اس بینکمیں جوکہ اسلامی بینک نہیں تھا، اس رقم میں سود بھی شامل کیا گیا، جبکہ اسلامی بینک میں مرحومہ کا اکاؤنٹ کھولنے کی بہت کوشش کی گئی، لیکن اس کے کاغذات اصلی نہیں تھے، جس کی وجہ سے کھاتہ کھولنے میں مشکلات اور کھاتہ نہیں کھولا گیا۔ پس مرحومہ کی مغفرت کے لیے کیا کیا جائے؟
میں نے مندرجہ بالا تمام سوالات اپنے بہترین علم کے ساتھ لکھے ہیں جو میرے ذہن میں تھے اور وہ تمام حقائق جو مجھے معلوم تھے وہ خود ہی حفظ کر کے لکھے ہیں۔ اگر میں اپنی لاعلمی یا یادداشت کی وجہ سے کچھ اور لکھنابھول گیا ہوں تو اللہ سے معافی مانگتا ہوں
سائل:محمد سہیل : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو فبھا، اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔
السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ۔ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔
1: ان زیورات کی زکوۃ آپ پر لازم نہیں بلکہ جو کچھ مال ملا وہ سب مالِ وراثت ہے جو شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگا۔
2: اصل رقم (11 لاکھ)اور چوڑیوں کی قیمت (3 لاکھ 65 ہزار)اوراسکے علاوہ جو کچھ مال و متاع ہے کل کے کل کی قیمت لگوا کر کل رقم کے ایک تہائی سے ان تمام لوگوں کو انکی نسبت کے اعتبار سے حصہ دیا جائے گا جن جن لوگوں کی مرحومہ نے وصیت کی ۔
نوٹ:اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 محرم الحرام 1445ھ/01 اگست 2023 ء