زکوةمیں تاخیر سے بچنے کا حیلہ
    تاریخ: 15 نومبر، 2025
    مشاہدات: 44
    حوالہ: 134

    سوال

    ایک میمن جماعت زکوٰۃوصول کرتی ہے اور زکوٰ ۃ کی ادائیگی میں تاخیر سے بچنے کے لیےاس طرح کرناچاہتی ہے کہ جو مستحقین ِزکوٰۃ ہیں انکی طرف سے جماعت کا ایک شخص وکیل بن کرانکی زکوٰۃ وصول کرلے ۔اور یہ وصول کرنے کا طریقہ اس طرح ہوگا کہ جماعت کے زکوٰۃ اکاؤنٹ سے اس وکیل کے اکاؤنٹ میں زکوٰۃ ٹرانسفر کردی جائےگی۔ پھر دوسری وکالت یہ لی جاتی ہے کہ وکیل مستحقین کی جانب سے اس رقم کا مالک جماعت کو کردے گااور پھرجماعت اس رقم سے ان مستحقین و دیگر مستحقین کی مدد کرے گی۔اور یہ رقم وکیل کے اکاؤنٹ سے نکال کر جماعت کے ہی دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی جاتی ہے جو حیلہ شدہ زکوٰۃ کے لیے بنایا گیا ہے۔کیا جماعت کا اس طرح کرنا درست ہوگا؟کیونکہ جو مستحقین ِزکوٰۃ ہوتے ہیں انھیں پیسوں کی پورے سال ضرورت ہوتی ہے جبکہ زکوٰۃ زیادہ تر رمضان کے مہینے میں ہی وصول ہوتی ہے، تو پورے سال انکی مدد کرنے کے لیے یہ حیلہ کیا جاتا ہے تاکہ زکوٰۃ سے انکی مدد بھی جاری رہے اور زکوٰۃ کی تملیک کے ساتھ ساتھ اس میں تاخیر کے گناہ سے بھی بچا جاسکے۔ سائل :عبدالقدوس عطاری:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں جماعت کا ایسا عمل کرنا درست ہوگا ۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے ۔مستحقین کو مالک بنائے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ۔اور یہاں مستحقین کی جانب سے وکیل جب قبضہ کرلے گا تو تملیک کا عمل مکمل ہوجائےگا کیونکہ وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ ہوتا ہے ۔پھر وکیل کا بینک اکاؤنٹ میں رقم کا آجانا قبضہ شمار ہوگا کہ یہ بھی قبضے کی ایک صورت ہے۔ پھر مستحقین کی جانب سےادارے کو مالک بنانے کی وکالت لے کر ان پر یا دیگر مستحقین پر خرچ کرنا بھی درست ہے،کہ یہ اب ان مستحقین کی رقم ہے وہ جسے چاہیں اس رقم کا مالک کردیں۔

    زکوٰۃ کے لیے مالک بنا نا شرط ہے اس کی بابت درمختار میں ہے:وَیُشْتَرَطُ أَنْ یَکُونَ الصَّرْفُ (تَمْلِیکًا) لَا إبَاحَۃً کَمَا مَرَّترجمہ: اور زکوۃ میں مالک بنانا شرط ہے ،اباحت (استفادہ کی اجازت دینا) کافی نہیں ہے جیسا کہ گزرا۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار باب مصرف الزکوۃ جلد 2ص344)

    اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: زکوٰۃ کا رکن تملیکِ فقیر ہے جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہوکیسا ہی کارِحسن ہو جیسے تعمیرِ مسجد یا تکفینِ میّت یا تنخواہِ مدرسانِ علمِ دین، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہوسکتی۔(فتاوی رضویہ ،جلد 10،صفحہ 270،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مستحق زکوٰۃ جب کسی کو زکوٰۃ پر قبضہ کرنے کا وکیل بنائے تو وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ ہوگا اسکی بابت فتاوٰی شامی میں ہے: يوكل المديون خادم الدائن بقبض الزكاة ثم بقضاء دينه، فبقبض الوكيل صار ملكا للموكلترجمہ:مدیون دائن کے خادم کو زکوٰۃ پر قبضہ کرنے کا وکیل بنائےپھر اپنا قرض ادا کرنے کا وکیل بنائے تو وکیل کے قبضہ کرنے کے سبب زکوٰۃ مؤکل کی ملک ہوجائے گی۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،جلد:2،ص:271،دارالفکر بیروت)

    بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم قبضہ شمار ہوتی ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: وہ (رقم)جب تک بینک میں ہے اپنے قبضے میں سمجھا جائے گا۔(فتاوی رضویہ ،جلد:10،ص:142،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 26ذوالقعدہ1442 ھ/07جولائی 2021 ء