سوال
زندگی میں والدین نے چند جائیدادیں میرے نام کیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
1: گھر نام کیا، جس کی تفصیل یہ ہے والدہ کا گھر تھا انہوں نے میرے نام کیا اس وقت اس میں کرائے دار رہتے تھے ۔ والدہ کی وفات کے بعد میں نے مکان خالی کروالیا اب وہ خالی ہی رکھا ہوا ہے۔
2: والد صاحب کا ایک فلیٹ تھا جو انہوں نے خرید کر میرے نام کردیا ،بعد ازاں کرائے پر چڑھادیااور آج تک کرائے پر ہے۔
3: میرے والد صاحب کا آستانہ تھا جوکہ انہوں نے میرے نام کردیا اور اس وقت سے اب تک میرے قبضے میں ہی ہے ۔اور میں ہی چلا رہا ہوں ۔
یہ ساری چیزیں قانونی طور پر میرے نام ہیں اب سوال یہ ہے کہ یہ تینوں چیزیں والد صاحب کی وراثت میں تقسیم ہوگی یا نہیں ؟
سائل:یونس خان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1&2: گھر، پلاٹ وغیرہ کسی کے نام کرنا حکمِ ھبہ رکھتا ہے اور ھبہ میں قبضہ شرط ہے اگر والدو والدہ نے یہ اشیاء محض کاغذات میں بیٹے کے نام کیں اور قبضہ نہ دیا تو یہ مکان ان کی ہی ملک رہا ، اس بیٹے کا ان چیزوں میں کوئی شرعی حق نہیں ۔اور بالخصوص اس وقت جب یہ گھر وفلیٹ کرائے پر چڑھے رہے ۔اور کبھی تخلیہ کرکے بیٹے نے قبضہ نہ لیا حتٰی کہ والد و والدہ کا انتقال ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔اب گھر خاص ملکِ والدہ اور فلیٹ خاص ملکِ والد ہےجو اب ان کے ورثاء میں بحسبِ فرائض منقسم ہوگا۔(ورثاء کے حصے کے لئے تمام ورثاء کی تفصیل و نام لکھ کر بھیجیں)
3: اگر سائل اس بیان میں سچا ہے اور واقعی اس آستانے پر اس کا قبضہ کامل ہوچکا تھا ، تو یہ آستانہ خاص اس بیٹے کی ملکیت ہے ۔کسی اور کواس میں حصے کا مطالبہ جائز نہیں ہے۔
ھبہ بغیر قبضہ میں تام نہیں ہوتا اس بارے میں تنویرالابصارمیں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ۔ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے: تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں : يشترط القبض قبل الموت ترجمہ : ( ہبہ کرنے والے کی ) موت سے پہلے قبضہ کرنا شرط ہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 573 ، دار المعرفۃ بیروت)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
در مختار میں ہے:والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ترجمہ:''م'' سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ جلد 5ص701)
رد المحتار میں ہے : لو وهب طفله دارا يسكن فيها قوم بغير أجر جاز ويصير قابضا لابنه، لا لو كان بأجر ترجمہ : ( باپ نے ) اپنے بچے کو گھر ہبہ کیا اور اس گھر میں کچھ لوگ بغیر اجرت کے رہتے تھے ، تو ہبہ درست ہے اور بیٹے کا قبضہ ہوجائے گا ، بخلاف اس صورت کے کہ اگر ( اس گھر میں رہنے والے لوگ ) کرایہ دے کر رہتے ہوں ( تو ایسی صورت میں قبضہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ہبہ مکمل نہیں ہوگا )۔
ہبہ کی گئی چیز کرائے پر دی ہو ، تو یہ قبضہ اور ہبہ کے لیے مانع ہے ۔ چنانچہ علامہ رافعی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار کی مذکورہ بالا عبارت کے حاشیہ میں منتقیٰ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : ان ید الساکن باجر ثابتۃ علی الموھوب بصفۃ اللزوم فیمتنع القبض فیمتنع تمام الھبۃ ترجمہ:کرائے دار کا ہبہ کی ہوئی چیز پر قبضہ صفتِ لازمہ کے ساتھ ہے ( یعنی مستقل اور جدا قبضہ ہے ) ، تو موہوب لہ ( جس کو چیز ہبہ کی گئی ہے ، اس کے ) قبضہ سے یہ مانع ہے ، لہٰذا یہ ہبہ تام مانع ہوگا ۔(رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 575 ، دار المعرفۃ بیروت )
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 ربیع الثانی 1443 ھ/02 دسمبر2021 ء