سوال
میں نے اپنا فلیٹ اپنی بیٹی شفق سلیم کو ھبہ کردیا ہے، اور اسکا قبضہ بھی اپنی بیٹی کو ہی دے دیا ہے،میں اپنے انتقال تک اسی فلیٹ میں اس کے ساتھ رہوں گی۔ میں شرعی حیثیت معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ میرے انتقال کے بعد میرے دوسرے بچے اس میں حصہ دار ہونگے یا نہیں ؟ باقی سب بچوں کے لئے بھی الگ الگ فلیٹ رکھے ہوئے ہیں ۔نیز اس میں کسی اولاد کی حق تلفی تو نہیں؟
سائل:رضیہ سلیم : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو قبضہ کے بعد وہ فلیٹ خاص شفق سلیم کی ملکیت ہے ، کسی دوسرے شخص کا اس میں کوئی حق نہیں ہے، یونہی واھبہ (ھبہ کرنے والی )کے انتقال کے بعد اسکے ورثاء میں کوئی بھی اس فلیٹ سے حصہ کا تقاضا نہیں کرسکتا ۔ اپنی حیاتی میں بیٹی کی رضامندی سے اس فلیٹ میں رہ سکتی ہیں ۔
کیونکہ ھبہ بعد از قبضہ کامل صحیح و تام ہوجاتا ہے جس کے بعد اس شئے موھوبہ(جو چیز گفٹ کی گئی ہے) میں موہوب لہ(جسے گفٹ کی گئی) کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے، بعد ثبوتِ ملکیت کسی کو کوئی دعوٰی تقسیم وراثت کا روا نہیں۔
پھر جب دیگر اولاد کو اسی طرح الگ الگ فلیٹ رکھ دیئے ہیں تو بہتر ہے انہیں ابھی اسی طرح ھبہ کرکے قبضہ دے دیا جائے تو یہ اولاد کی حق تلفی کے زمرے میں بھی داخل نہیں ہوگا بلکہ حدیث پاک کے عین مطابق ہوجائے گا، صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)
تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 رجب المرجب 1444 ھ/07 فروری 2023 ء