نابالغ کو ھبہ اور مشاع کا مسئلہ
    تاریخ: 2 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 940

    سوال

    ہمارے والد صاحب نے ایک مکان خریدا اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئےکاغذات میں والدہ اور دو بھائیوں کے نام کروادیا۔والد صاحب نے کسی کو بھی گفٹ نہیں کیا،اس وقت دونوں بھائی نابالغ تھے ۔ اب جبکہ والدین کا انتقال ہوگیا ہےہمارے وہ دونوں بھائی کہہ رہے ہیں کہ اس گھر میں 3/2 کے اعتبار سے ہمارا حصہ ہوگا اور والدہ کے حصہ میں یعنی 3/1 میں تقسیم جاری ہوگی۔کیا انکا یہ فیصلہ شرعی طور پر جائز ہے؟ جبکہ پلاٹ حقیقتا ہمارے والد کا ہی تھا۔

    سائل:بشیر احمد :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں مذکور ہوا تو حکمِ شرعی یہ ہے کہ اولا مکان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے دو حصے ان دونوں بھائیوں کو ملیں گے کہ نابالغی کی حالت میں مکان جن کے نام کردیا گیا تھا۔ اور والدہ والا حصہ وراثت میں تقسیم ہوگا۔

    تفصیل اس امر کی یہ ہے کہ زندگی میں نام کرنا ھبہ کی صورت ہے، جس کے لئے قبضہ شرط ہے ، پھر اگر واہب (گفٹ کرنے والا ) اپنی نابالغ اولاد کو ھبہ کرے باپ کا قبضہ بعینہ انکا قبضہ کہلائے گا ، از سرنو قبضہ کی ضرورت نہیں ۔محض ھبہ کرنے سے ہی نابالغ اولاد کی ملکیت ثابت ہوجائے گی ۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے :ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقد (ای الایجاب فقط) لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب ۔ترجمہ: جس کو نابالغ پر ولایت حاصل ہے تو اس کا بچے کو ہبہ، محض عقد سے ہی تام ہوجاتا ہے یعنی صرف ایجاب ہی کافی ہے کیونکہ ولی کا قبضہ بچے کی نیابت سے ہے۔ اورقاعدہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایک شخص ہی فریقین کے قائم ہوسکتاہے اس میں اس کا ایجاب ہی کافی ہے۔(تنویرالابصار مع الدر المختار کتاب الھبۃ جلد 6ص 694 الشاملہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :پسر موہوب لہ اگر وقت ہبہ بالغ ہو تو خود اس کا اپنا قبضہ شرط ہے ورنہ باپ کا قبضہ اسی کا قبضہ ہے ،کل ذٰلک مصرح بہ فی الکتب الفقہیۃ عن اٰخرہا (یہ تمام بحث کتب فقہ میں تصریح شدہ ہے۔ )(فتاوٰ ی رضویہ کتاب الھبۃ جلد 19 ص 219)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں : قبضہ پدر بعینہٖ قبضہ پسر نابالغ ہے، مجمع الانہر میں ہے : ھبۃ الاب لطفلہ تتم بالعقد لانہ فی قبض الاب فینوب عن قبض الصغیر لانہ ولیہ ۔ نابالغ بچے کے لئے باپ کا ھبہ صرف عقد سے ہی تام ہوجا تاہے کیونکہ وہ ھبہ باپ کے قبضہ میں بیٹے کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہےکیونکہ یہ اس کا ولی ہے۔(فتاوٰ ی رضویہ کتاب الھبۃ جلد 19 ص 194)

    رہا وہ حصہ جو اپنی زوجہ کے نام کیا ، اسکا حکم یہ ہے کہ وہ خاصِ ملک والد ہی رہا اور اب والد کی وراثت کی حیثیت سے انکے تمام ورثاء (بشمول مذکورہ دو بھائیوں کے ) میں بحسبِ فرائض ورثاء منقسم ہوگا۔

    کیونکہ جب شوہر نے بیوی کو قبضہ نہ دیا تو یہ مکان شوہر کی ملکیت ہے ، بیوی کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ۔اور بالخصوص اس وقت کہ شوہر خود بھی اس میں رہتا رہا اور اپنا مال و اسباب بھی اسی میں رکھا اور کبھی تخلیہ کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا حتٰی کہ زوجہ کا انتقال ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔

    ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ترجمہ:''م'' سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ،جلد 5ص701)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 15 صفر المظفر 1443 ھ/23 ستمبر2021 ء