مکان نام کرنے کا حکم
    تاریخ: 2 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 939

    سوال

    میرے والد صاحب نے زندگی میں بہن کی موجودگی میں دوکان میرے نام کردی تھی اورمکان والد کے نام ہی تھا۔اب میرا بھانجا جوکہ مفتی ہے دوکان اور مکان دونوں سے اپنا حصہ مانگا ہے۔اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:محمد سلیم : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مکان وغیرہ کسی کے نام کرنا حکمِ ھبہ رکھتا ہے اور ھبہ میں قبضہ شرط ہے اگر والد نے یہ مکان محض کاغذات میں نام کیا اور قبضہ نہ دیا تو یہ مکان والد ہی کی ملکیت ہے ، آپ کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ۔لہذااب یہ مکان خاص ملکِ والد قرار پاکر ان کے ورثاء میں بشمول آپکے بحسبِ فرائض ورثاء منقسم ہوگا۔

    ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    ورثاء کے حصص کی شرعی تقسیم کے لئے تمام ورثاء کی تفصیل بھیجیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 صفر المظفر 1442 ھ/07 اکتوبر 2020 ء