سوال
میرے سسر(احمد حسن) کا مکان ہے، انکا ایک بیٹا (عظیم خان) جو کہ میرا شوہر ہے اور پانچ بیٹیاں ( صابرہ، سائرہ، رئیسہ، زبیدہ، فہمیدہ) ہیں ، انہوں نے زندگی میں ہی اپنا مکان میرے شوہر کے نام کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے، اور انہوں نے لکھ کر میرے شوہر کے نام کردیا بعد ازاں انکا انتقال ہوگیا۔ انکے انتقال کے بعد انکی سب بہنوں نے بھی الگ الگ طور اپنا اپنا حصہ میرے شوہر کے نام کردیا سب نے کاغذات بنواکر نام کیا ہےجس وقت والد صاحب نے انکے نام کیا اس وقت انکے والد اور ہم اس گھر میں رہتے تھے اور جب بہنوں نے انکے نام لکھ کر دیا تو اس وقت صرف ہم لوگ اس گھر میں رہائش پذیر تھے اور ہمیں اس گھر میں ٹوٹل 45 سال ہوگئے ہیں۔ والد صاحب اور بہنوں نے نام کرنے کے لئے جو کاغذات بنائے تھے وہ سب ہمارے پاس موجو د ہیں ، جو کہ آپکو بھی دکھائے ہیں۔پھر میرے شوہر کا بھی انتقال ہوگیا اب انکی دو بہنیں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں۔ شرعی اعتبار سے انکا حصہ بنتاہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ میرے سسر کے انتقال کے بعد انکی دو بیٹیوں کا بھی انتقال ہوچکا ہے ۔ ان بیٹیوں کی اولاد کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
نوٹ: والد صاحب اور بہنوں نے مکان نام کروانے کے لئے گفٹ ڈیڈ بنوائی تھی جو کہ دارالافتاء میں دکھائی گئی ، جس کے مطابق مکان عظیم خان کے نام کیا گیا ہے۔
ورثاء کی تفصیل: ایک بیٹا(عظیم خان) پانچ بیٹیاں ( صابرہ، سائرہ، رئیسہ، زبیدہ، فہمیدہ) بعد ازاں ایک بہن صابرہ کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں شوہر (نور محمد ) تین بیٹے(ثاقب، سعید، حامد) 3 بیٹیاں (نعیمہ، سلطانہ، منی)ہیں۔ پھر دوسری بہن سا ئرہ کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں 4 بیٹیاں (عقیلہ، نجمہ،فاطمہ، ثریا) اور 1 بیٹا (ساجد) ہے جبکہ شوہر کا پہلے انتقال ہوگیا ۔پھر نور محمد کا انتقال ہوا اسکے والدین پہلے فوت ہوچکے ورثاء میں صرف 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔
سائلہ:فرشیدہ بیگم: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
احمد حسن کا مکان نام کرنا ھبہ ہے اور ھبہ میں قبضہ شرط ہے اگر انہوں نے یہ مکان محض کاغذات میں عظیم خان کے نام کیا اور قبضہ نہ دیا تو اس مکان کا حکمِ شرع یہ ہے کہ یہ مکان احمد حسن کی ملکیت ہی ہے ۔اور بالخصوص اس صورت میں کہ جب مکان نام کیا تو اس وقت احمد حسن خود بھی اس مکان میں رہتا رہا اور اپنا مال و اسباب بھی اسی میں رکھا اور کبھی تخلیہ کرکے عظیم خان کو قبضہ نہ دیا حتٰی کہ ان کا انتقال ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔
احمد حسن(والد) کے انتقال کے بعد بہنوں کا بذریعہ کاغذات مکان نام کرنا ، بھی ھبہ ہے، اور یہ بات گزری کی ھبہ بغیر قبضہ کامل و تام نہیں ہوتابلکہ اسکے تمامیت کے لئے قبضہ ضروری و لازم ہے، اور یہاں یہ مکانِ موھوبہ (نام کردہ مکان) پہلے ہی موھوب لہ (عظیم خان) کے قبضے میں ہے۔ لہذا اب نئے سرے سے قبضے کی حاجت نہیں بلکہ بہنوں کا یہ مکان عظیم خان کے نام کرنے سے ہی یہ ھبہ کامل و تام ہوگیا۔ اب یہ خاص عظیم خان کی ملک ہے جو کہ بعد ِ وفات اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔اب اس مکان میں بہنوں یا انکی اولاد کا کچھ حق نہیں۔
ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ترجمہ:''م'' سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ،جلد 5ص701)
ہدایہ میں قبضہ کی شرط کی علت یوں بیان کی گئی :والقبض لا بد منه لثبوت الملك لأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح۔ترجمہ: ھبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لیے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے ، جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب الھبہ جلد 3 ص 222)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 محرم الحرام ا1444 ھ/13 اگست 2022 ء