سوال
میری پہلی بیوی کا انتقال برضاء الہی سن 2000 میں ہوا،انتقال سے پہلے میں نے اپنے پیسوں کی ایک مارکیٹ خریدی ،جس میں 4 دکانیں بنی ھوئی تھیں اور ان دکانوں پر ایک فلیٹ نما گھر بنا ھوا تھا ،جب رجسٹری کرنے کا موقع آیا تو میرے سالے یعنی بیوی کے بھائی نے مجھے مشورہ دیا کہ اپنی بیوی کا نام بھی اس پراپرٹی میں ڈال دیں ،تو میں نے اپنے ساتھ اپنی بیوی کا نام بھی اس میں ڈال دیا ۔لیکن اس مارکیٹ میں سے میں نے اپنی مرحومہ بیوی کا کوئی خاص حصہ جائداد میں سے متعین نہیں کیا تھا کہ یہ والی دکان بیوی کی ہوگی اور یہ میری ھو گی ،، نا تو کاغذات میں اس قسم کی کوئی صراحت کی تھی ، اور نا ہی اسے اس پر تصرف دیا نا اسے علیحدہ کر کے اسکی ملکیت میں دیا ، بس سیفٹی کے طور پر اسکا نام ڈالا تاکہ اگر مجھے کچھ ھو جائے تو میری بیوی اس پراپرٹی کی مالک ھو جائے ،میری اس بیوی سے کوئی اولاد بھی نہیں ھوئی اور برضائے الہی میری اس بیوی کا انتقال ھو گیا ،2002 کے بعد میں نے دوسری شادی کی اور اب 23 سال کے بعد میری مرحومہ بیوی کےبھائی آگئے کہ یہ مارکیٹ ھماری بہن کے نام ھے لہذا اس پراپرٹی میں سے ھمیں حصہ دیا جائے ،برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ شرعی طور پر ان کو حصہ دیا جائے گا یا نہیں ؟؟اور کیا وہ دکانیں اور گھر جو کہ قابل تقسیم تھیں، فقط بیوی کا نام ایڈ کرنے سے بغیر تقسیم کئے اور بغیر اسکے حوالہ تصرف کئے اسکی ملکیت میں چلی گئی یا نہیں ؟؟نیز پراپرٹی کی دوکان کا کرایہ بھی اتنے سال تک میں نے وصول کیا۔اس میں سے بھی اسکے بھائی حصے کا تقاضا کررہے ہیں ۔
نیز میرے اپنے سگے بھائی اور بھتیجے بھی میری ملکیت میں سے حصہ مانگتے ہیں،کیا میری زندگی میں میرے بھائی اور بھتیجے و دیگر رشتہ دار اپنے حصے کا تقاضا کرسکتے ہیں؟؟ جب کہ میری دوسری بیوی بھی حیات ہیں اور ھم ہنسی خوشی زندگی بسر کر رھے ھیں اور یہ لوگ آکر ھم سے اپنے اپنے حصے مانگنا شروع ھو گئے ،برائے مہربانی جلد از جلد جواب عنایت فرما کر میری شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
سائل: محمد افتخار: گجرات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دکان پلاٹ وغیرہ کسی کے نام کرنا حکمِ ھبہ رکھتا ہے اور ھبہ میں قبضہ شرط ہے لہذا اگر شوہر نے یہ دوکانیں محض کاغذات میں زوجہ کے نام کی اور قبضہ نہ دیا تو یہ سب چیزیں خالص شوہر کی ملکیت ہے ، خاتون کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ۔سو جب خاتون کا اس میں حق نہیں تو اسکے بھائیوں کا ان دوکانوں اور کرائے سے حصے کا تقاضا بھی درست نہیں ،ان پر لازم ہے کہ تقاضے سے باز رہیں۔
یونہی جب تک آپ حیات ہیں، آپکی ملکیت سے آپکے بھائی، بھتیجوں اور دیگر رشتہ داروں کا مطالبہ درست نہیں ہےاور اگر مطالبہ کرے تو اسے پورا کرنا آپ پر ضروری نہیں ۔کیونکہ یہ جائیداد وراثت نہیں کہ جس کی تقسیم لازم ہو بلکہ یہ سب ایسی مملوکہ اشیاء ہیں جنکا مالک حیات ہے جبکہ وراثت اس مال کو کہا جاتا ہے جو بعد از وفات تقسیم ہو۔
ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 ربیع الثانی 1445ھ/ 08 نومبر 2023 ء