ھبہ کے ایک مسئلے کا شرعی حکم
    تاریخ: 3 مارچ، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 941

    سوال

    میرے والد نے ہم دو بھائیوں کے نام2012 میں ایک مکان کیا، جسکی اس وقت قیمت 15 سے 20 لاکھ کے درمیان تھی۔پھر میں نے اپنی بیوی اوربچی کے زیورات بیچ کر مکان تعمیر کروایا۔ جس میں میرے بھائی کا یک روپیہ بھی نہیں لگا اب پلاٹ کی قیمت 30 سے 35 لاکھ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ میں اپنے بھائی کو حصہ کس حساب سے دوں ۔ 2012 کے حساب سے یا اب 2021 کے حساب سے۔

    سائل: عبدالمجید :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سوال انتہائی مبھم ہے؟ نام کرنے کے بعد قبضہ دیا یا نہیں ؟ پھر دونوں بھائیوں کا حصہ الگ الگ کیا یا نہیں ؟بہرحال اگر مذکورہ طریقے پر قبضہ نہ دیا تو مکان انکی ملک ہی نہ ہوا کہ ھبہ بلاقبضہ، غیر صحیح و غیر تام ہے پھر ھبہ مشاع ہونا ایک الگ وجہِ ممانعت ہے لہذا مکان ملکِ والد ہوکر تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔مگر یہ کہ جس بھائی نے تعمیرات پر خرچ کیا وہ اتنی رقم کل قیمت سے لے سکتا ہے۔

    اور اگرمذکورہ طریقے پر قبضہ دے دیا تھا تو ہر ایک کی ملکیت ثابت ہوگئی ، اب حکم یہ ہے کہ مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو نکلواکر سب سے پہلے جس بھائی نے تعمیرات پر خرچ کیا وہ اتنی رقم کل قیمت سےلے لے اور باقی رقم دونوں کے مابین برابر ، برابر تقسیم کی جائے گی۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    تاریخ اجراء:19 صفر المظفر 1443 ھ/27 ستمبر2021 ء