زکوۃ میں رقم یا گھر دینے کے شرعی اصول
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 287

    سوال

    کتیانہ میمن ایسوسی ایشن ایک فلاحی ادارہ ہے جس کے ماتحت ذیلی ادارے قائم ہیں جو کہ برادری کے غریب اور نادار افراد کی مختلف ادوار میں ان ذیلی اداروں کے ماتحت مختلف فلاحی سرگرمیاں جاری ہیں جس میں تعلیم،صحت، غریب خاندان کی بچیوں کی شادی اور بے گھر افراد کی مکان خریدنے میں مالی مدد شامل ہے۔اس سلسلے میں عموماً مدد زکوۃ فنڈ سے کی جاتی ہے کیونکہ زکوۃ ایک اسلامی فریضہ ہے اس سلسلے میں وقتا فوقتی علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ۔ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔

    ادارہ کی جانب سے بعض غریب اور بے گھر افراد کو مکمل مکان دیا جاتا ہے ،بعض اوقات ان درخواست گزار خاندانوں کے پاس کچھ رقم موجود ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ادارے کی جانب سے جو رقم کی کمی ہے وہ پوری کی جاتی ہے۔ اکثر اوقات ان کے رشتہ دار اور احباب کی جانب سے مدد بھی زکوۃ کی رقم سے ہوتی ہے ایسی صورت میں بھی کم ہونے والی رقم ادارے کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔

    لیکن کچھ عرصے کے بعد یہ افراد مکان فروخت کر کے ایک بار پھر بے گھر ہو جاتے ہیں۔جبکہ ادارے کی جانب سے کسی فرد واحد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو مدد دی جاتی ہے۔ایک فرد کے فیصلے کی وجہ سے پورا خاندان بے گھر ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کے طلب گار ہے کہ اگر مکان رجسٹر ہوتے وقت %1 ( ایک فیصد) کے حصہ کا مالک ادارے کو بنایا جائے۔اس ایک فیصد کی رقم ادارے کی جانب سے بغیر زکوۃ کے فراہم کی جائے لیکن نیتاً پورے مکان کی ملکیت اس خاندان کی تصور ہوگی،صرف بیچنے کی صورت میں ادارے کو مطلع کرنا اور اجازت طلب کرنا ہو تاکہ اپنا مکان بیچ کر دو سر امکان خرید سکیں۔ایسی صورت میں پورے خاندان کو تحفظ حاصل ہوگا ۔کیا اس سلسلے میں کوئی شرعی قباحت یاممانعت موجود ہے یا نہیں رہنمائی فرمائیں نوازش ہوگی۔واضح رہے کہ چند دیگر اداروں (جماعتوں میں) ایک فیصدحصہ داری جیسے قوانین رائج ہیں۔

    سائل: منور شیوانی،جنرل سیکریٹری (کتیا نہ میمن ایسوسی ایشن)۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    زکوۃ میں فقیر شرعی کو مالک بنایا جاتا ہےاور مالک اپنی مملوکہ شے میں اختیار رکھتا ہے چاہے تو اس میں کسی کو شریک کرے چاہے نہ کرے۔نیز جس طرح مستحقِ زکوۃ کو زکوۃ کی رقم دی جا سکتی ہے، اسی طرح زکوۃ کی رقم سے گھر خرید کر اسے اس کا مالک بھی بنایا جا سکتا ہے۔

    سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر زکوۃ رقم کی صورت میں فقیر شرعی کو دی گئی اور اس رقم سے گھر خریدا گیا تو اس میں فقیر شرعی اپنی رضامندی سے آپ کو گھر میں ایک فیصد کا شریک کرتے ہیں تو جائز وگرنہ نہیں۔ہاں اگر زکوۃ گھر کی صورت میں دی گئی کہ بطور زکوۃ 99 فیصد گھر کی ملکیت فقیر شرعی کو دی اور اس میں 1 فیصد اپنی ملکیت رکھی تو جائز ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    زکوٰۃ کا رکن فقیرِ شرعی کو مالک بنانا ہے،علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَقَدْ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى الْمُلَّاكَ بِإِيتَاءِ الزَّكَاةِ لِقَوْلِهِ عَزْو جَلَّ: {وَآتُوا الزَّكَاةَ} وَالْإِيتَاءُ هُوَ التَّمْلِيكُ".ترجمہ : اللہ عز وجل نے مال والوں کو زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے ۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : {وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ } (یعنی زکوٰۃ دو ) اور ایتاء یعنی دینے کا مطلب ہی مالک کر دینا ہوتا ہے ۔ (بدائع الصنائع ، کتاب الزکوٰۃ، فصل رکن الزکوٰۃ ،2/39،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’زکوٰۃ کا رکن تملیکِ فقیر ( یعنی فقیر کو مالک بنانا ) ہے ۔ جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہو ، کیسا ہی کارِ حَسن ہو جیسے تعمیرِ مسجد یا تکفینِ میت یا تنخواہِ مدرسانِ علمِ دین ، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہوسکتی‘‘۔ ( فتاوی رضویہ ،10/269، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )

    زکوۃ میں دیے جانے والے مال کے قاعدے کے متعلق علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَالْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ مَالٍ يَجُوزُ التَّصَدُّقُ بِهِ تَطَوُّعًا يَجُوزُ أَدَاءُ الزَّكَاةِ مِنْهُ وَمَا لَا فَلَا".ترجمہ:اصل یہ ہے کہ ہر وہ مال جس کا نفلی صدقہ جائز ہے اس سے زکوۃکی ادائیگی بھی جائز ہے اور جو ایسا نہ ہو اس مال سے زکوۃ بھی جائز نہیں۔(بدائع الصنائع،کتاب الزکاۃ،فصل رکن الزکاۃ،فصل الذی یرجع الی المودی،2/41،دار الکتب العلمیۃ)

    مشكاة المصابيح کی روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ".ترجمہ :خبردار!کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال اس کی مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں۔(مشکاۃ المصابیح،كتاب البيوع، باب الغصب والعارية،2/889،رقم:2946،المكتب السلامي)

    بلا اجازت ملک غیر میں تصرف جائز نہیں،مجلۃ الاحکام میں ہے:"لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِ الْغَيْرِ بِلَا إذْنِهِ".ترجمہ:کسی کے لئے جائز نہیں کہ غیر کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف کرے۔( مجلۃ الاحکام العدلیۃ، مادة: 96، نور محمدكارخانه آرام باغ کراچی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب