سوال
میرا نام عریشہ رحمان ولد منہاج الدین ہے ، میری شادی چودہ سال کی عمر میں ہوئی مگر میری شادی کامیاب نہیں رہ سکی اور کچھ سال میں علیحدگی ہوگئی ، پھر میں نے 13 اکتوبر 2016 کواپنے شوہر (ریحان) سےطلاق لے لی ،اور میرے شوہر نے مجھے نام لے کر تین طلاقیں دی(جسکی ریکارڈنگ آپکو بھیج دی ہے) اور بعد میں اسٹامپ پیپر پر بھی تین طلاقیں لکھوائی (جسکی کاپی سوال کے ساتھ ملحق ہے)کیونکہ وہ ایک ہیرونچی تھا ،ہماری ایک بیٹی تھی اسکو بچی اور میری کوئی فکر نہیں تھی،پھر میری عدت شروع ہوئی ،جوکہ تین حیض تھی۔لیکن میں نے عدت ایسی نہیں گزاری جیسےگزارنی چاہیے کیونکہ اس عدت میں باہر آتی جاتی تھی کیونکہ میرے ساتھ میری بیٹی اور دو بہنیں تھی جن کی کفالت میں کررہی تھی اور کوئی نہیں ہے کفالت کرنے والا۔پھر میری زندگی میں ایک شخص (دانیال صدیقی )آیا جس نے مجھے ،میری بہنوں اور بیٹی کو بہت افورڈ کیا ۔ 15 دسمبر 2016 کو میں اپنی والدہ سے ملنے گئی وہاں میرے سوتیلے باپ نے مجھے ایک کمرے میں بند کردیااور اور میری بچی کو الگ سے بند کردیا اور ہم دونوں پر بہت ظلم کئے ،پھر کچھ دن بعد تقریبا ایک ہفتے کے بعد میرے سوتیلے باپ اپنے دو بھانجوں (سلمان اور سیف ) کو لے کر آئے اور کہا کہ سلمان سے نکاح کرلو میں نے انکے ڈر اور جبر کی وجہ سے کہ بچی کے ساتھ کچھ کر نہ دیں حامی بھرلی لیکن دل سے راضی نہیں ہوئی ،جبکہ ابھی میری طلاق کو ڈیڑھ مہینہ ہی گزرا تھا مجھے ڈرا دھمکا کے انہوں نے دسمبر کی کسی تاریخ کو میرا ان سے نکاح کروادیا وہاں صرف میرے سوتیلے والد، اور انکے دوبھانجے تھے ایک جس سے نکاح ہورہا تھا جسکا نام سلمان تھا اور دوسرا سیف اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ سیف مفتی ہے اس لیے تمہاری عدت مکروہ ہوگئی کیونکہ تم نےکسی غیر سے تعلق رکھا اب تم نکاح کرلو پھر سیف نے کہا کہ عریشہ ریحان ولد منہاج الدین آپکو سلمان عابد سے نکاح منظور ہے تب میں نے ایک بار کہا میں راضی ہوں اور اس بات پر قرآن اٹھانے کے لیے راضی ہوں ۔پھر اسکے بعد میرا سوتیلہ باپ مجھے میری والدہ کے گھر لے آیا اور میری بچی بھی وہاں موجود تھی مجھے انہوں نے کہا کہ عید کے فورا بعد میں اعلانیہ نکاح کردوں گا ، اس دوران سلمان کے ساتھ دو بار ازدواجی تعلق بھی قائم کیا ،لیکن میرے ذہن میں پلین تھا کہ یہاں سے بھاگنا ہے لہذا میں رمضانوں میں مئی 2017 میں وہاں سے بھاگ گئی اپنی بچی لے کر ۔اور دوبارہ اس آدمی سے رابطہ کیا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا اور 2جون 2018 یعنی ایک سال ایک مہینے بعد میں نے اس سے کورٹ میرج کرلیا ۔اس وقت میری عدت تین حیض گزر چکی تھی بلکہ تین حیض سے زائد گزر چکے تھے۔ اب اس ساری صورت حال کے پیش نظر میرے چند سوالات ہیں:
1:۔ کیا میری عدت مکروہ ہوگئی کیونکہ میں نے اس وقت کسی آدمی سے تعلق رکھا تھا۔کیونکہ میرے سوتیلے والد نے مجھ سے یہی بول کر نکاح کیا کہ تمہاری عدت مکروہ ہوگئی کیونکہ تم نے عدت میں باہر آنا جانا کیا اور کسی دوسرے بندے سے تعلق رکھا۔
2:۔ کیا میرا جو عدت میں نکاح کیا گیا وہ صحیح ہے یا نہیں؟؟سلمان اور میرا نکاح مانا جائے گا یا نہیں؟
3:۔ میں نے وہاں سے بھاگ کر جو کورٹ میرج کیا وہ حلال ہے یا حرام ؟
برائے مہربانی مجھے ان تما سوالوں کے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے دیں کیونکہ سوتیلا باپ اور سلمان مجھے تنگ کررہا ہے کہ تمہارا یہ نکاح
ہوا ہی نہیں ؟ تم حرام کام کررہی ہو وغیرہ وغیرہ،اللہ کے فضل و کرم سے میں اپنی بیٹی کے ساتھ اس شوہر کے ساتھ بہت خوش ہیں۔
سائلہ: عریشہ ریحان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
:۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ ریحان کے طلاق دینے کے فورا بعد ہی آپکی عدت شروع ہوگئی تھی، اور یہ عدت عدت طلاق ہے ،اور عدت طلاق میں بلا ضرورت عورت گھر سے باہر نہیں جاسکتی بلکہ گھر میں رہ کر ہی عدت گزارنا لازم ہے کیونکہ عدت طلاق میں عورت کا نان و نفقہ (خرچہ)مرد شوہر پر لازم ہوتا ہے،لہذا مطلقہ عورت نان و نفقہ کے لیے گھر سے باہر نہیں جاسکتی، لیکن اگر اسکا خرچہ دینے والا کوئی نہ ہو مثلا شوہر خرچہ دینے سے انکار کردےتو عورت کام کاج کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے۔لیکن اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ پوری رات یا رات کا اکثر حصہ گھر سے باہر نہ گزارے۔ ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے :ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجهاترجمہ: اور مطلقہ کا معاملہ ایسانہیں ہے(کہ اسکو خرچہ کے لیے باہر جانے کی اجازت ہو) کیونکہ اسکا خرچہ اسکے شوہر کے مال میں سے لازم ہے۔( ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب النکاح باب العدۃ جلد 2ص279)
محقق علی الاطلاق علامہ ابن ھمام اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں :وَالْحَاصِلُ أَنَّ مَدَارَ الْحِلِّ كَوْنُ خُرُوجِهَا بِسَبَبِ قِيَامِ شُغْلِ الْمَعِيشَةِ فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهِ فَمَتَى انْقَضَتْ حَاجَتُهَا لَا يَحِلُّ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ صَرْفُ الزَّمَانِ خَارِجَ بَيْتِهَا:ترجمہ:اور خلاصہ یہ ہے کہ عورت کے گھر سے باہر نکلنے کا دار و مدار گھر کے اخراجات چلانے پر ہے لہذا یہ اپنی مقدار کے ساتھ ہی جائز ہوگا سو جب حاجت ختم ہوجائے تو اسکے بعد گھر سے نکلنا جائز نہ ہوگا۔ (فتح القدیر ،کتاب النکاح باب العدۃ جلد 4ص 345الشاملہ )
تو جب عدت میں ضرورت کی وجہ سے باہر جانا جائز ہے تو یہ کہنا کہ عدت مکروہ ہوگئی محض جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔لہذا عدت علی حالہ باقی رہی اور آپ پر عدت کا عرصہ گزارنا لازم تھا۔البتہ آپ کا عدت کے دوران اجنبی (دانیال صدیقی)کے ساتھ تعلق رکھنا ناجائز و حرام تھا جسکی توبہ آپ پر لازم ، لیکن اس سے عدت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا یعنی عدت مکروہ نہ ہوگی۔
2:۔ دوران عدت جو نکاح کیا گیا وہ باطل ہے یہ نکاح اصلا منعقد نہیں ہوا۔کیونکہ طلاق کے بعد مطلقہ عورت کا عدت گزارے بغیر کسی اور کے ساتھ نکاح کرنا ناجائز و حرام ہے جب تک عدت پوری نہ ہوجائے، اس کا نکاح عدت کے اندر کسی دوسرے کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔
شامی میں ہے:أَمَّا نِکَاحُ مَنْکُوحَۃِ الْغَیْرِ وَمُعْتَدَّتِہِ فَالدُّخُولُ فِیہِ لَا یُوجِبُ الْعِدَّۃَ إنْ عُلِمَ أَنَّہَا لِلْغَیْرِ لِأَنَّہُ لَمْ یَقُلْ أَحَدٌ بِجَوَازِہِ فَلَمْ یَنْعَقِدْ أَصْلًا:ترجمہ: کسی اور کی بیوی اور عدت والی سے صحبت سے عدت لازم نہیں ہوتی اگر معلوم ہو کہ یہ غیر کی بیوی یا عدت والی ہے کیونکہ کسی نے بھی اسکو جائز نہیں کہا لہذا نکاح بالکل منعقد نہیں ہوگا۔( شامی کتاب النکاح مطلب فی النکاح الفاسد ج 3ص132)
اسی طرح عالمگیری میں ہے: . لَا یَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ یَتَزَوَّجَ زَوْجَۃَ غَیْرِہِ وَکَذَلِکَ الْمُعْتَدَّۃُ، کَذَا فِی السِّرَاجِ الْوَہَّاجِترجمہ: مرد کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کی بیوی یا معتدہ سے نکاح کرے۔ (عالمگیری کتاب النکاح الفصل السادس المحرمات جلد 1ص280)
لہذا اگر عورت حاملہ نہیں ہے تو مکمل تین حیض عدت گذارنا ضروری ہے، اس کے بعد ہی نکاح ثانی ہوسکتا ہے، اور اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، یعنی طلاق کے بعد جب بچہ پیدا ہوجائے جب اس کی عدت پوری ہوگی، اس کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے۔
سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں :
عدت کے اندر نکاح مطلقًا ناجائز ہے،ہاں اگر شوہر کو معلوم نہ تھا کہ دوسرے کی عدت میں ہے نادانستگی میں نکاح کرلیا تو اولاد صحیح النسب سمجھی جائے گی اور دانستہ اس حرام خالص کامرتکب ہوا تو قنیہ و مجتبٰی و بحر الرائق وغیرہا کا مقتضی یہ ہے کہ اولاد ولدالزنا ہو۔(فتاویٰ رضویہ ،کتاب الطلاق جلد 13 ص369)
جس نے عدت میں جان بوجھ کر نکاح کیا یاجس جس نے جان بوجھ کر عدت میں نکاح کرایا یا نکاح پڑھایا یا نکاح میں شرکت کی تو سب کے سب گناہِ کبیرہ اور حرام کے مرتکب ہوں گے۔
3:۔ آپ نے جو کورٹ میرج کیا ،وہ درست ہے کیونکہ آپ اپنے پہلے شوہر کے طلاق کی عدت(تین حیض)گزار چکی ہیں ، اور اسی عدت کے دوران جو نکاح ہوا وہ باطل ہوا ،اسکی عدت بھی نہیں ہے ۔لہذا تیسرا نکاح اگر دوگواہوں کی موجود گی میں ہوا تو درست و حلال ہے۔
ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتينترجمہ:اور مسلمانوں کا نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں منعقد ہوگا دونوں گواہ آزاد ہوں، عاقل ہوں،بالغ ہوں،دونوں مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی،کتاب النکاح،جلد 2ص 2مکتبہ رحمانیہ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 رجب المرجب 1440 ھ/03 اپریل 2019 ء