سوال
میرے شوہر کا 12 دسمبر 2020 کو انتقال ہوا۔ میں اس وقت عدت میں ہوں جس گھر میں ہم رہتے ہیں وہ گھر کرائے کا ہے۔کرایہ ادا کرنا چونکہ مشکل ہےاس لئے میں دوسرے گھر میں جانا چاہتی ہوں جوکہ شوہر کا ہی ہے لیکن وہ کرائے پر ہے اور اس ماہ خالی ہوجائے گا۔ دونوں گھروں کا فاصلہ تقریبا 20 کلو میٹر ہے۔مجبوری کے سبب عدت کے دوران اس گھر سے دوسرے گھر میں جانا جائز ہے یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: زوجہ محمد ارشد:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اس مجبوری کے سبب دوسرے گھر میں منتقل ہونا جائز ہے۔کہ جس عورت کا شوہر انتقال کرجائے اس پر اسی گھر میں عدت گزارنا لازم ہے،جس گھر میں رہتی ہو،اس دوران عورت بلا ضرورت باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو تو اس صورت میں گھر سے باہر جاسکتی ہے۔
چناچہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت، اور ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔(بہار شریعت جلد دوم حصہ ہشتم ص245 مکتبۃ المدینہ ملخصآ)
تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:وَتَعْتَدَّانِ) أَيْ مُعْتَدَّةُ طَلَاقٍ وَمَوْتٍ (فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) وَلَا يَخْرُجَانِ مِنْهُ (إلَّا أَنْ تُخْرَجَ أَوْ يَتَهَدَّمَ الْمَنْزِلُ، أَوْ تَخَافُ) انْهِدَامَهُ، وَنَحْوَ ذَلِكَ مِنْ الضَّرُورَاتِ فَتَخْرُجُ لِأَقْرَبِ مَوْضِعٍ إلَيْهِ،ترجمہ: موت کی یا طلاق کی عدت گزارنے والی اسی گھر میں عدت گزاریں جس میں گزارنا واجب ہے اور اس گھر سے نہیں نکل سکتی الا یہ کہ اس کو اس گھر سے نکال دیا جائے ، یا گھر گرجائے اور گرنے کا خوف ہو ، اس طرح کی دیگر ضروریات کی وجہ سے نکل سکتی ہیں پس قریبی جگہ کی طرف جا سکتی ہیں ۔( تنویرالابصار مع الدر المختار،کتاب الطلاق ،فصل فی الحداد ،جلد 3ص 536)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23جمادی الاول 1442 ھ/09 جنوری 2021 ء