سوال
1:لڑکی شادی کے بعد تین ماہ تک لڑکے کے ساتھ رہی پھر بیمار ہوگئی اور اپنے والدین کے گھر آگئی ، اور تقریبا 4 ماہ ہوگئے گھر آئے ہوئے لڑکے لڑکی سے بے تعلق ہے نہ خرچہ دیتا ہے نہ کوئی رابطہ لڑکی نے اس سے طلاق کا مطالبہ کیا لیکن وہ راضی نہیں پھر لڑکی نے کہا کہ اگر مہر کی وجہ سے طلاق نہیں دے رہے تو مہر کے عوض خلع دے دو، اس پر بھی راضی نہیں ۔ اب اگر لڑکا طلاق دیتا ہے تو ا س لڑکی کی عدت کی ابتدا کب سے ہوگی یعنی یہ چار ماہ جو لڑکے سے جدا رہی اور دوران ماہواری بھی آئے یہ شمار ہونگے یا جب طلاق یا خلع ملے گی اس وقت سے عدت شمار ہوگی ؟
2:طلاق یا خلع کے بعد کون کون سے حقوق ہیں جو شوہر کو پورے کرنا ضروری ہیں ؟
3: جہیز کا تمام سامان سوائے چند چیزوں کے شوہر کے گھر پر ہے ۔ یوں ہی لڑکی کے ماں باپ کی طرف سے دیئے ہوئے 50 ہزار کی رقم ،کپڑے اور تحائف شوہر کے پاس ہیں ؟ طلا ق یا خلع کے بعد ان سب کا کیا حکم ہوگا؟
4: شادی پر شوہر کے دیئے ہوئے تما زیورات ،تحفے شوہر کی ماں کے پاس ہیں ؟ ان سب کا کیا حکم ہوگا؟
سائل: منہاج : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: عدت کی ابتدا طلاق یا خلع کے بعد سے ہوگی اس پہلے کچھ شمار نہیں ہوگی ۔علامہ سید محمد ابن عابدین شامی فرماتے ہیں : أَنَّ الْعِدَّةَ إنَّمَا تَجِبُ مِنْ وَقْتِ الطَّلَاقِ۔ ترجمہ: عدت طلاق کے وقت کے بعد سے واجب ہوتی ہے۔(ردالمحتار مع الدرالمختار ،کتاب الطلاق باب طلاق المریض جلد 3 ص 392، بیروت لبنان)اسی میں دوسرے مقام پر ہے:يَكُونُ ابْتِدَاؤُهَا مِنْ وَقْتِ الطَّلَاقِ۔ترجمہ: عدت کی ابتداء طلاق کے وقت سے ہوگی۔(ایضا جلد 3 ص 521)
2:عدت ختم ہونے تک شوہر پر عورت کو نان و نفقہ یعنی خرچہ اور رہائش دینا لازم ہے،چناچہ علامہ ابوالفضل عبداللہ بن محمودبن مودود موصلی حنفی متوفى: 683ھ لکھتے ہیں : وَلِلْمُطَلَّقَةِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى فِي عِدَّتِهَا بَائِنًا كَانَ أَوْ رَجْعِيًّا۔ترجمہ: شوہر پر طلاق یافتہ کے لئے اسکی عدت میں نفقہ اور سکنٰی ہے خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن ہو۔(الاختیار لتعلیل المختار ،کتاب الطلاق ،ج 4ص 8)
3: جہیز خاص عورت کی ملکیت ہوتا ہے ،طلاق یا خلع کے بعد وہ سارا سامان عورت کا ہے طلاق کے بعد وہ سارا سامان شوہر سے لے لے گی۔
یوں ہی جو تحائف ماں باپ کی طرف سے ملے سب کے سب خاص اسکی ملکیت ہیں۔ سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا اور جہیز میں اُ س کو کچھ زیور یااسباب یا جائیداد دی تواُس مال کا مالک اس لڑکی کے حینِ حیات میں اس کا شوہر ہوسکتا ہے یا وہ لڑکی ہی مالک ہے۔ بینوا توجروا
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں: وہ مال تمام وکمال خاص مِلک عورت ہے دوسرے کا اس میں کُچھ حق نہیں : فی ردالمحتار احد یعلم ان الجہاز ملک المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ولایختص بشئی منہ۔ ترجمہ: ردالمحتار میں ہے ہر شخص جانتا ہے کہہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔ واﷲتعالٰی اعلم(فتاوٰی رضویہ،کتاب النکاح باب الجہاز، جلد 12 ص 201،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور۔)
4: جو زیورات یا تحائف شوہر کی جانب سے ملے اس میں وہاں کے عرف اور رواج کا اعتبار ہے ، اگر وہاں کے عرف میں عورت کو مالک سمجھا جاتا ہے تو عورت انکی مالک ہے شوہر اس سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر وہاں کے عرف و رواج میں عورت کو مالک نہیں سمجھا جاتا تو جس نے عورت کو دیا وہ اسی کی ملک ہوگا ، جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : جو کُچھ زیور، کپڑا، برتن وغیرہ عورت کو جہیز میں ملاتھا اس کی مالک خاص عورت ہے اور جو کچھ چڑھاوا شوہر کے یہاں سے گیا تھا اس میں رواج کو دیکھا جائے گا، اگر رواج یہ ہوکہ عورت ہی اس کی مالک سمجھی جاتی ہے تو وُہ بھی عورت کی مِلک ہوگیا، اور اگر عورت مالک نہیں سمجھی جاتی ہے تو وہ جس نے چڑھایا تھا اُسی کی مِلک ہے خواہ والدِ شوہر ہو یا والدہ یا خود شوہر۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب النکاح ،باب الجہاز، جلد 12 ص 256،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور۔)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 صفر المظفر 1441 ھ/01 اکتوبر 2019 ء