عدت کے دوران عورت کا گھر سے نکلنا
    تاریخ: 24 فروری، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 866

    سوال

    حضرت صاحب میرا نام عنبر ہے ۔ میں شادی شدہ ہوں سوا تین سال پہلےمیرے شوہر نے چھپ کر دوسری شادی کرلی تھی تو اس وقت مجھے پتہ چلا تو اسی بات پر لڑائی ہوگئی اور میرے شوہر نے مجھے یہ بول کر میری امی کے گھر مجھےچھوڑ دیا تھا کہ تم اپنی امی کے گھر جا ؤ تمہیں کل طلاق کے پیپر مل جائیں گے،لیکن طلاق نہیں دی تھی ،او ر نہ ہی اس دن کے بعد طلاق کے پیپر بھجوائے اور اس سوا تین سال کے دوران شوہرسے کوئی تعلقات نہیں رہے نہ میں نے اسکی شکل دیکھی اور نہ اس نے ۔ پر ابھی 6 دن پہلے اس نے مجھے طلاق کے پیپر ایگریمنٹ والے بھیجے ہیں جس میں تین طلاقیں لکھی ہیں اور اسکے سائن بھی ہیں ۔ مجھے یہ پوچھنا تھا کہ

    (1) ایسے حالات میں مجھے عدت گزارنی ہوگی یا نہیں ؟ اگر عدت گزارنی ہوگی تو میری عدت کیا ہے؟

    (2) میں اپنے گھر کی کفیل ہوں سارے کام کاج میں ہی کرتی ہوں،سلائی کا کام ہے تو بازار سے دھاگہ وغیرہ اور دوسرا سامان لانا پڑتا ہے تو کیا میں یہ سب کرسکتی ہوں ؟

    (3) میرے ایک بیٹا ہے چار سال کا ہے اسکے اسکول وغیرہ کے لیے بھاگ دوڑ بھی مجھے ہی کرنی پڑتی ہے کیا اس صورت میں بھی عدت ضروری ہے اگر ہاں تو اسکا کیا حل ہے کیونکہ مجھے اسکول کے ٹیچرز اور وین کا ڈرائیور وغیرہ سب سے مجھے ہی بات کرنی پڑتی ہے تو کیا میں عدت کے دوران نا محرم سے بات کرسکتی ہوں ؟

    سائلہ: عنبر بمعرفت فیضان صاحب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (1) اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو آپ کو تین طلاقیں واقع ہوگئیں ، اور اب آپ پر عدت گزارنا لازم ہے ، کیونکہ شوہر سے جدائی ہوئے خواہ کتناہی عرصہ کیوں نہ گزر گیا ہو طلاق کے بعد عدت لازم و ضروری ہے کیونکہ عدت صرف حمل معلوم کرنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ وہ نکاح ختم ہونے کا سوگ بھی ہے۔اور عدت کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ہے ، اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےاور اگر عورت حاملہ ہوتو تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔

    قال اللہ تعالٰی : وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء : ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرہ 228)

    اور دوسری جگہ یوں ارشاد ہوا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ:ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4)

    (2) یاد رہے کہ عدت دو طرح کی ہے ۔ایک عدت وفات اور دوسری عدت طلاق ۔عدت طلاق میں عورت کا نان و نفقہ (خرچہ) مرد شوہر پر لازم ہوتا ہے،لہذا مطلقہ عورت نان و نفقہ کے لیے گھر سے باہر نہیں جاسکتی، لیکن اگر اسکا خرچہ دینے والا کوئی نہ ہو مثلا شوہر خرچہ دینے سے انکار کردےتو عورت کام کاج کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ جبکہ عدت وفات میں عورت کا نان و نفقہ کسی کے ذمے نہیں ہے بلکہ عورت اپنا انتظام خود کرے گی اس کے لیے اسے باہر جانے کی ضرورت ہو تو شریعت میں اسکی اجازت ہے ، کہ وہ دن میں اور رات کا کچھ حصہ گھر سے باہر رہ کے اپنے لیے نان و نفقہ کا انتظام کرے لیکن ضروری ہے کہ پوری رات یا رات کا اکثر حصہ گھر سے باہر نہ گزارے۔اور اگر وہ خود گھر میں رہ کر یا اسکا کوئی رشتہ دار اسکے نان و نفقہ کا انتظام کردے تویہ بھی مطلقہ کی مثل ہوجائے گی یعنی اب ا س عورت کا بھی گھر سے باہر جانا اسی طرح منع ہوگا جیساکہ مطلقہ کا گھر سے نکلنا منع ہے۔

    کئی کتب فقہ میں اس بات کی صراحت موجود ہے ،چنانچہ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے :(وَمُعْتَدَّةُ مَوْتٍ تَخْرُجُ فِي الْجَدِيدَيْنِ وَتَبِيتُ) أَكْثَرَ اللَّيْلِ (فِي مَنْزِلِهَا) لِأَنَّ نَفَقَتَهَا عَلَيْهَا فَتَحْتَاجُ لِلْخُرُوجِ، حَتَّى لَوْ كَانَ عِنْدَهَا كِفَايَتُهَا صَارَتْ كَالْمُطَلَّقَةِ فَلَا يَحِلُّ لَهَا الْخُرُوجُ فَتْحٌ.ترجمہ: اور معتدۃ الموت(شوہر کی وفات کی عدت گزارنے والی عورت) دن اور رات میں گھر سے باہر جاسکتی ہے لیکن رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں گزارے۔کیونکہ اسکا خرچہ (خود) اسی پر ہے،جس کے لیے وہ باہر نکلنے کی محتاج ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر اسکے پاس بقدر کفایت(مال )موجود ہو تو یہ بھی مطلقہ(طلاق کی عدت گزارنے والی عورت) کی طرح ہے لہذا اب اس کے لیے بھی باہر جانا جائز نہ ہوگا ۔اسی طرح فتح القدیر میں ہے۔( تنویرالابصار مع الدرالمختارکتاب النکاح فصل فی الحداد جلد3ص 536 الشاملہ)

    چناچہ محقق علی الاطلاق علامہ ابن ھمام اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں :وَالْحَاصِلُ أَنَّ مَدَارَ الْحِلِّ كَوْنُ خُرُوجِهَا بِسَبَبِ قِيَامِ شُغْلِ الْمَعِيشَةِ فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهِ فَمَتَى انْقَضَتْ حَاجَتُهَا لَا يَحِلُّ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ صَرْفُ الزَّمَانِ خَارِجَ بَيْتِهَا:ترجمہ:اور خلاصہ یہ ہے کہ عورت کے گھر سے باہر نکلنے کا دار و مدار گھر کے اخراجات چلانے پر ہے لہذا یہ اپنی مقدار کے ساتھ ہی جائز ہوگا سو جب حاجت ختم ہوجائے تو اسکے بعد گھر سے نکلنا جائز نہ ہوگا۔ (فتح القدیر ،کتاب النکاح باب العدۃ جلد 4ص 345الشاملہ )

    پھر ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے :ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجها حتى لو اختلعت على نفقة عدتها قيل إنها تخرج نهارا وقيل لا تخرج لأنها أسقطت حقها فلا يبطل به حق عليها.ترجمہ: اور مطلقہ کا معاملہ ایسانہیں ہے(کہ اسکو خرچہ کے لیے باہر جانے کی اجازت ہو) کیونکہ اسکا خرچہ اسکے شوہر کے مال میں سے لازم ہے حتیٰ کہ اگر اس نے اپنی عدت کے نفقہ کے عوض خلع لے لیا تو کہا گیا ہے کہ دن میں (تلاش معاش) کو نکلے اور کہا گیا کہ نہ نکلے کیونکہ اس نے اپنا حق از خود ساقط کیا ہے ، لہذااس کی وجہ سے وہ حق باطل نہ ہوگا جو اس پر لازم ہے۔( ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب النکاح باب العدۃ جلد 2ص279)

    فقہاء کی ان عبارات کے جو بات ہمیں حاصل ہوئی وہ یہ کہ عورت خواہ عدت وفات میں ہو یا عدت طلاق میں اسکو باہر نکلنے کی اجازت و عدم اجازت کی علت خرچہ ہے کہ اگر خرچہ خود کرسکتی ہے تو خواہ معتدۃ الموت ہی کیوں نہ ہو اسکو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح اگر عورت طلاق کی عدت میں ہے اور اس کا شوہر اسکا خرچہ نہ دینے سے منکر ہو یا اس نے اپنے خرچے کے عوض خلع لے لی تو چونکہ خرچہ والی علت یہاں بھی موجود ہے لہذا اس کو بھی اپنے خرچہ و غیرہ کے لیے باہر جانے کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ جو علت معتدۃالموت میں تھی وہی اس میں بھی موجود ہے ، بالخصوص جبکہ یہی بعض فقہاء کامختار ہے جیساکہ ہدایہ کے حوالے سے گزرا ۔

    اسی طرح الشرح الکبیر للمغنی میں ہے:للمعتدۃ الخروج فی حوائجہانہارا سواء کانت مطلقۃ او متوفی عنھا ترجمہ: عدت گزارنے والی عورت کو حاجت کے لیے دن میں نکلنا جائز ہے خواہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی۔( الشرح الکبیر للمغنی جلد 9ص 176)

    مزید یہ کہ محقق علی الاطلاق علامہ ابن ھمام بھی اسی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں :وَالْحَقُّ أَنَّ عَلَى الْمُفْتِي أَنْ يَنْظُرَ فِي خُصُوصِ الْوَقَائِعِ، فَإِنْ عَلِمَ فِي وَاقِعَةٍ عَجْزَ هَذِهِ الْمُخْتَلِعَةِ عَنْ الْمَعِيشَةِ إنْ لَمْ تَخْرُجْ أَفْتَاهَا بِالْحِلِّ وَإِنْ عَلِمَ قُدْرَتَهَا أَفْتَاهَا بِالْحُرْمَةِ.ترجمہ:اور صحیح ترین بات یہ ہے کہ مفتی پر لازم ہے کہ اس طرح کے واقعات کا بنظر عمیق مطالعہ کرے ، تو اگراسکو کسی ایسے واقعے کا علم ہو کہ یہ مطلقہ،مختلعہ(جس نے اپنی عدت کے نفقہ کے عوض خلع لے لی)اگر گھر سے باہر نہ نکلے گی تونان و نفقہ سے عاجز آجائے گی تو باہر نکلنے کی اجازت کا فتویٰ دے، اور اگر علم ہوکہ نان و نفقہ پر قدرت ہے تو باہر نکلنے کے حرام ہونے کا فتویٰ دے۔

    علامہ البحر اس مسئلے پر بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں :فَظَاهِرُهُ أَنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ مُحْتَاجَةً إلَى النَّفَقَةِ لَا يُبَاحُ لَهَا الْخُرُوجُ نَهَارًا كَمَا فَهِمَهُ الْمُحَقِّقُ.ترجمہ: تو ظاہر یہ ہے کہ اگر عورت نفقہ کی محتاج نہ ہو تو اس کے لیے دن میں نکلنا جائز نہ ہوگا جیساکہ محقق (ابن ھمام ) نے سمجھا۔

    (3)نا محرم سے بقدر ضرورت بات کرنے میں حرج نہیں ہے ، بوقت ضرورت پردہ کی آڑ میں ان سے بات کی جائے تو اس کی گنجائش ہے، محض بلا ضرورت،بلاواسطہ، بلا حجاب بات کرنے کی اجازت نہیں،لیکن اسکول کی کسی تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں کہ یہ ضرورت شرعی نہیں ہے جیسا کہ گزرا ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 صفر المظفر 1440 ھ/29اکتوبر 2018 ء